ارتھ آبزرویشن مشنز کے لیے ISRO اور یورپی خلائی ایجنسی کے درمیان تعاون کا معاہدہ

ارتھ آبزرویشن مشنز کے لیے ISRO اور یورپی خلائی ایجنسی کے درمیان تعاون کا معاہدہ

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ (ISRO) اور یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے ارتھ آبزرویشن (Earth Observation) مشنز کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ طور پر کیلیبریشن، ویلیڈیشن سرگرمیوں اور سائنسی مطالعات پر کام کریں گے، جس کا مقصد زمین سے متعلق ڈیٹا اور تحقیق کی درستگی اور قابلِ اعتمادیت کو بہتر بنانا ہے۔

یہ معاہدہ 4 مارچ کو ورچوئل طریقے سے دستخط کیا گیا۔ اس موقع پر ISRO کے سائنٹیفک سیکریٹری ایم۔ گنیش پِلّائی اور ESA کی ڈائریکٹر آف ارتھ آبزرویشن سائمونیٹا چیلی شریک ہوئیں۔ اس تعاون کا مقصد ارتھ سائنس، ماحولیاتی نگرانی اور خلائی بنیادوں پر ہونے والی تحقیق کے شعبوں میں دونوں اداروں کے درمیان معلومات اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو مضبوط بنانا ہے۔

ISRO اور ESA کے درمیان طویل المدتی تعاون

بھارت اور یورپ کی خلائی ایجنسیوں کے درمیان تعاون نیا نہیں ہے۔ دونوں اداروں نے پہلی بار 1978 میں شراکت داری کا آغاز کیا تھا، جسے بعد میں 2002 میں دوبارہ تجدید کیا گیا۔ نیا معاہدہ آنے والے خلائی مشنز سے متعلق ڈیٹا شیئرنگ اور سائنسی تحقیق کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

ESA کے FLEX مشن کے لیے تعاون کی اہمیت

یہ تعاون خاص طور پر ESA کے آئندہ FLEX (Fluorescence Explorer) مشن کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مشن کا مقصد زمین پر موجود نباتات کی جانب سے خارج ہونے والے فلوروسینس سگنلز کی پیمائش کرنا ہے۔ اس ڈیٹا کے ذریعے سائنسدان یہ تجزیہ کر سکیں گے کہ پودے فوٹو سنتھیسس (Photosynthesis) کا عمل کس حد تک مؤثر طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔

اس معلومات کے ذریعے نباتات کی صحت کا اندازہ لگانے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے، زراعت اور ماحولیاتی نگرانی کو بہتر بنانے اور کاربن سائیکل (Carbon Cycle) سے متعلق تحقیق کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تکنیکی تعاون کا فریم ورک

اس شراکت داری کے تحت ISRO اور ESA متعدد تکنیکی شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ اس میں سیٹلائٹ ڈیٹا کی کیلیبریشن اور ویلیڈیشن، ارتھ آبزرویشن سے متعلق مشترکہ سائنسی تحقیق اور گراؤنڈ اسٹیشنز اور ٹریکنگ نیٹ ورکس کے ذریعے تعاون شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کے تجزیے اور مشن سپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

ان اقدامات کا مقصد خلائی بنیادوں پر زمین کے مشاہدے کے نظاموں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی درستگی اور قابلِ اعتمادیت کو بہتر بنانا ہے۔

ESA اس سے پہلے بھی بھارت کے اہم مشنز جیسے چندریان اور آدتیہ L1 کو گراؤنڈ اسٹیشن اور ٹریکنگ سپورٹ فراہم کر چکی ہے۔ دوسری جانب ISRO نے بھی اپنی ڈیپ اسپیس اینٹینا سہولت کے ذریعے متعدد بین الاقوامی مشنز کو تکنیکی تعاون فراہم کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مستقبل کے ارتھ آبزرویشن مشنز کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ اور زرعی تحقیق سے متعلق سائنسی مطالعات کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت اور یورپ کے درمیان یہ تعاون خلائی سائنس میں بڑھتے ہوئے عالمی اشتراک کی عکاسی کرتا ہے۔

Leave a comment