AI اور بایولوجرز کے ذریعے جانوروں کی مواصلات سمجھنے کی کوشش، 2030 تک کامیابی کی امید

سائنس دان AI اور چھوٹے الیکٹرانک بایولوجرز کے ذریعے جانوروں کی آوازوں اور مواصلات سے متعلق بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کو 2030 تک جانوروں کی مواصلات سمجھنے کی سمت میں کامیابی کی امید ہے، جبکہ محققین نے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال

AI اور بایولوجرز کے ذریعے جانوروں کی مواصلات کو سمجھنے کی کوشش

انسانوں اور جانوروں کے درمیان گفتگو کا امکان اب صرف سائنس فکشن تک محدود نہیں رہا۔ AI اور بایولوجرز کی مدد سے سائنس دان جانوروں کی آوازوں کے بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2030 تک AI ایسے پیٹرنز کی شناخت کر سکتا ہے، جن کے ذریعے جانوروں کی مواصلات کو سمجھنے کی سمت میں بڑی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

جانوروں کی زبان سمجھنے کی کوشش صدیوں پرانی

انسان طویل عرصے سے جانوروں کے رویے اور ان کی آوازوں کے معنی سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم، اب تک کسی دوسری نسل کی زبان کو اسی طرح سمجھنا ممکن نہیں ہوا، جس طرح انسان ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ نئی AI ٹیکنالوجی اس سمت میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، انسانوں کی جانب سے جانوروں سے رابطے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ محققین کو تقریباً 12,000 سال پرانی ہڈیوں سے بنی بانسریاں ملی ہیں، جن کے استعمال کو پرندوں، خاص طور پر بازوں سے رابطے کی کوشش سے جوڑا جا سکتا ہے۔

بعد کے دور میں سائنس دانوں نے بھی مختلف نسلوں کی مواصلات پر تحقیق کی۔ حیوانی نفسیات کی ماہر آئیرین پیپر برگ نے افریقی گرے طوطے الیکس پر تقریباً 30 سال تک تحقیق کی۔ اسی طرح ماہر بشریات جین گڈال نے چمپینزیوں کے رویے اور ان کی آوازوں کو سمجھنے کے اپنے تجربات بھی شیئر کیے ہیں۔

AI اور بایولوجرز سے بڑا ڈیٹا سیٹ تیار کرنے کی کوشش

اب اس تحقیق میں نئی ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے۔ سائنس دان چھوٹے الیکٹرانک ریکارڈنگ ٹیگز، یعنی بایولوجرز، استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں مختلف نسلوں کے جانوروں کے جسم پر لگایا جا سکتا ہے، تاکہ ان کی آوازوں اور مواصلات سے متعلق ڈیٹا مسلسل ریکارڈ کیا جا سکے۔

وہیل مچھلیوں کی آوازوں سے لے کر بھیڑیوں کے غرانے تک، اس طرح کی ریکارڈنگز سے بڑے ڈیٹا سیٹس تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد AI ان ڈیٹا کا تجزیہ کرکے بار بار دہرائے جانے والے پیٹرنز تلاش کر سکتا ہے۔

یہ عمل سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کسی مخصوص آواز یا سگنل کا تعلق کس رویے یا صورتحال سے ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ AI یقینی طور پر انسانوں کی طرح جانوروں کی مکمل زبان کا ترجمہ کر سکے گا۔ یہ اب بھی تحقیق اور تکنیکی ترقی کا موضوع ہے۔

2030 تک کامیابی کی امید، لیکن غلط استعمال کا خطرہ

اس شعبے کے اہم حامیوں میں سے ایک پرائیویٹ ایکویٹی ارب پتی جیریمی کالر کا ماننا ہے کہ AI کی تیز رفتار ترقی کے باعث 2030 تک جانوروں کی مواصلات کو سمجھنے کی سمت میں بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والے محققین کا ماننا ہے کہ جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے سے ان کے ساتھ انسانوں کے رویے میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔

لیکن اس ٹیکنالوجی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ جانوروں کی آوازوں اور رویے کو سمجھنے کی صلاحیت کا غلط استعمال شکار کرنے یا انہیں کنٹرول کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں ٹیکنالوجی کے جانوروں کے خلاف استعمال کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔

بیسویں صدی میں وہیل کا شکار کرنے والوں کی جانب سے سونار ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ آج بھی شکاری پرندوں کی آوازوں کی ریکارڈنگ یا ان کی آوازوں کی نقل کا استعمال انہیں جال میں پھنسانے کے لیے کرتے ہیں۔

AI پر مبنی animal translation پر کام کرنے والے محققین بھی اس خطرے کو سنجیدہ سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کوّوں کی مواصلات سے متعلق معلومات کا غلط استعمال کرکے انہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس لیے جانوروں کی زبان سمجھنے کی ٹیکنالوجی تیار کرنا ایک سائنسی موقع ہے، لیکن اس کا ذمہ دارانہ استعمال ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔

Leave a comment