ایمس دیوگھر میں پہلی بار اویک کرینیوٹومی کامیاب

ایمس دیوگھر میں پہلی بار اویک کرینیوٹومی کے ذریعے دماغی ٹیومر کی پیچیدہ سرجری کامیابی سے کی گئی۔ سرجری کے دوران مریض کو بیدار رکھتے ہوئے نیورو مانیٹرنگ کے ذریعے اہم اعصابی افعال کی نگرانی کی گئی۔
ایمس دیوگھر میں پہلی بار اویک کرینیوٹومی کامیاب
Photo Credit / Attribution: Google

جھارکھنڈ کے دیوگھر میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس دیوگھر) میں پہلی بار ‘اویک کرینیوٹومی’ نامی پیچیدہ دماغی سرجری کامیابی سے کی گئی۔ اس سرجری کے اہم مرحلے کے دوران مریض کو مکمل طور پر ہوش میں رکھا گیا۔

ایمس دیوگھر میں پہلی اویک کرینیوٹومی

‘اویک کرینیوٹومی’ میں دماغ کے ان حصوں کے قریب سرجری کی جاتی ہے جہاں جسم کی اہم سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے والے حصے موجود ہو سکتے ہیں۔ مریض کے ہوش میں رہنے سے ڈاکٹر سرجری کے دوران اس کی اعصابی صلاحیتوں کی مسلسل نگرانی کر سکتے ہیں۔

عام طور پر دماغ کی سرجری کے دوران مریض کو اینستھیزیا دے کر بے ہوش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں سرجری کے اہم مرحلے کے دوران مریض کو بیدار رکھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف ٹیومر کو نکالنا نہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ بولنے، سمجھنے، جسم کی حرکات اور دیگر ضروری اعصابی کاموں سے متعلق دماغ کے اہم حصوں کو نقصان نہ پہنچے۔

نیورو مانیٹرنگ کے ذریعے ٹیومر نکالنے کا عمل

ایمس دیوگھر میں کی گئی سرجری کے دوران دماغی ٹیومر کو نکالنے کے لیے نیورو مانیٹرنگ کا استعمال کیا گیا۔ اس تکنیک کا مقصد سرجری کے دوران اہم اعصابی کاموں کی نگرانی کرتے ہوئے ٹیومر کو محفوظ طریقے سے نکالنا ہے۔

مریض کی حالت اور اعصابی کاموں پر مسلسل نظر رکھنے سے حساس دماغی حصوں کے قریب کام کرنے والی سرجیکل ٹیم کو اضافی معلومات ملتی ہیں۔ مریض سے بات چیت کرانے یا اسے مخصوص کام کرنے کے لیے کہنے سے ملنے والے ردعمل بھی سرجری کے دوران اعصابی کاموں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے میں مدد کرتے ہیں۔

اینستھیزیا اور مقامی درد پر قابو پانے کے انتظامات

اویک کرینیوٹومی کا مطلب یہ نہیں کہ مریض کو کسی بھی قسم کے درد پر قابو پانے کے انتظام کے بغیر سرجری سے گزارا جاتا ہے۔ سرجری کے دوران اینستھیزیا اور مقامی درد پر قابو پانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ سر کو مستحکم رکھنے کے لیے بھی خصوصی انتظام کیا جاتا ہے اور سرجری کے مختلف مراحل کے مطابق اینستھیزیا کی حکمت عملی میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

جب دماغی افعال کی نگرانی ضروری ہوتی ہے تو مریض کو بیدار حالت میں لا کر ڈاکٹر اس سے بات کر سکتے ہیں یا اسے مقررہ کام کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعصابی ردعمل کی بنیاد پر سرجری کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

دماغ کے اہم حصوں کی نگرانی

دماغی ٹیومر کی سرجری میں چیلنج صرف ٹیومر تک پہنچنے تک محدود نہیں ہوتا۔ بعض معاملات میں ٹیومر دماغ کے ان اہم اعصابی حصوں کے قریب موجود ہو سکتا ہے جو بولنے، سمجھنے، چلنے یا جسم کی دیگر حرکات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر سرجری کے دوران ان حصوں کو نقصان پہنچے تو مریض کو بولنے، سمجھنے، چلنے یا جسم کے کسی حصے کی حرکت سے متعلق مسائل ہو سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے بعض منتخب معاملات میں اویک کرینیوٹومی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مریض کے بیدار رہنے کے دوران ملنے والے حقیقی وقت کے ردعمل سرجیکل ٹیم کو یہ نگرانی کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ سرجری کے دوران اہم اعصابی افعال متاثر تو نہیں ہو رہے۔ اس طرح کے عمل میں نیورو سرجیکل ٹیم، اینستھیزیا کے ماہرین اور دیگر طبی عملے کے درمیان تال میل ضروری ہوتا ہے۔

دیوگھر میں نیورو سرجری خدمات کی توسیع

ایمس دیوگھر میں کی گئی یہ ادارے کی پہلی اویک کرینیوٹومی ہے۔ اس عمل کی کامیابی کے ساتھ ادارے میں پیچیدہ نیورو سرجیکل طریقہ کار انجام دینے کی صلاحیت کے فروغ کا ذکر کیا گیا ہے۔

ایمس دیوگھر، دیوگھر کے دیوی پور علاقے میں واقع ہے۔ وہاں نیورو سرجری شعبے کے ماہرین کی ٹیم موجود ہے۔ ادارے کی نیورو سرجری خدمات سے متعلق سرکاری معلومات اس کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔

دیوگھر میں اس طرح کی پیچیدہ نیورو سرجری سہولت دستیاب ہونے سے آس پاس کے علاقوں کے مریضوں کو مقامی سطح پر ماہر علاج ملنے کا امکان بڑھتا ہے۔ بعض معاملات میں پیچیدہ نیورو سرجری کے لیے مریضوں کو دوسرے بڑے شہروں میں ریفر کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

اویک کرینیوٹومی ہر مریض کے لیے موزوں نہیں

اویک کرینیوٹومی ہر دماغی ٹیومر کے مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ اس طریقہ کار کا استعمال مریض کی بیماری، ٹیومر کی جگہ، اس کے آس پاس موجود دماغ کے اہم حصوں اور دیگر طبی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ کسی بھی مریض کے لیے اس طرح کی سرجری کرنے کا فیصلہ ماہر ڈاکٹر کرتے ہیں۔

ایمس دیوگھر میں پہلی بار اس تکنیک کے کامیاب استعمال سے ادارے کی نیورو سرجری خدمات میں ایک نئی صلاحیت شامل ہوئی ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، ماہر ٹیم اور مسلسل اعصابی نگرانی کا استعمال کرتے ہوئے دماغی ٹیومر کے لیے یہ سرجری کی گئی۔

Leave a comment