Air India کے سی ای او کیمپبل ولسن مستعفی، مالی خسارے اور ریگولیٹری نگرانی کے درمیان قیادت میں تبدیلی

Air India کے سی ای او کیمپبل ولسن نے جولائی 2027 کی مدت سے قبل استعفیٰ دے دیا، جب ایئرلائن مالی خسارے، ریگولیٹری نگرانی اور 2025 کے مہلک طیارہ حادثے کے بعد آپریشنل چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

ٹاتا گروپ کی ملکیت والی Air India میں قیادت میں تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر Campbell Wilson نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی مدتِ ملازمت جولائی 2027 تک مقرر تھی۔

یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایئرلائن کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، Air India مسلسل مالی خسارے کا شکار ہے، جبکہ گزشتہ سال جون میں ہونے والے ایک مہلک طیارہ حادثے نے کمپنی کی ساکھ اور آپریشنز پر سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

اس حادثے میں مجموعی طور پر 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 241 مسافر اور عملے کے ارکان جبکہ زمین پر موجود 19 دیگر افراد شامل تھے۔ اس کے بعد سے ایئرلائن کو سخت ریگولیٹری جانچ اور حفاظتی معیارات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی نگرانی کا سامنا ہے۔

Campbell Wilson کا استعفیٰ Air India کے لیے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی مسلسل مالی خسارے کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، جون 2025 میں ہونے والے اس حادثے نے کمپنی کی ساکھ اور آپریشنز پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ اس واقعے کے بعد ریگولیٹری اداروں نے ایئرلائن پر کڑی نگرانی برقرار رکھی ہے، جس سے آپریشنز پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔

جب Tata Group نے Air India کا حصول کیا تھا تو کمپنی کی بحالی کی ذمہ داری Campbell Wilson کو سونپی گئی تھی۔ وہ 2022 میں Singapore Airlines سے Air India میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی قیادت میں ایئرلائن نے فلیٹ کی جدید کاری، سروس میں بہتری اور بین الاقوامی توسیع جیسے اقدامات کیے، تاہم متوقع رفتار سے بہتری حاصل نہیں ہو سکی۔ اب ان کے استعفے سے ٹرن اراؤنڈ حکمت عملی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، Air India کا بورڈ نئے CEO کی تلاش کو تیز کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ تقرری کمپنی کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ نئی قیادت ہی بحالی اور منافع بخش ہونے کی سمت کا تعین کرے گی۔ ذرائع کے مطابق، Wilson چھ ماہ کے نوٹس پیریڈ پر ہیں اور نئے CEO کی تقرری تک کمپنی کے ساتھ منسلک رہیں گے، جس سے عبوری دور میں آپریشنز کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

Air India اس وقت کئی اہم چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ مسلسل خسارے نے کمپنی کی بیلنس شیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ نئے طیاروں کی فراہمی میں تاخیر نے آپریشنل صلاحیت اور توسیعی منصوبوں پر اثر ڈالا ہے۔ اس کے علاوہ، حفاظتی معیارات میں کوتاہی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، کچھ طیارے بغیر درست ایئر ورتھینس سرٹیفکیٹ کے چلائے گئے اور ہنگامی آلات کی مناسب جانچ کے بغیر پروازیں چلائی گئیں۔ ان معاملات پر ریگولیٹرز نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

اس کے ساتھ، Tata Group کی جانب سے شروع کیا گیا بحالی پروگرام متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ کمپنی کو اپنی برانڈ ساکھ بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ آپریشنل کارکردگی اور حفاظتی معیارات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

Leave a comment