گجرات اور راجستھان میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے 86 سالہ آسارام کو ایک بار پھر راحت ملی ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ نے ان کی عبوری ضمانت میں 29 اگست تک توسیع کر دی ہے۔
Rajasthan: ریپ کے مجرم آسارام کو ایک بار پھر عدالت سے راحت ملی ہے۔ گجرات اور راجستھان میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے 86 سالہ آسارام کی عبوری ضمانت میں راجستھان ہائی کورٹ نے 29 اگست تک توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ کورٹ نے ان کی صحت کی گہری جانچ کے لیے احمد آباد میں ماہر ڈاکٹروں کا ایک پینل تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
میڈیکل بنیاد پر ملی راحت
آسارام کے وکیل نشانت بوڑا نے کورٹ میں ان کی تازہ میڈیکل رپورٹ پیش کی، جس میں ان کی سنگین صحت کی حالت کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس سے قبل گجرات ہائی کورٹ نے بھی اسی میڈیکل بنیاد پر ان کی عبوری ضمانت کی مدت 29 اگست تک بڑھائی تھی۔ راجستھان ہائی کورٹ نے بھی ان کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے صحت کے اسباب کو ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا۔
آسارام فی الحال اندور کے جوپٹر ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو تشویشناک بتایا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کے حکم میں ذکر کیا گیا تھا کہ ان کے خون میں 'ٹروپونین لیول' غیر معمولی طور پر بلند پایا گیا ہے، جو دل سے متعلق سنگین مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت انتہائی نازک ہے، اس لیے ان کی ضمانت کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

تنازعات میں رہا آسارام کا معاملہ
راجستھان ہائی کورٹ کے جج دنیش مہتا اور ونیت کمار ماتھر نے اس معاملے میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ آسارام کی صحت کی جانچ کے لیے احمد آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دیا جائے گا۔ اس پینل میں دو امراض قلب کے ماہر (کارڈیالوجسٹ) سمیت دیگر ڈاکٹر شامل ہوں گے۔ یہ ٹیم ان کے دل سے متعلق اور دیگر بیماریوں کی مکمل جانچ پڑتال کرے گی اور رپورٹ کورٹ کو سونپے گی۔
آسارام کا نام تنازعات سے ہمیشہ جڑا رہا ہے۔ ان پر سنگین الزامات تھے جن میں عصمت دری شامل ہے، جس کے لیے انہیں گجرات اور راجستھان کی عدالتوں نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالتوں میں بار بار میڈیکل بنیاد پر ان کی ضمانت کی مانگ اور اس پر سماعت سماجی اور سیاسی بحث کا موضوع بنی رہی ہے۔
ان کی مسلسل بگڑتی صحت کی حالت کو دیکھتے ہوئے عدالتیں ہمدردی کے ساتھ فیصلے لے رہی ہیں، لیکن یہ معاملہ معاشرے میں جذباتی ردعمل اور بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کئی لوگ اس فیصلے کو انصاف کے خلاف مانتے ہیں، تو کچھ ان کی صحت کو دیکھتے ہوئے انسانی نقطہ نظر سے اسے صحیح ٹھہراتے ہیں۔




