بھارتی فلم اور موسیقی کی دنیا کی نمایاں آوازوں میں سے ایک آشا بھوسلے کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اہل خانہ اور اسپتال ذرائع کے مطابق، انہوں نے اتوار کی دوپہر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں آخری سانس لی۔ ہفتہ کی شام طبیعت بگڑنے پر انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ابتدائی رپورٹس میں دل کا دورہ اور پھیپھڑوں سے متعلق پیچیدگیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
اہل خانہ کے مطابق، پیر کی صبح 11 بجے ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار ہوگا، جبکہ شام 4 بجے ممبئی کے شیواجی پارک میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
ان کے انتقال کی خبر کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے۔ مداحوں، فنکاروں، موسیقاروں اور عوامی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
آٹھ دہائیوں پر محیط آواز
آشا بھوسلے کا موسیقی کا سفر آٹھ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط رہا۔ انہوں نے 12,000 سے زائد گانے گائے اور ہندی سمیت 20 سے زیادہ زبانوں میں اپنی آواز دی۔ 1940 کی دہائی سے لے کر جدید دور تک، ان کا کام کئی نسلوں تک پہنچا۔
ان کی گائیکی میں رومانوی گانے، غزل، قوالی، پاپ، کیبری، بھجن اور لوک موسیقی شامل رہی۔
ان کے نمایاں گانوں میں “دم مارو دم”، “پیا تو اب تو آجا”، “چورا لیا ہے تم نے”، “یہ میرا دل” اور “جانے جا ڈھونڈتا پھر رہا” شامل ہیں۔
ابتدائی زندگی اور جدوجہد
آشا بھوسلے گلوکار و اداکار دیناناتھ منگیشکر کی بیٹی اور گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں۔ وہ صرف نو سال کی تھیں جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد خاندان پر مالی ذمہ داری آ گئی۔
کم عمری میں ہی آشا بھوسلے اور لتا منگیشکر نے خاندان کی مدد کے لیے گانا شروع کیا۔ مشکل حالات کے باوجود انہوں نے موسیقی کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
ذاتی زندگی
ان کی ذاتی زندگی میں بھی کئی چیلنجز رہے۔ کم عمری میں خاندان کی مرضی کے خلاف ہونے والی پہلی شادی کامیاب نہ ہو سکی اور انہیں گھریلو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے گھر واپس آئیں اور زندگی کو دوبارہ شروع کیا۔
بعد ازاں انہوں نے موسیقار آر ڈی برمن سے شادی کی۔ ان کی جوڑی بھارتی فلمی موسیقی کی اہم شراکتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ شراکت فلم “تیسری منزل” سے شروع ہوئی اور آگے چل کر بھارتی موسیقی میں نئے تجربات اور جدت کو فروغ دیا۔
کیریئر کے آغاز میں مسترد ہونا
ایک پرانے انٹرویو میں آشا بھوسلے نے بتایا تھا کہ کیریئر کے ابتدائی دور میں انہیں اور کشور کمار کو یہ کہہ کر ریکارڈنگ اسٹوڈیو سے واپس بھیج دیا گیا تھا کہ ان کی آواز ریکارڈنگ کے لیے موزوں نہیں ہے۔
بعد میں یہی آواز موسیقی کی دنیا میں وسیع پیمانے پر تسلیم کی گئی۔
اعزازات اور اعتراف
آشا بھوسلے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، پدم وبھوشن، متعدد قومی فلم ایوارڈز اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔
ان کا کام کئی نسلوں تک بھارتی ثقافتی شناخت کا حصہ رہا ہے۔
ملک بھر میں ردعمل
ان کے انتقال کے بعد ملک بھر میں تعزیتی پیغامات جاری کیے گئے۔ موسیقی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں بھارتی موسیقی کی ایک اہم شخصیت قرار دیا۔
ان کا انتقال بھارتی موسیقی کی تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔
وراثت
ان کے گانے آج بھی ریڈیو، فلموں اور عوامی تقریبات میں گونجتے ہیں اور کئی نسلوں کی یادوں کا حصہ ہیں۔









