بی سی سی آئی نے بنگلورو کے سی او ای کا جائزہ لیا، بھارت–اے اور انڈر–19 دوروں پر غور

بی سی سی آئی نے بنگلورو کے سی او ای کا جائزہ لیا، بھارت–اے اور انڈر–19 دوروں پر غور

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے اعلیٰ عہدیداروں نے بنگلورو میں قائم سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) کے کام کاج کا جائزہ لیا اور بھارت–اے اور بھارت انڈر–19 ٹیموں کے آئندہ دوروں کی منصوبہ بندی پر تبادلۂ خیال کیا۔

ممبئی میں منعقدہ بی سی سی آئی کی اہم میٹنگ میں بورڈ کے صدر متھن منہاس، نائب صدر راجیو شکلا اور سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) کے کرکٹ سربراہ وی وی ایس لکشمن شریک ہوئے۔ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد سی او ای کے آپریشنز کا جائزہ لینا، خالی تکنیکی عہدوں پر تقرری کے عمل پر غور کرنا اور بھارت–اے و انڈر–19 ٹیموں کے مستقبل کے دوروں کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔

میٹنگ کے بعد بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائکیا نے بتایا کہ سی او ای میں اس وقت کئی اہم تکنیکی عہدے خالی ہیں، جن میں تعلیم اور اسپورٹس سائنس کے سربراہ کے عہدے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خالی عہدوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور جلد ہی تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں تکنیکی عملے کی کمی ہے، تاہم بی سی سی آئی اس خلا کو جلد پُر کرنے کی کوشش کرے گا۔

میٹنگ میں سی او ای کی تیاریوں اور موجودہ آپریشنز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سی او ای اپریل 2026 سے فعال ہے اور اس میں تین کرکٹ گراؤنڈز شامل ہیں۔ ان گراؤنڈز پر اس وقت وجے ہزارے ٹرافی کے میچز کھیلے جا رہے ہیں۔ سائکیا نے کہا کہ سی او ای کی پیش رفت اور انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے لیے یہ موزوں وقت تھا۔

اس دوران مستقبل میں بھارت–اے ٹیم اور سینئر ٹیم کے دوروں کو اس انداز میں ترتیب دینے پر بھی بات چیت ہوئی کہ دونوں ٹیمیں ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر موجود نہ ہوں۔ سائکیا کے مطابق بھارت–اے ٹیم کے دورے مستقبل کے کرکٹرز کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہیں اور یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ سینئر اور اے ٹیم ایک ساتھ دورے پر نہ ہوں، تاکہ دونوں ٹیمیں کھیل کی ترقی پر مکمل توجہ دے سکیں۔

خالی تکنیکی عہدوں پر گفتگو کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ بی سی سی آئی جلد ہی انتخابی عمل شروع کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد سی او ای کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور بھارتی کرکٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ سائکیا نے کہا کہ تعلیم اور اسپورٹس سائنس کے کلیدی عہدوں پر تقرری سے کھلاڑیوں کی فٹنس، تکنیکی تربیت اور اسپورٹس سائنس کی نگرانی مزید مؤثر ہو سکے گی۔

ادھر حال ہی میں بنگلہ دیش کی جانب سے آئی سی سی سے 2026 ٹی–20 ورلڈ کپ میں اپنے میچز بھارت سے باہر کرانے کی درخواست کے حوالے سے سائکیا نے واضح کیا کہ اس میٹنگ میں اس معاملے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق میٹنگ صرف سی او ای اور دیگر کرکٹ سے متعلق امور تک محدود تھی اور بنگلہ دیش کی درخواست یا ٹی–20 ورلڈ کپ سے متعلق حتمی فیصلہ آئی سی سی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

میٹنگ میں مستقبل میں بھارت–اے اور انڈر–19 ٹیموں کے بین الاقوامی اور گھریلو دوروں کے انتظامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بی سی سی آئی نے اس سمت میں اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع میسر آئیں اور ان کی تیاری اعلیٰ سطح پر ہو۔ سائکیا کے مطابق بھارت–اے ٹیم کے دورے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ فراہم کرنے کے لیے اہم ہیں تاکہ وہ مستقبل میں سینئر ٹیم کے لیے تیار ہو سکیں۔

Leave a comment