آنے والے ہفتے کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جنوری میں ہونے والے بلومبرگ کموڈیٹی انڈیکس (Bloomberg Commodity Index – BCOM) کے سالانہ ری بیلنسنگ عمل کے باعث ان دونوں قیمتی دھاتوں میں فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ڈوئچے بینک کے تجزیہ کار مائیکل ہسوئے نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ BCOM کی ری بیلنسنگ کے نتیجے میں سونے اور چاندی میں نمایاں فروخت دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، انڈیکس سے منسلک فنڈز اس مدت کے دوران اپنے پورٹ فولیو میں تبدیلیاں کریں گے، جس کا براہ راست اثر ان کموڈیٹیز پر پڑے گا جن کا وزن انڈیکس میں کم کیا جا رہا ہے۔
مائیکل ہسوئے کے مطابق، BCOM کا یہ سالانہ ری بیلنسنگ عمل 9 جنوری سے 15 جنوری کے درمیان مکمل ہوگا۔ اس دوران انڈیکس کے قواعد کے تحت وزن میں تبدیلیاں کی جائیں گی، جس کے باعث بعض کموڈیٹیز پر فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس بار سونا اور چاندی ان کموڈیٹیز میں شامل ہیں جن پر اس عمل کا منفی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ڈوئچے بینک کی رپورٹ کے مطابق، ری بیلنسنگ کے دوران سونا، چاندی اور ایلومینیم پر فروخت کا دباؤ رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، کوکو، خام تیل، نیچرل گیس اور گیس آئل جیسی کموڈیٹیز کو اس عمل سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کے بہاؤ کے ایک کموڈیٹی سیکٹر سے دوسرے کی جانب منتقل ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
بلومبرگ کموڈیٹی انڈیکس کے قواعد کے تحت، کسی بھی ایک کموڈیٹی کا وزن 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ انڈیکس میں تنوع برقرار رکھنے کے لیے یہ حد مقرر کی گئی ہے۔ اس وقت سونے کا وزن تقریباً 20.4 فیصد کے قریب ہے، جسے اس ری بیلنسنگ کے ذریعے کم کر کے تقریباً 14.9 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔
وزن میں کمی کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ BCOM سے منسلک فنڈز کو اپنی سونے کی ہولڈنگز فروخت کرنا ہوں گی۔ ڈوئچے بینک کے اندازے کے مطابق، اس ری بیلنسنگ عمل کے دوران تقریباً 24 لاکھ ٹرائے اونس سونے کی فروخت ہو سکتی ہے۔ یہ فروخت پانچ کاروباری دنوں کے اندر ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سپلائی بڑھ کر سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مائیکل ہسوئے کے مطابق، ایکسچینج ٹریڈڈ پروڈکٹس (ETPs) میں دیکھے گئے تاریخی رجحانات کی بنیاد پر، اس فروخت کے باعث سونے کی قیمتوں پر تقریباً 2.5 فیصد سے 3 فیصد تک دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم، قیمتوں پر اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ مارکیٹ ڈیٹا کا تجزیہ ہفتہ وار بنیاد پر کیا جاتا ہے یا ماہانہ بنیاد پر۔
چاندی کے معاملے میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ اوپن انٹرسٹ اور اوسط یومیہ تجارتی حجم کے اعداد و شمار کے مطابق، سونا اور چاندی ان کموڈیٹیز میں شامل ہیں جن میں ری بیلنسنگ کے نتیجے میں مارکیٹ میں سب سے زیادہ اضافی سپلائی آ سکتی ہے۔ اس کے باعث آنے والے ہفتے کے دوران چاندی کی قیمتوں پر بھی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔









