پروفیسر گریگوئر بورسٹ کا انتباہ: دماغ کو اسمارٹ فونز نہیں، کتابیں پڑھنے کی عادت کی ضرورت ہے

پروفیسر گریگوئر بورسٹ کا انتباہ: دماغ کو اسمارٹ فونز نہیں، کتابیں پڑھنے کی عادت کی ضرورت ہے
آخری تازہ کاری: 15-10-2025

پیرس ڈیکارٹیس یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ پروفیسر گریگوئر بورسٹ نے خبردار کیا ہے کہ انسانی دماغ کو اسمارٹ فونز کی نہیں بلکہ کتابیں پڑھنے کی عادت کی ضرورت ہے۔ روزانہ صرف 10 منٹ پڑھنے سے یادداشت، ارتکاز اور ذہنی لچک (مینٹل فلیکسیبلٹی) بہتر ہوتی ہے۔ افسانوی اور غیر افسانوی (فکشن، نان فکشن) کتابیں دماغ کو فعال کرتی ہیں اور سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہیں۔

دماغی صحت: پیرس ڈیکارٹیس یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ پروفیسر گریگوئر بورسٹ نے اکتوبر میں ایک وارننگ جاری کی ہے: انسانی دماغ کے لیے اسمارٹ فونز سے زیادہ کتابیں پڑھنا اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ صرف 10 منٹ پڑھنے سے یادداشت، ارتکاز اور ذہنی لچک (مینٹل فلیکسیبلٹی) مضبوط ہوتی ہے۔ یہ نصیحت بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں طور پر اہم ہے، کیونکہ پڑھنا دماغ میں نئے اعصابی راستے (نیورونل پاتھ وے) بناتا ہے اور بڑھاپے سے متعلق ذہنی انحطاط سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔

کتابیں دماغ میں نئے راستے بناتی ہیں

پروفیسر بورسٹ کے مطابق، جب ہم ایک کتاب پڑھتے ہیں تو دماغ میں نئے اعصابی راستے (نیورونل پاتھ وے) تشکیل پاتے ہیں، جو ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتے ہیں۔ خاص طور پر، افسانوی کہانیوں والی کتابیں ہمیں دوسروں کے جذبات اور نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔ اسے نفسیات میں 'تھیوری آف مائنڈ' کہا جاتا ہے۔
اسی طرح، غیر افسانوی کتابیں (نان فکشن

Leave a comment