امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں امیگریشن کارروائی کے خوف کے باعث تقریباً 30 ہزار بھارتی زرعی مزدوروں کے کام چھوڑنے کی خبر سامنے آئی ہے۔ مزدوروں کی کمی سے زراعت متاثر ہونے اور پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف سخت امیگریشن کارروائیوں کے اثرات زرعی شعبے پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کیلیفورنیا میں تقریباً 30 ہزار بھارتی زرعی مزدوروں کے کام چھوڑنے کی خبر سامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کے پاس امریکہ میں رہنے یا کام کرنے کے لیے ضروری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائی اور حراست میں لیے جانے کے خوف کے باعث کئی مزدور کھیتوں میں کام کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
مزدوروں کی دستیابی کم ہونے سے زراعت، فصلوں کی کٹائی اور زرعی مصنوعات کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مزدوروں کی کمی بڑھنے کی صورت میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں 30 سے 32 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ ایک ممکنہ تخمینہ ہے اور قیمتوں میں اتنا اضافہ یقینی نہیں ہے۔ حقیقی اثر فصل، علاقے، موسم، پیداواری لاگت اور متبادل مزدوروں کی دستیابی پر منحصر ہوگا۔
کیلیفورنیا میں ICE کی کارروائی سے تشویش میں اضافہ
کیلیفورنیا امریکہ کی اہم زرعی پیداوار کرنے والی ریاستوں میں شامل ہے۔ یہاں پھل، سبزیاں اور کئی دیگر زرعی مصنوعات بڑے پیمانے پر اگائی جاتی ہیں۔ زراعت کے متعدد کاموں کے لیے مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ان فصلوں میں جن کی کٹائی اور چھٹائی مکمل طور پر مشینوں سے نہیں کی جا سکتی۔
رپورٹ کے مطابق، امیگریشن ایجنسی ICE دیہی علاقوں اور کھیتوں کے آس پاس بھی کارروائی کر رہی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ہزاروں زرعی مزدوروں کو حراست میں لیے جانے اور کچھ افراد کو امریکہ سے ملک بدر کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس سے ان مزدوروں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے جن کی امیگریشن حیثیت واضح نہیں ہے۔
کیلیفورنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاستی حکومت پر غیر قانونی ہجرت سے متعلق معاملات میں کافی سختی نہ برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے بعد ریاست میں وفاقی امیگریشن کارروائی سیاسی بحث کا موضوع بھی بن گئی ہے۔
امریکی زراعت میں بھارتی مزدوروں کا کردار
امریکہ کے زرعی نظام میں تارک وطن مزدور طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ کاشت کاری، پودوں کی دیکھ بھال، پھلوں اور سبزیوں کی چنائی، چھٹائی اور پیکنگ جیسے کاموں کے لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ میں ضروری دستاویزات کے بغیر رہنے والے تقریباً 7.5 لاکھ بھارتیوں میں سے قریب ایک لاکھ افراد زراعت سے متعلق کام کرتے ہیں۔ تاہم، ان اعداد و شمار اور کیلیفورنیا میں کام چھوڑنے والے بھارتی مزدوروں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
کیلیفورنیا کے علاوہ کنساس سمیت دیگر ریاستوں میں بھی کھیتوں میں مزدوروں کی کمی کی خبریں سامنے آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر مزدوروں کی کمی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو کسانوں کو فصلوں کی بروقت دیکھ بھال اور کٹائی کے لیے اضافی وسائل کا انتظام کرنا پڑ سکتا ہے۔
گرفتاری کے خوف سے مزدور دوسرے کاموں کی طرف جا رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق، ICE کی کارروائی سے بچنے کے لیے کچھ بھارتی مزدور زراعت چھوڑ کر پٹرول پمپس، گروسری اسٹورز اور تعمیراتی شعبے میں کام تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسی جگہ روزگار حاصل کرنا ہے جہاں انہیں چھاپوں یا حراست میں لیے جانے کا خوف نسبتاً کم محسوس ہو۔
کچھ مزدوروں کے میکسیکو جانے کی بھی اطلاعات دی گئی ہیں۔ تاہم، بتایا جاتا ہے کہ وہاں زرعی شعبے میں ملنے والی اجرت امریکہ کے مقابلے میں کم ہے۔ ایسے میں دوسرے ملک جانا تمام مزدوروں کے لیے معاشی طور پر پرکشش متبادل نہیں ہے۔
کام تبدیل کرنے سے مزدوروں کی فوری آمدنی اور روزگار کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، کھیتوں کے مالکان کے لیے تجربہ کار مزدوروں کی جگہ نئے افراد کو ملازمت دینا آسان نہیں ہوتا۔ فصلوں کی نوعیت اور موسم کے مطابق کام کا وقت طے ہوتا ہے، اس لیے مزدوروں کی کمی کا اثر جلد ظاہر ہو سکتا ہے۔
وکیل کے بغیر امیگریشن مقدمات میں قانونی جنگ مشکل
امریکہ میں امیگریشن کارروائی کا سامنا کرنے والے افراد کے قانونی حقوق پر بھی بحث بڑھ رہی ہے۔ کسی شخص کی امیگریشن حیثیت غیر قانونی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر قانونی کارروائی سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، دستیاب حقوق کا استعمال کرنا بہت سے تارکین وطن کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔
قانونی مدد کی لاگت، زبان سے متعلق رکاوٹیں اور امیگریشن عدالتوں کے طریقہ کار لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ جن افراد کے پاس وکیل رکھنے کے لیے کافی رقم نہیں ہے، انہیں اپنی صورتحال کی وضاحت کرنے اور ملک بدری کے خلاف قانونی راستے تلاش کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
رپورٹ میں پولیٹیکو کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 40 سے زائد عدالتیں تقریباً 5,000 تارکین وطن کے حق میں فیصلے سنا چکی ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے انہیں امیگریشن وکیل فراہم نہ کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ ان دعووں کے درست تناظر اور متعلقہ عدالتی احکامات کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ قانونی امداد اور ملک بدری سے متعلق قوانین مقدمے اور دائرۂ اختیار کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور زرعی شعبے پر اثرات
ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائی کو اپنی اہم پالیسی ترجیحات میں شامل کرتی رہی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین کا نفاذ ضروری ہے۔ دوسری جانب، زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ تشویش کا باعث ہے کہ کارروائیوں کے نتیجے میں ضروری مزدوروں کی دستیابی کم ہو سکتی ہے۔
میساچوسٹس یونیورسٹی کے پروفیسر ٹام جوراویچ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ہجرت کے معاملے پر سخت مؤقف سیاسی حمایت حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ماہر کی رائے ہے؛ اسے انتظامیہ کی کارروائی کا سرکاری طور پر اعلان کردہ مقصد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
امریکی زراعت میں لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا سے آنے والے مزدور کام کرتے ہیں۔ بہت سے افراد کے لیے امریکہ میں ملنے والی اجرت ان کے آبائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم، اجرت اور کام کے حالات علاقے، فصل، روزگار کے نظام اور قانونی حیثیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
مزدوروں کی کمی سے کسانوں کی لاگت بڑھنے کا خدشہ
زراعت میں مشینوں کا استعمال بڑھنے کے باوجود ہر کام کو خودکار بنانا ممکن نہیں ہے۔ اسٹرابیری جیسے نازک اور جلد خراب ہونے والے پھلوں کی چنائی میں ہاتھ سے کام کرنے والے مزدوروں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ اگر وقت پر کٹائی نہ ہو تو فصل خراب ہونے اور مارکیٹ تک کم پیداوار پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
مزدوروں کی کمی کی صورت میں کسانوں کو زیادہ اجرت دینی پڑ سکتی ہے، اضافی بھرتیاں کرنا پڑ سکتی ہیں یا کچھ فصلوں کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے۔ ان حالات میں پیداواری لاگت بڑھنے کا دباؤ صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے۔ تاہم، قیمتوں میں حقیقی اضافہ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ کسان متبادل مزدور کتنی جلدی حاصل کر پاتے ہیں اور مارکیٹ میں سپلائی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ میں امریکی زرعی شعبے کو سالانہ تقریباً چھ لاکھ کروڑ روپے کے ممکنہ نقصان کا تخمینہ بھی دیا گیا ہے۔ اس اعداد و شمار کی بنیاد واضح ہونا ضروری ہے، اس لیے اسے تصدیق شدہ معاشی نقصان کے بجائے رپورٹ میں بیان کیے گئے تخمینے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
امریکی زراعت تارک وطن مزدوروں پر کتنی منحصر ہے
رپورٹ میں نیشنل ایگریکلچرل ورکرز سروے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے کھیتوں میں کام کرنے والے تقریباً 45 فیصد مزدور دوسرے ممالک سے آئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کس سال اور مزدوروں کے کس زمرے سے متعلق ہیں، اس کی تصدیق اہم ہے، کیونکہ زرعی مزدوروں کے مختلف سروے میں تعریفیں اور نمونے مختلف ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال کسانوں نے کھیتوں میں مزدوروں کی بھرتی کے لیے 4.15 لاکھ عہدے نکالے، لیکن ان ملازمتوں کے لیے صرف 182 سفید فام افراد نے درخواست دی۔ اس دعوے کو سمجھنے کے لیے بھرتی پروگرام، درخواست کی تعریف اور اعداد و شمار کے اصل ماخذ کی جانچ ضروری ہے۔ صرف ان اعداد و شمار کی بنیاد پر امریکی مزدوروں کی دلچسپی کے بارے میں وسیع نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
آگے کیا ہوگا
امریکہ میں امیگریشن پالیسی اور زرعی مزدوروں کی دستیابی کے درمیان توازن آنے والے وقت میں بھی اہم مسئلہ رہ سکتا ہے۔ اگر کھیتوں میں مزدوروں کی کمی برقرار رہتی ہے تو کسانوں کی لاگت، فصلوں کی کٹائی اور غذائی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر بعض مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
تاہم، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو فی الحال یقینی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے لیے سرکاری زرعی اعداد و شمار، مزدوروں کی حقیقی دستیابی اور مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ فی الحال، کیلیفورنیا میں بھارتی زرعی مزدوروں کے کام چھوڑنے کی خبر نے امریکی زرعی شعبے میں تارک وطن مزدوروں کے کردار اور امیگریشن پالیسی کے معاشی اثرات پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔









