کارلوس الکاراز کلائی کی انجری کے بعد یو ایس اوپن میں واپسی کے لیے تیار

کارلوس الکاراز کلائی کی انجری کے بعد یو ایس اوپن میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ اپریل کے وسط سے سنگلز مقابلوں سے دور رہنے والے الکاراز نے پانچ سیٹس کے مقابلوں کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونے کی بات کہی ہے۔

اسپین کے ٹینس کھلاڑی کارلوس الکاراز نے کلائی کی انجری سے صحت یابی کے دوران پیش آنے والے ذہنی چیلنجز کے بارے میں بات کی ہے۔ سات مرتبہ کے گرینڈ سلیم چیمپئن الکاراز کے مطابق انجری سے زیادہ مشکل ان کے لیے یہ غیر یقینی صورتحال تھی کہ وہ دوبارہ مسابقتی ٹینس میں کب واپس آ سکیں گے۔ 23 سالہ الکاراز اپریل کے وسط سے سنگلز مقابلوں سے دور ہیں، تاہم اب وہ خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں اور نیویارک میں شروع ہونے والے یو ایس اوپن میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ گزشتہ سال اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں جینک سنر کو شکست دے کر ٹائٹل جیتنے والے الکاراز اس بار اپنے ٹائٹل کا دفاع کریں گے۔

واپسی کی تاریخ سے متعلق سب سے زیادہ تشویش

الکاراز نے بتایا کہ انجری سے صحت یاب ہونے کے دوران سب سے مشکل مرحلہ وہ تھا جب انہوں نے دوبارہ ٹریننگ شروع کر دی تھی، لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ باضابطہ مقابلے میں کب واپس آ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے ذہن میں مسلسل یہ سوال چل رہا تھا کہ آیا وہ سنسناٹی ٹورنامنٹ میں کھیل سکیں گے، یو ایس اوپن تک فٹ ہو سکیں گے یا پھر پورے امریکی ہارڈ کورٹ سیزن سے باہر رہنا پڑے گا۔

الکاراز کے مطابق یہی غیر یقینی صورتحال ان کے لیے ذہنی طور پر سب سے زیادہ چیلنجنگ رہی۔ تاہم اب وہ اس مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں اور نیویارک میں مقابلہ کرنے کے حوالے سے مثبت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ یہاں پہنچ چکے ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ مشکل وقت پیچھے رہ گیا ہے۔

اپریل کے بعد سنگلز مقابلہ نہیں کھیلا

الکاراز نے اپریل کے وسط کے بعد کوئی سنگلز مقابلہ نہیں کھیلا۔ طویل وقفے کے باعث یو ایس اوپن میں ان کی فٹنس اور میچ پریکٹس کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔

گرینڈ سلیم مقابلے خاص طور پر پانچ سیٹس تک جاری رہ سکتے ہیں اور ایسے میچ میں مسلسل اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے لیے جسمانی تیاری کے ساتھ کافی مسابقتی ردھم بھی ضروری ہوتا ہے۔

اس کے باوجود الکاراز کا کہنا ہے کہ ان کی تیاری درست سمت میں آگے بڑھی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طویل وقفے کے باوجود ان کا جسم اور ذہن بڑے مقابلوں کے لیے تیار ہے۔

یو ایس اوپن میں انہیں دوسری سیڈ دی گئی ہے۔ یہ ان کی موجودہ عالمی رینکنگ اور سابقہ کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے، تاہم طویل وقفے کے باعث ٹورنامنٹ میں ان کی حقیقی فٹنس کا امتحان پہلے راؤنڈ سے ہی ہو سکتا ہے۔

سرینا ولیمز کے ساتھ بھی کورٹ پر واپسی

الکاراز نے یو ایس اوپن میں اپنی سنگلز مہم سے قبل میچ کورٹ پر واپسی کر لی تھی۔ انہوں نے اس ہفتے 23 مرتبہ کی گرینڈ سلیم سنگلز چیمپئن سرینا ولیمز کے ساتھ مکسڈ ڈبلز مقابلہ کھیلا۔

اس تجربے نے الکاراز کو مسابقتی ماحول میں واپس آنے کا موقع دیا۔ تاہم سنگلز میں پانچ سیٹس کے مقابلے کا چیلنج اس سے کافی مختلف ہوگا۔

الکاراز کے لیے یہ میچ فٹنس اور ذہنی اعتماد دونوں کے لحاظ سے اہم تھا۔ طویل عرصے تک باہر رہنے کے بعد دوبارہ کورٹ پر اترنے سے انہیں اپنی تیاری کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔

کلائی پر اب بھی کمپریشن سلیو

کلائی کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے الکاراز اب بھی اپنے کھیلنے والے ہاتھ پر کمپریشن سلیو پہن رہے ہیں۔ ٹینس میں کلائی کی اہمیت بہت زیادہ ہے، خاص طور پر ایسے کھلاڑی کے لیے جو فورہینڈ میں کافی طاقت پیدا کرتا ہے۔

الکاراز اپنے فورہینڈ سے بھاری طاقت اور تیز اسپن پیدا کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے کھیلنے والے ہاتھ کی کلائی پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔

ایسی صورتحال میں جلد بازی سے واپسی خطرناک ہو سکتی تھی۔ اسی لیے الکاراز اور ان کی ٹیم نے صبر کے ساتھ بحالی اور ٹریننگ پر توجہ دی۔

انجری کے حوالے سے احتیاط

الکاراز کی کلائی کی تکلیف کو ٹینوسینووائٹس سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے۔ یہ ایسی حالت ہے جس میں ٹینڈن کو گھیرنے والی حفاظتی شیٹھ میں سوزش ہو سکتی ہے۔

ٹینس کھلاڑیوں کے لیے کلائی سے متعلق انجریز خاص طور پر چیلنجنگ ہوتی ہیں، کیونکہ ریکٹ کنٹرول، سروس، فورہینڈ، بیکہینڈ اور دیگر شاٹس کے دوران کلائی کا مسلسل استعمال ہوتا ہے۔

الکاراز کے کھیل کے انداز میں جارحانہ فورہینڈ ایک اہم ہتھیار ہے۔ اس لیے مکمل طور پر فٹ ہوئے بغیر مسابقتی ٹینس میں واپسی ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی تھی۔

اسی وجہ سے انہوں نے واپسی میں جلد بازی نہیں کی اور اپنی ٹیم کے مشورے پر اعتماد کیا۔

الکاراز نے کہا ذہنی طور پر تیار ہوں

طویل وقفے کے باوجود الکاراز کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سیٹس کے مقابلوں کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ صورتحال تیاری کے لحاظ سے مثالی نہیں ہے، لیکن ان کی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ مقابلہ کرنے کی حالت میں ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹیم اور قریبی لوگوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کے مشورے پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ الکاراز کے مطابق ٹریننگ کے دوران اب تک سب کچھ مثبت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خوف کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتے اور معمول کے مطابق اپنا کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یو ایس اوپن میں ٹائٹل کے دفاع کا چیلنج

الکاراز نے 2022 اور 2025 میں یو ایس اوپن کا ٹائٹل جیتا ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے فائنل میں جینک سنر کو شکست دے کر نیویارک کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

اس بار ان کی مہم روسی کھلاڑی رومن سفیولین کے خلاف شروع ہوگی۔ سفیولین کی طاقت اور تیز شاٹس الکاراز کی فٹنس کا ابتدائی امتحان بن سکتے ہیں۔

طویل عرصے تک مسابقتی میچ سے دور رہنے کے باعث الکاراز کو آغاز میں اپنی فارم اور ردھم حاصل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ پانچ سیٹس کے میچ میں ان کے جسم کے ردعمل اور کلائی کی حالت پر بھی نظر رہے گی۔

تاہم اگر وہ ابتدائی مرحلے سے محفوظ انداز میں آگے بڑھتے ہیں تو ٹورنامنٹ کے آگے بڑھنے کے ساتھ ان کی میچ ردھم مضبوط ہو سکتی ہے۔

مشکل ڈرا بھی فٹنس کا امتحان

یو ایس اوپن میں الکاراز کو دوسری سیڈ دی گئی ہے، لیکن ٹورنامنٹ کا ڈرا ان کے لیے آسان نہیں سمجھا جا رہا۔ طویل وقفے کے بعد انہیں مسلسل مقابلوں میں اعلیٰ سطح برقرار رکھنا ہوگی۔

گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کو کم وقت میں کئی مشکل میچ کھیلنے پڑتے ہیں۔ اس لیے صرف ایک میچ کے لیے فٹ ہونا کافی نہیں ہوتا، بلکہ پورے دو ہفتوں تک جسمانی صلاحیت برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

الکاراز کی ٹیم نے اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی واپسی کا منصوبہ بنایا ہوگا۔ کھلاڑی خود بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد کر رہے ہیں۔

خوف کو پیچھے چھوڑ کر معمول کے کھیل پر توجہ

الکاراز کے بیان سے واضح ہے کہ وہ انجری کے بعد واپسی میں سب سے بڑی ذہنی رکاوٹ کو پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ واپسی کی تاریخ سے متعلق تشویش اور غیر یقینی صورتحال اب ان کے لیے کم ہو چکی ہے۔

ان کا مقصد اب انجری کے بارے میں مسلسل سوچنے کے بجائے معمول کی ٹینس کھیلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوف سے دور رہنے اور پوری طاقت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں گے۔

اگر کلائی بغیر کسی پریشانی کے ان کا ساتھ دیتی ہے اور میچ پریکٹس کی کمی انہیں زیادہ متاثر نہیں کرتی تو الکاراز ایک بار پھر ٹائٹل کے مضبوط دعویدار بن سکتے ہیں۔

اب نظریں یو ایس اوپن کے آغاز پر

کارلوس الکاراز کے لیے یو ایس اوپن صرف ٹائٹل کے دفاع کا ٹورنامنٹ نہیں بلکہ انجری کے بعد ان کی واپسی کا حقیقی امتحان بھی ہے۔ اپریل کے بعد سنگلز سے دور رہنے کے باوجود وہ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار سمجھتے ہیں۔

کمپریشن سلیو کے ساتھ کھیلنا ظاہر کرتا ہے کہ کلائی کی حفاظت اب بھی اہم ہے، تاہم کھلاڑی کا اعتماد مثبت نظر آ رہا ہے۔

اب سب کی نظریں ان کے ابتدائی مقابلے پر ہوں گی، جہاں یہ واضح ہوگا کہ طویل وقفے کے بعد ان کا کھیل کس سطح پر ہے۔ اگر الکاراز اپنی سابقہ رفتار، فورہینڈ کی طاقت اور کورٹ کوریج واپس حاصل کر لیتے ہیں تو وہ نیویارک میں ایک بار پھر ٹائٹل کی دوڑ میں مضبوطی سے نظر آ سکتے ہیں۔

Leave a comment