اتوار کی شام وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور حالیہ میزائل حملوں کے تناظر میں اعلیٰ سطحی سلامتی جائزہ
اجلاس میں 28 فروری کو ایران میں ہونے والے فضائی حملے اور اس کے بعد مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی تشدد کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت کے بعد متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سمیت کئی خلیجی ممالک میں بھی حملے درج کیے گئے جس سے پورے خطے کی سلامتی کی صورتحال غیر مستحکم ہوئی ہے۔
سلامتی ایجنسیوں نے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کو زمینی حالات، ممکنہ خطرات اور آئندہ درپیش تزویراتی چیلنجز سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ مغربی ایشیا میں بھارت کے اہم تزویراتی اور اقتصادی مفادات کے پیش نظر اس بحران پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

سینئر وزراء اور اعلیٰ سلامتی حکام کی شرکت
اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سمیت قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام اور فوج کے سینئر نمائندے موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور بھارت کے تزویراتی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری مقیم اور برسرِ روزگار ہیں۔ حملوں کے درمیان وہاں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ مقامی انتظامیہ اور بھارتی سفارت خانوں کے ساتھ رابطہ قائم کر کے بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی یقینی بنائیں۔
علاقے میں سفر کرنے والے بھارتی شہریوں، کاروباری مسافروں اور امتحان دینے کے لیے جانے والے طلبہ کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ حکومت نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر ہنگامی امداد اور قونصلر معاونت فوری طور پر فراہم کی جائے گی۔





