ملک میں فلموں اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے مواد کی بڑھتی ہوئی آن لائن پائریسی کے معاملے پر مرکزی حکومت نے ٹیلی گرام کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت نے ٹیلی گرام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر پائریٹڈ فلمیں، ویب سیریز اور دیگر کاپی رائٹ مواد شیئر کرنے والے چینلز اور گروپس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔
مرکزی حکومت نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فلموں اور او ٹی ٹی مواد کی بڑھتی ہوئی پائریسی کے معاملے پر ٹیلی گرام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر پائریٹڈ مواد کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روکے اور اس سلسلے میں 15 دن کے اندر تفصیلی کارروائی رپورٹ پیش کرے۔
حکومت کے اس اقدام کو بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کریئیٹر اکانومی، فلم انڈسٹری، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، پروڈیوسرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کی سمت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پائریسی کے خلاف سختی اور پلیٹ فارمز کی جواب دہی پر زور
ذرائع کے مطابق، حکومت اب صرف پائریٹڈ مواد ہٹانے کے روایتی طریقے تک محدود رہنے کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جواب دہی طے کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ پائریسی صرف ایک سول خلاف ورزی نہیں بلکہ کاپی رائٹ ایکٹ، 1957 اور سنیماٹوگراف ایکٹ، 1952 کے تحت ایک سنگین فوجداری جرم بھی ہے۔
سرکاری موقف کے مطابق، پلیٹ فارمز کو صرف شکایت موصول ہونے پر ردعمل دینے کے بجائے فعال نگرانی کا نظام اپنانا ہوگا، تاکہ غیر قانونی مواد کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکا جا سکے۔
ٹیلی گرام کو دی گئی ہدایات
اطلاعات و نشریات کی وزارت نے ٹیلی گرام کو واضح ہدایت دی ہے کہ اس کے پلیٹ فارم کو فلموں، ویب سیریز اور او ٹی ٹی مواد کی غیر قانونی نقول شیئر کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ حکومت نے کہا ہے کہ صرف انفرادی چینلز کو ہٹانا کافی نہیں، بلکہ پلیٹ فارم کے لیے مجموعی سطح پر ڈیو ڈیلیجنس کی پابندی کرنا لازمی ہے۔
ایک عہدیدار کے مطابق، “آئی ٹی ایکٹ، 2000 اور آئی ٹی رولز، 2021 کے تحت بطور انٹرمیڈیئری پلیٹ فارم کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی مواد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔”
شکایات کے ازالے کے نظام سے متعلق بھی معلومات طلب
حکومت نے ٹیلی گرام سے یہ معلومات بھی طلب کی ہیں کہ وہ فلم پروڈیوسرز، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کس نوعیت کا شکایات کے ازالے کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت پوچھا گیا ہے کہ پلیٹ فارم پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی یا پائریسی سے متعلق شکایات کیسے درج کی جاتی ہیں اور ان کا ازالہ کتنی تیزی سے کیا جاتا ہے۔
حکام نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر پلیٹ فارم کی جانب سے تسلی بخش جواب نہیں ملتا تو آئندہ سخت ضابطہ جاتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مرکزی حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی کے معاملے میں پہلے سے زیادہ فعال ہو گئی ہے۔ حال ہی میں الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے میٹا کو بھی نوٹس جاری کیا تھا، جس میں واٹس ایپ کے یوزرنیم فیچر اور انسٹاگرام پر بعض متنازع اشتہارات سے متعلق معاملات پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق، حکومت اب سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے لیے سخت تعمیلی معیارات نافذ کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔








