بھارت کی CERT-In کو Anthropic کے Claude Mythos AI ماڈل تک رسائی حاصل ہوگئی

بھارت کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی CERT-In کو Anthropic کے Claude Mythos AI ماڈل تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ ایجنسی کنٹرول شدہ ماحول میں سافٹ ویئر کی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے کی اس کی صلاحیت کا جائزہ لے گی۔

بھارت کی CERT-In کو Anthropic کے Claude Mythos AI ماڈل تک رسائی حاصل ہوگئی

بھارت کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) کو امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی Anthropic کے جدید AI ماڈل Claude Mythos تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ اس ماڈل کی مدد سے ڈیجیٹل سسٹمز میں موجود سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے اور ممکنہ سائبر حملوں سے بچاؤ کی تیاری بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

بھارت میں سائبر خطرات میں اضافے کے درمیان سرکاری ایجنسی کو یہ نیا AI ٹول فراہم کیا گیا ہے۔ Claude Mythos سافٹ ویئر میں موجود پوشیدہ سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، ایجنسی فی الحال اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ابتدائی مرحلے میں محدود دائرے میں اس کی جانچ کی جائے گی، تاکہ اس کی صلاحیتوں، افادیت اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

CERT-In کو Claude Mythos تک رسائی حاصل

بھارت کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی CERT-In اب Claude Mythos کی مدد سے ڈیجیٹل سسٹمز کی سیکیورٹی کا جائزہ لے سکے گی۔ خبر رساں ایجنسی PTI کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی سے وابستہ ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق، ایجنسی پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرے گی کہ اس AI ماڈل کو کن کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف نوعیت کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ فی الحال اسے تمام سسٹمز کے ساتھ مربوط کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، جن سسٹمز کی جانچ ضروری ہوگی، انہیں مرحلہ وار اس ماڈل کے ذریعے پرکھا جائے گا۔ اس احتیاط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سیکیورٹی بہتر بنانے کی کوشش کے دوران کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

Claude Mythos امریکی AI کمپنی Anthropic کا ایک جدید ماڈل ہے۔ کمپنی نے اپریل 2026 میں اس کا ابتدائی ورژن Claude Mythos Preview متعارف کرایا تھا۔ یہ ماڈل کوڈنگ اور سافٹ ویئر سے متعلق پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی صلاحیت کی مدد سے یہ ان سیکیورٹی خامیوں کی بھی نشاندہی کرسکتا ہے جن کا استعمال ہیکرز کسی سسٹم میں غیر مجاز طور پر داخل ہونے کے لیے کرسکتے ہیں۔

Anthropic کے مطابق، Mythos Preview نے اپنی جانچ کے دوران سافٹ ویئر کی ہزاروں سنگین سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں کچھ ایسی خامیاں بھی شامل تھیں جن کے بارے میں متعلقہ سافٹ ویئر تیار کرنے والی کمپنیوں کو پہلے سے معلومات نہیں تھیں۔

سائبر سیکیورٹی کی اصطلاح میں ایسی خامیوں کو Zero-Day Vulnerabilities کہا جاتا ہے۔ ان کی بروقت نشاندہی ہونے سے کمپنیوں اور سرکاری اداروں کو اپنے ڈیجیٹل سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اصلاحات کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

اس AI ماڈل سے بھارت کو کیا فائدہ ہوگا؟

بھارت میں سرکاری خدمات، بینکنگ، آن لائن ادائیگیوں اور دیگر اہم سرگرمیوں کے لیے ڈیجیٹل سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی سافٹ ویئر میں سیکیورٹی کی خامی موجود ہونے سے اس سے وابستہ افراد اور اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Claude Mythos کی مدد سے CERT-In تکنیکی خطرات کی نشاندہی کرنے کی اپنی صلاحیت بہتر بنا سکتی ہے۔ یہ ماڈل سافٹ ویئر کوڈ کی جانچ، سیکیورٹی خامیوں کی شناخت اور انہیں دور کرنے کے ممکنہ طریقوں کا تجزیہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ AI ماڈل خودکار طور پر ہر سائبر حملے کو روک سکے گا۔ سائبر سیکیورٹی کے لیے تکنیکی ماہرین کی نگرانی، بروقت سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات بھی پہلے کی طرح اہم رہیں گے۔

Claude Mythos سب کو کیوں فراہم نہیں کیا گیا؟

CERT-In فی الحال Claude Mythos کے استعمال کے معاملے میں احتیاط برت رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایجنسی ایک کنٹرول شدہ ماحول میں اس کی صلاحیتوں کی جانچ کررہی ہے۔ ابتدائی توجہ اس بات کا جائزہ لینے پر ہے کہ یہ ماڈل سیکیورٹی سے متعلق مسائل کی کتنی مؤثر انداز میں نشاندہی کرتا ہے اور ان کے حل میں کس حد تک مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

CERT-In دیگر AI ماڈلز بھی استعمال کررہی ہے۔ اس لیے کسی ایک ٹول پر مکمل انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سائبر حملوں کے طریقوں میں مسلسل تبدیلی آرہی ہے اور AI کا استعمال سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ حملوں کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس تناظر میں CERT-In کی جانب سے کی جانے والی جانچ سے واضح ہوگا کہ Claude Mythos بھارتی ڈیجیٹل سسٹمز کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

Leave a comment