لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو اس وقت دھچکا لگا جب بھارت کے چیف جسٹس (CJI) سوریہ کانت نے پیر کو اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کی درخواست قبول نہیں کی۔
راہل گاندھی نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (Special Intensive Revision یعنی SIR) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ تاہم، چیف جسٹس سوریہ کانت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
دستیاب معلومات کے مطابق، چیف جسٹس نے راہل گاندھی کو بھیجے گئے سرکاری ای میل کے جواب میں کہا کہ ان معاملات پر ذاتی ملاقات کے ذریعے بات چیت کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ متعلقہ مقدمات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ جب کوئی معاملہ عدالت کے سامنے زیر سماعت ہو تو اس پر ذاتی ملاقات کے ذریعے تبادلہ خیال کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے آئینی نظام کے تحت عدلیہ اور حکومت کے کردار کے درمیان فرق کا بھی ذکر کیا۔
چیف جسٹس کے موقف کے مطابق، انتظامی سطح پر حکومت کے کام کاج میں عدلیہ کی مداخلت آئینی حدود کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ تاہم، شہریوں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق، SIR سے متعلق مقدمات پر سپریم کورٹ میں منگل کو سماعت مقرر تھی۔ ایسے میں اگر اپوزیشن رہنما متعلقہ معاملات پر باضابطہ درخواست دائر کرتے ہیں تو عدالت ضابطے کے مطابق اس پر غور کر سکتی ہے۔ اس معاملے میں آئندہ کارروائی عدالتی طریقہ کار اور دستیاب قانونی بنیادوں پر منحصر ہوگی۔

چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کرنے سے قبل راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ اس میں انہوں نے 12 اکتوبر کو دہلی میں سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے پہلے ہونے والے احتجاج کے دوران نوجوانوں کے ساتھ پولیس اور بی جے پی کے حامیوں نے مارپیٹ کی تھی۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
راہل گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مجوزہ مارچ کا مقصد سیاسی جماعتوں، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ انہوں نے اسے آئین اور جمہوری حقوق کے تحفظ سے متعلق مہم قرار دیا۔
کانگریس رہنما کے مطابق، مظاہرین کی جانب سے چیف جسٹس کو ایک میمورنڈم سونپنے کا منصوبہ تھا۔ ان کے اہم مطالبات میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ کو روکنا، SIR کے عمل کو معطل کرنا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ شامل تھا۔
راہل گاندھی نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ سیاسی الزامات ہیں اور انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی انتخابی فہرستوں کے جائزے کا ایک عمل ہے، جس کا مقصد ووٹر ریکارڈ کی جانچ اور فہرستوں کو تازہ ترین بنانا ہے۔ اس عمل پر اپوزیشن کے اعتراضات بنیادی طور پر ووٹروں کے حقوق، ممکنہ طور پر نام حذف کیے جانے اور طریقہ کار میں شفافیت جیسے معاملات سے متعلق ہیں۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی جمہوری عمل کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب، انتخابی حکام اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری قانون کے مطابق ووٹر لسٹوں کو درست اور تازہ ترین رکھنا ہے۔ اس تنازع کا حتمی حل متعلقہ حقائق، قانونی دفعات اور عدالتی جائزے پر منحصر ہوگا۔





