مہاراشٹر کی بارامتی اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس نشست کو بلا مقابلہ رکھنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہاں انتخابی مقابلہ ہوگا۔
ممبئی: مہاراشٹر کی بارامتی اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اجیت پوار کے مضبوط گڑھ کے طور پر جانی جانے والی اس نشست کے بارے میں پہلے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ احتراماً اسے بلا مقابلہ رکھا جا سکتا ہے، تاہم انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد اب یہ طے ہو گیا ہے کہ یہاں براہ راست مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔
اس سے قبل سنیترہ پوار نے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکل سے رابطہ کر کے ضمنی انتخاب کو بلا مقابلہ کرانے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ تاہم کانگریس کے فیصلے نے ان قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے اور اب بارامتی میں انتخابی مقابلہ یقینی ہو گیا ہے۔
![]()
بلا مقابلہ انتخاب کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ
بارامتی نشست کے حوالے سے پہلے یہ بحث تھی کہ مہاراشٹر کے سینئر رہنما اجیت پوار کے احترام میں اس نشست کو بلا مقابلہ رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی اور ضمنی انتخاب کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں اجیت پوار کی اہلیہ اور مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ پوار نے مختلف سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ اس نشست پر بلا مقابلہ انتخاب یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکل سے فون پر بات کر کے اس ضمن میں تعاون طلب کیا تھا۔
تاہم کانگریس کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد اب ان تمام قیاس آرائیوں پر مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ بارامتی میں انتخابی مقابلہ ہوگا۔
آکاش مورے کا سیاسی تعارف
کانگریس کے امیدوار آکاش مورے کو پارٹی کے اندر ایک نوجوان اور فعال رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ سابق رکن قانون ساز کونسل وجے راؤ مورے کے بیٹے ہیں اور دھانگر برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم سماجی گروہ مانا جاتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آکاش مورے پیر کے روز اپنا نامزدگی فارم داخل کریں گے، جو نامزدگی کی آخری تاریخ بھی ہے۔ ان کی امیدواری سے کانگریس نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اس ضمنی انتخاب کو سنجیدگی سے لڑنے کے موڈ میں ہے۔
اس نشست کو بلا مقابلہ کرانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کیا گیا تھا۔ سنیترہ پوار نے شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے بھی حمایت طلب کی تھی۔ وہیں شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) پہلے ہی اعلان کر چکی تھی کہ وہ اجیت پوار کے احترام میں اس ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔







