دسمبر 2025 میں بھارت میں گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (Gold ETF) میں سرمایہ کاری 211 فیصد بڑھ کر ₹11,646 کروڑ تک پہنچ گئی۔ ایسوسی ایشن آف میوچول فنڈز ان انڈیا (AMFI) کے اعداد و شمار کے مطابق یہ اب تک کی سب سے بڑی ماہانہ آمد ہے۔ نومبر 2025 میں سرمایہ کاری ₹3,742 کروڑ جبکہ اکتوبر 2025 میں ₹7,743 کروڑ تھی۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق عالمی اور گھریلو سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، ایکویٹی مارکیٹ میں وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے خطرات اور محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کی تلاش نے دسمبر کے دوران سرمایہ کاروں کو گولڈ ETF کی جانب متوجہ کیا۔ اس عرصے میں سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دی گئی۔
مِرے ایسٹ کی ہیڈ ڈسٹری بیوشن اینڈ اسٹریٹجک الائنس سورنجنا بورتھاکور کے مطابق سال 2025 سونے کے لیے نمایاں رہا۔ ان کے مطابق گولڈ ETF میں نیٹ ان فلو گزشتہ سال کے مقابلے میں چار گنا بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سونے کو صرف ہیجنگ ٹول کے طور پر نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے پورٹ فولیو کے ایک طویل مدتی اور اسٹریٹجک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آنند راٹھی ویلتھ کے فیروز عزیز نے بتایا کہ کیلنڈر سال 2025 میں سونے نے 70 فیصد سے زیادہ منافع دیا۔ ان کے مطابق اسی کارکردگی کے باعث سرمایہ کاروں نے گولڈ ETF کو ترجیح دی، جو سرمایہ کاری کے رویے میں حالیہ کارکردگی پر انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔
ICRA اینالٹکس کے سینئر وائس پریزیڈنٹ اشونی کمار کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ گولڈ ETF کی لیکویڈیٹی، شفافیت، کم لاگت اور آسان ٹریڈنگ اس کی مقبولیت کی اہم وجوہات ہیں۔









