دہلی میں CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے حراست میں، اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت تین افراد کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت اجنکیا شندے کریں گے۔

دہلی میں CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے حراست میں، اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت تین افراد کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ دیپکے نے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے اعلان کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کے تنظیمی انچارج اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے۔

دہلی ہوائی اڈے پر تین افراد حراست میں

مجوزہ احتجاج سے قبل دہلی میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسی دوران CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

گرفتاری یا حراست میں لیے جانے کے امکان کے پیش نظر ابھیجیت دیپکے نے جمعہ کی رات ہی ویڈیو ریکارڈ کر لی تھی۔ ہفتہ کو ویڈیو عام کرتے ہوئے پارٹی نے اپنے حامیوں کو قیادت میں تبدیلی کے بارے میں آگاہ کیا۔

اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے

CJP کے مطابق، جب تک ابھیجیت دیپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا حراست میں رہیں گے، پارٹی کے تنظیمی انچارج اجنکیا شندے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی قیادت کریں گے۔

دیپکے نے ویڈیو کے ذریعے پیغام دیا کہ اہم رہنماؤں کی غیر موجودگی کے باوجود تحریک جاری رہے گی۔ احتجاج میں کتنے افراد شرکت کریں گے اور سکیورٹی پابندیوں کے درمیان پروگرام کس انداز میں آگے بڑھے گا، اس کا انحصار انتظامی حالات پر ہوگا۔

دہلی پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے کے باعث منتظمین کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ پر دیپکے کے الزامات

پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو میں ابھیجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر بھی الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سکیورٹی پابندیوں کے ذریعے لوگوں کو مجوزہ تحریک میں شرکت سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دیپکے نے یہ بھی کہا کہ وہ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی آ رہے تھے اور ممکنہ گرفتاری کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ ان الزامات پر حکومت کی جانب سے کسی ردعمل کی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔

دہلی میں سخت سکیورٹی، جنتر منتر پر پولیس تعینات

CJP کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے خدشے کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

دستیاب معلومات کے مطابق، دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت کم از کم 1,500 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم، ان تمام افراد کی حراست کا CJP احتجاج سے براہ راست تعلق ہے یا نہیں، اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

ہفتہ کی صبح 6 بجے سے شہر کے کئی علاقوں میں ٹریفک پابندیاں اور راستوں کی تبدیلی نافذ کی گئی ہیں۔ جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے اہم چوراہوں پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں اور لوگوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔

Leave a comment