دہلی میں پیر کی صبح شدید دھند چھائی رہی اور نظر آنے کی صلاحیت صرف 50 میٹر تک محدود رہ گئی۔ IMD نے ریڈ الرٹ جاری کیا۔ ٹرینیں اور پروازیں متاثر ہوئیں۔ عام عوام کو متنبہ رہنے اور سفر کے منصوبے تبدیل کرنے کی صلاح دی گئی۔
New Delhi: دہلی میں پیر کی صبح شدید دھند چھائی رہی، جس کی وجہ سے دارالحکومت میں نظر آنے کی صلاحیت کافی کم ہو گئی۔ صبح تک نظر آنے کی صلاحیت صرف 50 میٹر رہی۔ بھارتی محکمہ موسمیات (IMD) نے پہلے نارنجی الرٹ جاری کیا تھا، جسے بعد میں ریڈ الرٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے مسافروں اور عام عوام کو متنبہ رہنے کی صلاح دی ہے۔ دھند کی وجہ سے دہلی میں ہوائی جہاز اور ٹرین کی کارروائی میں خلل پڑا اور لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹرین کی کارروائی متاثر
دھند کی وجہ سے دہلی آنے والی 70 سے زیادہ ٹرینیں 2 سے 15 گھنٹے تک تاخیر کا شکار رہیں۔ یہ تاخیر نہ صرف لمبی دوری کی ٹرینوں میں ہوئی بلکہ کئی مقامی اور انٹر سٹی ٹرینیں بھی متاثر ہوئیں۔ ٹرینیں تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے واپسی کی سمت میں کئی ٹرینوں کے روانگی کے اوقات میں بھی تبدیلی کرنا پڑی۔ مسافروں نے کئی گھنٹوں تک پلیٹ فارم پر انتظار کیا اور روزانہ سفر کرنے والوں کو اپنے سفر کے منصوبے تبدیل کرنے پڑے۔ یہ تاخیر دہلی اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے مسافروں کے لیے چیلنجنگ ثابت ہوئی۔
اہم ٹرینیں اور ان کی تاخیر
کچھ اہم ٹرینیں اور ان کی تاخیر اس طرح ہے:
- نئی دہلی-برونی ہم سفر اسپیشل: 14.05 گھنٹے
- نئی دہلی-کانپور شریم شکتی ایکسپریس: 11.05 گھنٹے
- نئی دہلی-کلکا شتاब्दी ایکسپریس: ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ
- نئی دہلی-امرتسر شان ای پنجاب ایکسپریس: ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ
- نئی دہلی-سوگریہ (کوٹا) سپر فاسٹ ایکسپریس: تقریباً پانچ گھنٹے
- نئی دہلی-درभंगा ہم سفر اسپیشل: پانچ گھنٹے
- انند विहार ٹرمینل-ایودھیا کینٹ وندے بھارت: 6.05 گھنٹے
- نئی دہلی-لکھنؤ سوارن شتاब्दी ایکسپریس: تین گھنٹے
- نئی دہلی-فیروز پور انٹر سٹی ایکسپریس: دو گھنٹے
انند विहार ٹرمینل-جگبنی سمانچل ایکسپریس: ڈیڑھ گھنٹہ

ان طویل تاخیروں کی وجہ سے مسافروں کو اپنے سفر کے منصوبے تبدیل کرنے پڑے اور بہت سے لوگوں کو اپنے مقصود تک پہنچنے میں اضافی وقت لگا۔ ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کو صلاح دی ہے کہ وہ آنے والے وقت میں اپنے ٹرین کے شیڈول کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں اور ضرورت پڑنے پر پلیٹ فارم پر وقت سے پہلے پہنچیں۔
ہوا کی کوالٹی سنگین زمرے میں
دہلی میں دھند کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کے سمر ایپ کے مطابق، صبح آٹھ بجے دارالحکومت کا ہوا کا معیار اشاریہ (AQI) 402 ریکارڈ کیا گیا، جو سنگین زمرے میں آتا ہے۔ سب سے زیادہ آلودہ علاقے انند विहार (AQI 455) اور ووک ویہار (AQI 456) رہے۔ ماہرین کے مطابق، فضائی آلودگی اور دھند کا مجموعی اثر لوگوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں والے لوگوں کے لیے۔
نظر آنے کی صلاحیت میں کمی کے اثرات
دھند کی وجہ سے نظر آنے کی صلاحیت میں بہت کمی آئی۔ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے اور صفدر جنگ میں نظر آنے کی صلاحیت صرف 50 میٹر رہی۔ اس سے فضائی سفر متاثر ہوا اور کئی پروازوں کی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ سڑک کے ٹریفک میں بھی سست روی اور حادثات کا خطرہ بڑھ گیا۔ ٹریفک پولیس نے گاڑی چلانے والوں کو احتیاط برتنے اور ہیڈ لائٹس آن رکھنے کی صلاح دی ہے۔ صبح کے وقت دھند کی گھنی چادر نے دارالحکومت کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا۔
ریلوے اور ایئرپورٹ انتظامیہ کی تیاری
ریلوے انتظامیہ نے ٹرین کی تاخیر کی معلومات مسافروں کو دینے کے لیے انفارمیشن سسٹم کو فعال کر دیا ہے۔ لمبی دوری کی ٹرینوں کے مسافروں کو ایس ایم ایس اور ریلوے کی ویب سائٹ کے ذریعے اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے بھی دھند کو مدنظر رکھتے ہوئے پرواز کی کارروائی میں ضروری تبدیلیاں کیں اور مسافروں کو وقت سے پہلے ایئرپورٹ پہنچنے کی صلاح دی۔ اس دوران حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔
عام عوام کے لیے احتیاطی تدابیر
ماہرین نے لوگوں کو صلاح دی ہے کہ گھنی دھند اور بڑھی ہوئی آلودگی کے دوران باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔ گاڑی چلاتے وقت سست رفتار اپنائیں اور ہائی بیم کا استعمال صرف ضرورت کے مطابق کریں۔ بچوں اور بزرگوں کو زیادہ وقت باہر نہ رہنے دیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے وقت حفاظتی قواعد کا पालन کریں اور اپنے سفر کے منصوبے میں کافی وقت شامل کریں۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ
IMD نے کہا ہے کہ آنے والے 24 گھنٹوں میں دارالحکومت میں شدید دھند اور سردی بڑھنے کا امکان ہے۔ ریڈ الرٹ جاری ہونے کی وجہ سے سب لوگ متنبہ رہیں۔ اسکول، کالج اور دیگر عوامی مقامات پر بھی حفاظتی قواعد کا पालन ضروری ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دھند اور آلودگی کے مجموعی اثر سے سڑک اور فضائی سفر میں تاخیر جاری رہ سکتی ہے۔




