دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے قبل بعض میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ

دہلی میں 10 اکتوبر کو مجوزہ احتجاج اور ٹریفک جام کے خدشے کے پیش نظر ریلوے نے مقررہ اوقات میں نئی دہلی اور حضرت نظام الدین پہنچنے والی بعض میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کا انتظام بھی موجود ہے۔
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے قبل بعض میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ
Photo Credit / Attribution: Google

دہلی میں 10 اکتوبر کو مجوزہ احتجاج کے پیش نظر ریلوے نے بعض میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں کے آس پاس شدید ٹریفک جام کے خدشے کے باعث ملک کے مختلف حصوں سے دارالحکومت آنے والے مسافروں کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

ٹرینوں کی منسوخی کے لیے مقررہ وقت

ریلوے کے حکم کے مطابق، 9 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشن سے روانہ ہونے والی اور 10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی یا حضرت نظام الدین پہنچنے والی مخصوص میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو ان کے ابتدائی اسٹیشن سے ہی منسوخ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں متاثرہ ٹرینوں کے مسافر مقررہ وقت پر دہلی نہیں پہنچ سکیں گے۔ مسافروں کو گھر سے روانہ ہونے سے پہلے اپنی ٹرین کی موجودہ صورتحال جانچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف ٹریفک میں رکاوٹ کا خدشہ

ریلوے نے دونوں اہم اسٹیشنوں کے آس پاس ممکنہ ٹریفک کی رکاوٹ کو ٹرینیں منسوخ کرنے کی وجہ قرار دیا ہے۔ دہلی میں مجوزہ احتجاج کے باعث کئی اہم سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ بڑھنے اور ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ایسی صورتحال میں دوسرے شہروں سے ٹرین کے ذریعے دہلی پہنچنے والے مسافروں کو اسٹیشن سے باہر ٹیکسی، کیب اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولیات حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اتر پردیش سے دہلی جانے والے مسافر متاثر ہو سکتے ہیں

لکھنؤ سے دہلی جانے والے مسافروں کے لیے بھی ریلوے نے بعض اہم ٹرینوں کی منسوخی سے متعلق معلومات دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ میل، گورکھ دھام ایکسپریس، اے سی ایکسپریس، پریاگ راج ایکسپریس، شیو گنگا ایکسپریس اور راجندر نگر–نئی دہلی امرت بھارت ایکسپریس جیسی ٹرینوں کے نام متاثرہ خدمات کی فہرست میں شامل ہیں۔

تاہم، مسافروں کو اپنی ٹرین کے نمبر اور سفر کی تاریخ کی بنیاد پر ریلوے کی سرکاری اطلاع سے صورتحال کی تصدیق کرنی چاہیے، کیونکہ ضروری نہیں کہ تمام ٹرینوں پر یکساں تبدیلیاں لاگو ہوں۔

بہار سے دہلی جانے والے مسافر بھی ٹرینوں کی صورتحال جانچیں

پٹنہ اور دیگر اسٹیشنوں سے دہلی جانے والے مسافروں کو بھی اپنی ٹرینوں کی صورتحال کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ریلوے سے متعلق رپورٹس میں راجدھانی، مگدھ اور سمپورن کرانتی ایکسپریس ٹرینوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ہر ٹرین کی صورتحال کی الگ الگ تصدیق ضروری ہے۔

صرف ٹرین کے نام یا روٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ ٹرین یقینی طور پر منسوخ ہے یا معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ سفر سے پہلے ٹرین نمبر درج کرکے سرکاری صورتحال کی جانچ کرنا ضروری ہے۔

منسوخ ٹکٹوں کے لیے رقم کی واپسی کا انتظام

ریلوے نے منسوخ شدہ ٹرینوں کے ٹکٹوں کی رقم واپس کرنے کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی ہے۔ ریلوے ریزرویشن کاؤنٹر سے ٹکٹ خریدنے والے مسافر مقررہ طریقہ کار کے مطابق رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ آن لائن ٹکٹ بک کرنے والے مسافروں کو رقم کی واپسی آئی آر سی ٹی سی کے ذریعے کی جائے گی۔

مسافروں کو اپنے ٹکٹ کی صورتحال اور رقم کی واپسی سے متعلق معلومات کی جانچ کرنی چاہیے۔ اگر ٹکٹ خودکار طور پر منسوخ ہونے یا رقم واپس ملنے میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو ریلوے کے سرکاری امدادی ذرائع سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان

دہلی کے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور بعض طلبہ تنظیموں نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

تاہم، ریلوے نے ٹرینوں کی منسوخی کی وجہ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین اسٹیشنوں کے اطراف شدید ٹریفک جام کے امکان کو بتایا ہے۔ اس لیے احتجاج اور ٹرینوں کی آمدورفت میں تبدیلی کے درمیان تعلق کے حوالے سے ریلوے کی سرکاری معلومات ہی کو بنیاد بنانا چاہیے۔

سفر سے پہلے سرکاری معلومات کی تصدیق ضروری

ریلوے کا حکم ایک مخصوص مدت کے دوران نئی دہلی یا حضرت نظام الدین پہنچنے والی منتخب میل اور ایکسپریس ٹرینوں پر لاگو ہوتا ہے۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ دہلی کے علاقے میں چلنے والی تمام ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ دوسرے اسٹیشنوں پر سفر ختم کرنے والی ٹرینوں یا نئی دہلی اور حضرت نظام الدین سے روانہ ہونے والی خدمات کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔

مسافروں کو اپنے ٹکٹ پر درج ٹرین نمبر، سفر کی تاریخ، روانگی کے اسٹیشن اور منزل کی دوبارہ جانچ کرنی چاہیے۔ اگر ٹرین منسوخ ہو تو رقم کی واپسی کا طریقہ اختیار کرنے کے ساتھ ضرورت پڑنے پر متبادل ٹرین، بس یا دیگر ذرائع آمدورفت کی دستیابی بھی معلوم کرنی چاہیے۔

ہفتے کی صبح دہلی پہنچنے کا منصوبہ بنانے والے مسافروں کو خاص طور پر یہ جانچنا چاہیے کہ آیا ان کی ٹرین مقررہ وقت کے دوران نئی دہلی یا حضرت نظام الدین پہنچنے والی تھی۔ بروقت معلومات حاصل کرنے سے اسٹیشن پہنچنے کے بعد پیش آنے والی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔

Leave a comment