نیدرلینڈز کی ایف ڈی جے-سوئز ٹیم کی 29 سالہ سائیکلسٹ ڈیمی وولیرنگ نے ٹور ڈی فرانس فیمز کا دوسرا ٹائٹل جیت لیا۔ فیصلہ کن آخری مرحلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انہوں نے پیلی جرسی برقرار رکھی اور اس باوقار خواتین سائیکلنگ ریس کو دو مرتبہ جیتنے والی پہلی رائیڈر بن گئیں۔
نیس میں ہوا فیصلہ کن آخری مرحلہ
ٹور ڈی فرانس فیمز کا پانچواں ایڈیشن 99.2 کلومیٹر طویل پہاڑی آخری مرحلے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ نیس سے شروع ہو کر نیس میں ہی ختم ہونے والے اس روٹ پر رائیڈرز کو مجموعی طور پر 2,100 میٹر کی چڑھائی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں مشہور کول ڈی'ایج کی چار مرتبہ چڑھائی بھی شامل تھی۔
آخری مرحلے کے آغاز سے ہی ریس میں سخت مقابلہ رہا۔ برطانیہ کی جو بیک اسٹڈٹ نے ابتدائی حصے میں تیز رفتار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ریس کی سابق لیڈر مارلین روئزر کو کول ڈی'ایج کے دوسرے ڈاؤن ہل حصے میں حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت روئزر عمومی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر تھیں اور وولیرنگ سے 72 سیکنڈ پیچھے تھیں۔ حادثے کے بعد انہوں نے ریس مکمل کی، لیکن دوبارہ ٹائٹل کی دوڑ میں واپس نہیں آ سکیں۔
وولیرنگ اور نِویادوما-فینی کے درمیان ٹائٹل کی دوڑ
روئزر کے ریس سے باہر ہونے کے بعد ٹائٹل کی دوڑ بنیادی طور پر وولیرنگ اور پولینڈ کی رائیڈر کاتارژینا نِویادوما-فینی کے درمیان محدود ہوگئی۔ دونوں اس سے قبل بھی ٹور ڈی فرانس فیمز جیت چکی ہیں اور اس بار بھی پوری ریس کے دوران دونوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری رہا۔
وولیرنگ نے ہفتے کے روز کی کارکردگی کو اتوار کو بھی جاری رکھا۔ انہوں نے آخری چڑھائی کی چوٹی تک پہنچنے سے کچھ دیر پہلے نِویادوما-فینی سے فاصلہ بنا لیا۔ اس کے بعد ڈاؤن ہل حصے میں انہوں نے اپنی برتری مزید بڑھا دی۔
آخرکار وولیرنگ نے اپنی حریفوں سے ایک منٹ سے زیادہ کی برتری کے ساتھ فِنش لائن عبور کی۔ رواں سال کی نو مرحلوں پر مشتمل ریس میں یہ ان کی تیسری اسٹیج جیت تھی۔
پیلی جرسی میں پہلی اسٹیج جیت
وولیرنگ کے لیے اس کامیابی کی خاص بات صرف دوسرا ٹور ٹائٹل جیتنا نہیں تھا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ پیلی جرسی پہن کر ٹور ڈی فرانس فیمز کا ایک مرحلہ جیتا۔
فتح کے بعد وولیرنگ نے کہا کہ پیلی جرسی میں جیتنا ان کا ایک خاص خواب تھا۔ انہوں نے ٹیم کے ساتھ محنت، جذبے اور اس کھیل سے جڑی زندگی کو بھی اپنی کامیابی کا حصہ قرار دیا۔
وولیرنگ کے لیے یہ کامیابی اس لیے بھی اہم رہی کیونکہ آخری دو مراحل میں ان کے اور نِویادوما-فینی کے درمیان کشیدہ صورتحال دیکھی گئی تھی۔
آٹھویں مرحلے کے تنازع کے بعد وولیرنگ کا جواب
ریس کے آٹھویں مرحلے کے دوران نِویادوما-فینی نے وولیرنگ کی ٹیم کی ساتھی سائیکلسٹ سیلیا گیری کے رویے پر اعتراض کیا تھا۔ پولش رائیڈر کا الزام تھا کہ گیری نے جان بوجھ کر انہیں راستے میں روکنے یا ہجوم کی جانب دھکیلنے جیسا رویہ اختیار کیا، جس سے ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا۔
اس واقعے پر نِویادوما-فینی ناراض تھیں اور انہوں نے اسے وولیرنگ کی ٹیم کی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا تھا۔ تاہم، آخری مرحلے میں کامیابی کے بعد وولیرنگ نے واضح کیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی فتح کو کسی تنازع یا واقعے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی ٹیم کی کارکردگی کی بنیاد پر دیکھا جائے۔
انہوں نے آخری مرحلے میں اکیلے آگے نکل کر کامیابی حاصل کی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ ٹیم کسی تنازع کے سہارے نہیں بلکہ کھیل کی بنیاد پر ٹائٹل جیتنے کی حقدار تھی۔
وولیرنگ اور نِویادوما-فینی کا مسلسل پوڈیم ریکارڈ
اس کامیابی کے ساتھ وولیرنگ اور نِویادوما-فینی نے ٹور ڈی فرانس فیمز کے ہر ایڈیشن میں پوڈیم پر رہنے کا اپنا ریکارڈ برقرار رکھا۔
31 سالہ نِویادوما-فینی ایک بار پھر ٹاپ تھری میں شامل ہوئیں۔ وہیں اٹلی کی 34 سالہ ایلیسا لونگو بورگھینی نے پہلی مرتبہ اس ریس میں ٹاپ تھری میں جگہ بنائی۔
ریس کے مختلف مراحل میں ٹائٹل کی صورتحال بدلتی رہی اور آخری دو دن تک فاتح کے حوالے سے مقابلہ کھلا رہا۔
مونٹ وینٹو نے ریس کا رخ بدلا
اس سال کے ٹور ڈی فرانس فیمز کی اہم خصوصیات میں سے ایک مونٹ وینٹو کی واپسی تھی۔ خواتین کی ریس کو 2022 میں اسٹیج ریس کے طور پر دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ رائیڈرز نے اس مشہور پہاڑ کا سامنا کیا۔
مونٹ وینٹو کے مشکل چڑھائی والے مرحلے نے نِویادوما-فینی کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بڑا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے انتہائی مشکل چڑھائی کے دوران مقابلہ کیا اور ماؤنٹین فِنش کے ذریعے وولیرنگ کو پیچھے چھوڑ کر پیلی جرسی حاصل کی۔
مونٹ وینٹو کی چڑھائی تاریخی طور پر بھی اہم ہے۔ یہی وہ پہاڑ ہے جہاں 1967 کے ٹور ڈی فرانس کے دوران برطانوی سائیکلسٹ ٹام سمپسن کی المناک موت ہوئی تھی۔
ریس میں مسلسل بدلتی رہی صورتحال
مونٹ وینٹو پر عمدہ کارکردگی کے بعد نِویادوما-فینی نے پیلی جرسی حاصل کی، لیکن ان کی برتری زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ اگلے ہی دن وولیرنگ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ ریس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
آخری مرحلے سے پہلے دونوں کے درمیان فرق صرف آٹھ سیکنڈ تھا۔ آخری چڑھائی کے بعد وولیرنگ اپنی حریف سے فاصلہ بنانے میں کامیاب رہیں۔
خواتین کی سائیکلنگ کا مسابقتی ایڈیشن
اس سال کا ٹور ڈی فرانس فیمز انتہائی مسابقتی ایڈیشنز میں سے ایک رہا۔ ریس کے منتظمین نے مختلف نوعیت کے پہاڑی اور تکنیکی راستے شامل کیے، جس سے مختلف صلاحیتوں رکھنے والی رائیڈرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
ریس میں مشکل پہاڑی چڑھائیوں سے لے کر تیز ڈاؤن ہل اور حکمت عملی پر مبنی مراحل تک سب کچھ شامل تھا۔ اسی وجہ سے عمومی درجہ بندی کی دوڑ آخری مرحلے تک کھلی رہی۔
وولیرنگ کی مسلسل دو اسٹیج فتوحات نے آخرکار نتیجہ ان کے حق میں کردیا، جبکہ نِویادوما-فینی اور دیگر رائیڈرز نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران انہیں چیلنج کیا۔
وولیرنگ کے کیریئر کی بڑی کامیابی
ڈیمی وولیرنگ کا دوسرا ٹور ڈی فرانس فیمز ٹائٹل ان کے کیریئر کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ وہ اب اس ریس کی تاریخ میں دو مرتبہ ٹائٹل جیتنے والی پہلی رائیڈر بن گئی ہیں۔
ان کی کامیابی نے ایف ڈی جے-سوئز ٹیم کی حکمت عملی اور مضبوط ٹیم ورک کو بھی نمایاں کیا۔ آخری مرحلے میں وولیرنگ نے اپنی انفرادی صلاحیت کے ساتھ ٹیم کی مدد سے فائدہ اٹھایا اور فیصلہ کن موقع پر اپنی حریف سے فاصلہ بنانے میں کامیاب رہیں۔
ٹور ڈی فرانس فیمز کے اس ایڈیشن میں ٹائٹل کی دوڑ آخری دن تک جاری رہی اور ٹاپ رائیڈرز کے درمیان فرق بھی بہت کم رہا۔







