امریکی صدر Donald Trump نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے نئے امن اور جنگ بندی کے تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے بحران، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عسکری سرگرمیوں نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے نمائندوں کا جواب پڑھا ہے، تاہم یہ انہیں “بالکل پسند نہیں آیا” اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اس بیان کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں کے معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔
ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی سفارتی تجویز بھیجی تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں خطے، خصوصاً لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے، ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جواب “مثبت اور عملی” ہے، تاہم اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی بڑے سمجھوتے سے انکار کیا ہے۔
امریکہ اس سے قبل ایران کو 14 نکاتی تجویز دے چکا تھا، جس میں اہم شرط یہ تھی کہ ایران کم از کم 12 برس تک یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کرے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران اپنے پاس موجود تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم حوالے کرے۔ اس کے بدلے امریکہ نے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی تھی۔
![]()
تاہم ایران نے اس تجویز کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا سب سے بڑا مرکز اب آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جو دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے تنازع کے باعث اس خطے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کئی ممالک کے جہازوں کو اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے ہیں، جس سے عالمی تیل سپلائی پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
خطے میں سلامتی کی صورتحال بھی مزید غیر مستحکم ہو رہی ہے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ طبی عملے کے متاثر ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے علاقے میں ڈرون حملوں اور جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔
United Arab Emirates اور Kuwait میں ڈرون الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ بعض ممالک نے ایران پر علاقائی عدم استحکام بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، فرانس یا برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں عسکری مداخلت میں اضافہ کیا تو اس کا “سخت اور فوری جواب” دیا جائے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس تزویراتی آبی گزرگاہ کی سلامتی کا حق صرف اسی کے پاس ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تازہ سفارتی تعطل عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع نہ ہوئے تو یہ کشیدگی بڑے عسکری یا اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اس صورتحال کے اثرات عالمی تیل منڈی، بین الاقوامی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے نظام پر براہِ راست دیکھے جا رہے ہیں۔









