بھارت اور انگلینڈ کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ایک روزہ سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن مقابلہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے۔ سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے۔ ٹاس جیت کر انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے۔
بھارت کے پاس نہ صرف سیریز جیتنے کا موقع ہے بلکہ لارڈز میں 22 برس سے جاری ایک روزہ فتح کے انتظار کو ختم کرنے کا بھی سنہری موقع موجود ہے۔
انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا
ٹاس کے موقع پر انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے کہا کہ ابتدائی حالات بیٹنگ کے لیے موزوں نظر آ رہے ہیں، اس لیے ان کی ٹیم پہلے رنز بنا کر بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔
انگلینڈ نے اپنی حتمی ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے۔ فاسٹ بولر ثاقب محمود کی جگہ جوش ٹنگ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم انتظامیہ کو امید ہے کہ ٹنگ اپنی رفتار اور اچھال سے بھارتی بلے بازوں کے لیے چیلنج ثابت ہوں گے۔
بھارت کے پاس تاریخ بدلنے کا موقع
بھارت نے لارڈز میں آخری مرتبہ 2004 میں ایک روزہ میچ جیتا تھا۔ اس کے بعد اس تاریخی میدان پر کھیلے گئے چار ایک روزہ میچوں میں بھارت کو تین شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایک میچ برابر رہا۔
لارڈز میں بھارت کا مجموعی ایک روزہ ریکارڈ متوازن ہے۔ بھارت نے یہاں اب تک نو ایک روزہ میچ کھیلے ہیں، جن میں چار فتوحات، چار شکستیں اور ایک میچ برابر رہا ہے۔ اگر بھارت یہ مقابلہ جیتتا ہے تو وہ طویل عرصے سے جاری انتظار کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیریز بھی اپنے نام کر لے گا۔
بھارت اور انگلینڈ کی ایک روزہ رقابت
بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ایک روزہ کرکٹ کی رقابت عالمی کرکٹ کی نمایاں رقابتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دونوں ٹیمیں کئی برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف متعدد یادگار مقابلے کھیل چکی ہیں۔
اس سیریز کے ابتدائی دو میچوں میں دونوں ٹیموں نے ایک، ایک کامیابی حاصل کی، جس کے باعث تیسرا میچ فیصلہ کن بن گیا ہے۔ دونوں ٹیموں میں تجربہ کار کھلاڑیوں اور نوجوان صلاحیتوں کا متوازن امتزاج موجود ہے۔
بھارتی ٹیم سے توقعات
بھارتی بیٹنگ کی ذمہ داری کپتان شبھمن گل، روہت شرما، ویرات کوہلی، شریاس آئر اور کے ایل راہول پر ہوگی۔ مڈل آرڈر میں شیوم دوبے اور اکشر پٹیل ٹیم کو توازن فراہم کریں گے۔
بولنگ میں جسپریت بمراہ بھارت کا سب سے اہم ہتھیار ہوں گے۔ ان کے ساتھ کلدیپ یادو، پرسدھ کرشنا اور گرنور برار انگلینڈ کے بلے بازوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
بھارت کی حکمت عملی ابتدائی وکٹیں حاصل کر کے انگلینڈ کو بڑا اسکور بنانے سے روکنے کی ہوگی۔
انگلینڈ کی مضبوط بیٹنگ لائن
میزبان انگلینڈ کی بیٹنگ لائن میں بین ڈکٹ، جیکب بیتھل، جو روٹ، کپتان ہیری بروک اور جوس بٹلر شامل ہیں۔
مڈل آرڈر میں سیم کرن اور ول جیکس تیزی سے رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بولنگ میں جوفرا آرچر، جوش ٹنگ، گس اٹکنسن اور عادل رشید بھارتی بلے بازوں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
انگلینڈ گھریلو حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی شراکتیں قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔
ممکنہ حکمت عملی
لارڈز کی پچ ابتدائی اوورز میں فاسٹ بولرز کو سوئنگ اور سیم موومنٹ فراہم کرتی ہے۔ تاہم میچ آگے بڑھنے کے ساتھ بیٹنگ نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔
اسی وجہ سے انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاکہ بڑا اسکور بنا کر بھارت پر ہدف کے تعاقب کا دباؤ ڈالا جا سکے۔ دوسری جانب بھارت ابتدائی وکٹیں حاصل کر کے انگلینڈ کی رن رفتار کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گا۔
ممکنہ پلیئنگ الیون
بھارت: روہت شرما، شبھمن گل (کپتان)، ویرات کوہلی، کے ایل راہول (وکٹ کیپر)، شریاس آئر، شیوم دوبے، اکشر پٹیل، کلدیپ یادو، جسپریت بمراہ، گرنور برار اور پرسدھ کرشنا۔
انگلینڈ: بین ڈکٹ، جیکب بیتھل، جو روٹ، ہیری بروک (کپتان)، جوس بٹلر (وکٹ کیپر)، سیم کرن، ول جیکس، گس اٹکنسن، جوفرا آرچر، جوش ٹنگ اور عادل رشید۔
اہم کھلاڑیوں پر نظریں
بھارتی کپتان شبھمن گل سے ایک بار پھر بڑی اننگز کی توقع ہوگی۔ روہت شرما اور ویرات کوہلی کی تجربہ کار جوڑی ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔
بولنگ میں جسپریت بمراہ کا ابتدائی اسپیل میچ کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ انگلینڈ کی جانب سے جو روٹ، ہیری بروک اور جوفرا آرچر پر خصوصی نظر رہے گی۔
فیصلہ کن مقابلہ
سیریز برابر ہونے کے باعث یہ مقابلہ تین میچوں کی ایک روزہ سیریز کے فاتح کا فیصلہ کرے گا۔ بھارت لارڈز میں 22 برس سے جاری ایک روزہ فتح کے انتظار کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ انگلینڈ اپنے ہوم گراؤنڈ پر سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کرے گا۔
دونوں ٹیمیں متوازن کمبینیشن کے ساتھ میدان میں اتری ہیں اور لارڈز ایک بار پھر عالمی کرکٹ کی دو مضبوط ٹیموں کے درمیان اہم مقابلے کی میزبانی کر رہا ہے۔







