مکل رائے کا کولکاتا میں 72 سال کی عمر میں کارڈیک اریسٹ کے باعث انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے شدید علیل تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کا انتقال رات تقریباً 2 بج کر 35 منٹ پر ہوا۔
انہیں طویل عرصے سے صحت کے مسائل درپیش تھے اور کولکاتا کے اپولو ہاسپٹل میں زیر علاج تھے۔ معالجین کے مطابق ان کی موت کارڈیک اریسٹ کے سبب ہوئی۔ ان کے انتقال کے بعد آل انڈیا ترنمول کانگریس اور مغربی بنگال کی سیاست میں سوگ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔
مکل رائے گزشتہ چند برسوں سے فعال سیاست سے دور تھے۔ 2023 کے آغاز میں ڈاکٹروں نے تصدیق کی تھی کہ وہ ڈیمینشیا اور پارکنسنز جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی اور جسمانی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی آ گئی تھی۔ بیماری کے سبب وہ طویل عرصے سے اسپتال میں زیر علاج تھے اور گزشتہ چند ماہ سے کومہ میں تھے۔
انہیں ترنمول کانگریس میں ممتا بنرجی کے بعد پارٹی کا اہم ترین رہنما سمجھا جاتا تھا۔ انہیں پارٹی کا بحران منتظم اور حکمت عملی ساز کہا جاتا تھا۔ وہ انتخابی حکمت عملی ترتیب دینے، بحرانوں کے حل اور پارٹی کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔
![]()
2010 کی دہائی میں ان کے اور ترنمول کانگریس کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ شاردا چٹ فنڈ معاملے جیسے تنازعات کے بعد وہ پارٹی سے دور ہو گئے۔ فروری 2015 میں انہیں نیشنل جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ستمبر 2017 میں انہوں نے ترنمول کانگریس سے استعفیٰ دے دیا اور نومبر 2017 میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ جون 2021 میں وہ دوبارہ ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔
مغربی بنگال کی سیاست میں انہیں ‘بنگال کے چانکیہ’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی حکمت عملی اور سیاسی فہم کے باعث انہیں ریاست اور پارٹی میں ایک اہم رہنما تصور کیا جاتا تھا۔ ان کے انتقال پر ترنمول کانگریس کے متعدد سینئر رہنماؤں اور دیگر سیاسی شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔
وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے انہیں پارٹی کا مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو یاد کیا۔ اس کے علاوہ مرکزی رہنماؤں اور دیگر ریاستوں کے سینئر رہنماؤں نے بھی سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔






