جھارکھنڈ کے دیوگھر میں واقع بابا بیدیاناتھ دھام میں شراونی میلہ اب آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے، تاہم عقیدت مندوں کے جوش و جذبے میں کمی نہیں آئی۔ ساون کے چوتھے پیر کو شیو، ساون اور پیر کے اتفاق نے بابادھام میں ایسا مذہبی ماحول پیدا کیا کہ شہر سے لے کر مندر احاطے تک ہر طرف کانوریوں اور عقیدت مندوں کی بھیڑ نظر آئی۔ بابا بیدیاناتھ کو جل ابھیشیک کرنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں شیو بھکت دیوگھر پہنچے۔ جاگرن کی رپورٹ کے مطابق، چوتھے پیر کے موقع پر دو لاکھ سے زیادہ کانوریوں کے بابادھام پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
ساون کے آخری مرحلے میں پہنچ چکے شراونی میلے کے دوران چوتھے پیر کو لے کر عقیدت مندوں میں پہلے ہی خاص جوش تھا۔ اتوار سے ہی دیوگھر میں کانوریوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی تھی۔ کندھے پر کانور، ہاتھوں میں گنگاجل اور زبان پر ’بول بم‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شیو بھکت بابا بیدیاناتھ کے دربار کی جانب بڑھتے رہے۔ مندر احاطے اور آس پاس کے علاقوں میں زعفرانی رنگ نمایاں رہا۔
دیوگھر ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھی میلے کے دوران بھیڑ کے انتظام اور عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ کی سرکاری معلومات کے مطابق، شراونی میلہ پورے ساون کے مہینے میں جاری رہتا ہے اور اس دوران لاکھوں عقیدت مند بابا بیدیاناتھ مندر پہنچتے ہیں۔ سلطان گنج سے گنگاجل لے کر کانوریے تقریباً 109 کلومیٹر کا پیدل سفر کرتے ہوئے بابادھام پہنچتے ہیں اور بابا بیدیاناتھ جیوتیرلنگ پر جل چڑھاتے ہیں۔
چوتھے پیر کو بابادھام کا ماحول صبح سے ہی مذہبی عقیدت سے معمور رہا۔ کانوریوں کے جتھے مسلسل مندر کی جانب بڑھتے رہے۔ راستے میں مختلف مقامات پر سروس کیمپوں کے ذریعے عقیدت مندوں کے لیے پانی، کھانے اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئیں۔ کانوریوں کے لیے کیے گئے انتظامات میں پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ رضاکار تنظیموں کے افراد بھی تعاون کرتے نظر آئے۔
شراونی میلے میں سلطان گنج سے گنگاجل بھر کر دیوگھر تک پیدل پہنچنا عقیدت مندوں کی آستھا کا اہم حصہ ہے۔ دیوگھر ضلع انتظامیہ کے مطابق، سلطان گنج سے بابادھام کا فاصلہ تقریباً 105 کلومیٹر ہے، جبکہ کانوریا راستے پر مجموعی پیدل سفر تقریباً 109 کلومیٹر بتایا گیا ہے۔ اس دوران راستے میں ’بول بم‘ کے نعروں سے پورا کانوریا پاتھ گونجتا رہتا ہے۔
چوتھے پیر کو بھیڑ کے پیش نظر انتظامیہ پہلے ہی چوکس رہی۔ مندر احاطے کے علاوہ کانوریا روٹ، داخلے اور اخراج کے راستوں پر بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ عقیدت مندوں کو قطار میں آگے بڑھایا گیا تاکہ ایک جگہ زیادہ بھیڑ جمع نہ ہو۔ شراونی میلہ 2026 کے لیے دیوگھر انتظامیہ نے نو انٹری زون، ڈیوٹی چارٹ اور میلے کے انتظام سے متعلق کئی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
بابا بیدیاناتھ مندر میں جل ابھیشیک کے لیے پہنچنے والے عقیدت مندوں میں چوتھے پیر کو لے کر خصوصی جوش دیکھا گیا۔ کئی کانوریوں نے بتایا کہ ساون کے پیر کو بابا کے درشن اور جل ابھیشیک کو وہ خصوصی ثواب کا موقع مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میلے کے آخری مرحلے میں پہنچنے کے باوجود عقیدت مندوں کی تعداد میں بڑی کمی نہیں آئی۔
دیوگھر کی سڑکوں پر کانوریوں کے جتھے مسلسل نظر آئے۔ کوئی پیدل بابا کا نام جپتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا تو کوئی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’بول بم‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔ کانوریا پاتھ پر عقیدت مندوں کی لمبی قطار اور زعفرانی لباس میں نظر آنے والے شیو بھکت پورے ماحول کو مذہبی رنگ دیتے رہے۔
شراونی میلے کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف جھارکھنڈ اور بہار ہی نہیں بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں سے بھی عقیدت مند پہنچتے ہیں۔ دیوگھر انتظامیہ کی ویب سائٹ کے مطابق، پورے ساون کے مہینے میں تقریباً 50 سے 55 لاکھ یاتریوں کے بابادھام آنے کا اندازہ رہتا ہے۔
چوتھے پیر کے پیش نظر ریلوے اور سڑک کے راستے سے بھی عقیدت مندوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا۔ اس سے قبل عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے بھاگلپور اور دیوگھر کے درمیان شراونی میلہ اسپیشل ٹرین چلانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ ٹرین بھاگلپور، بانکا، کٹوریا، چندن سمیت کئی علاقوں کے عقیدت مندوں کے لیے دیوگھر پہنچنے کا اضافی ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
عقیدت مندوں کی بھاری بھیڑ کے درمیان انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سکیورٹی اور بھیڑ کا انتظام رہا۔ مندر احاطے میں ایک ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں کے پہنچنے سے بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا نہ ہو، اس کے لیے بیریکیڈنگ اور قطار کے انتظام پر خصوصی توجہ دی گئی۔ میلے سے وابستہ افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کو مسلسل بھیڑ کی صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایات دی گئیں۔
شراونی میلے کے آخری مرحلے میں چوتھے پیر کا یہ منظر ایک بار پھر بابا بیدیاناتھ کے تئیں عقیدت مندوں کی آستھا کو ظاہر کرتا ہے۔ کئی کانوری طویل فاصلہ طے کرنے کے باوجود تھکن کو پیچھے چھوڑ کر مندر کی جانب بڑھتے رہے۔ ان کے چہروں پر سفر کی تھکن کے ساتھ بابا کے درشن اور جل ابھیشیک کی خوشی بھی نظر آتی رہی۔
دیوگھر میں پیر کے روز مندر کے آس پاس مذہبی سرگرمیاں بھی تیز رہیں۔ عقیدت مندوں نے بابا بیدیاناتھ کا جل ابھیشیک کرنے کے ساتھ پوجا ارچنا کی اور خاندان کی خوشحالی کی دعا کی۔ مندر احاطے کے آس پاس پھول مالا، پوجا کے سامان اور پرساد کی دکانوں پر بھی خاص چہل پہل رہی۔
اس دوران شراونی میلہ 2026 کے حوالے سے دیوگھر انتظامیہ کی تیاریاں بھی مسلسل جاری رہیں۔ انتظامیہ نے مندر اور داخلی دروازوں کی سجاوٹ، برقی سجاوٹ، بھیڑ کنٹرول اور عقیدت مندوں کی سہولت سے متعلق انتظامات پہلے ہی طے کیے تھے۔
چوتھے پیر کے ساتھ شراونی میلہ اب اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم آخری مرحلے میں بھی عقیدت مندوں کی تعداد کافی زیادہ رہنے کے باعث انتظامیہ کے سامنے انتظامات برقرار رکھنے کا چیلنج قائم ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی کانوریوں کی آمدورفت جاری رہنے کا امکان ہے۔
بابادھام میں چوتھے پیر کا دن مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ انتظامی تیاریوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان رہا۔ دو لاکھ سے زیادہ کانوریوں کے پہنچنے سے ایک بار پھر دیوگھر کی سڑکوں اور مندر کے علاقے میں عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوئی۔ ’بول بم‘، ’ہر ہر مہادیو‘ اور ’جے بابا بیدیاناتھ‘ کے نعروں سے پورا بابادھام گونجتا رہا۔
شراونی میلہ 2026 اب آخری مرحلے میں ہے، لیکن چوتھے پیر کو بابادھام میں جمع ہونے والی بھیڑ سے ظاہر ہوا کہ ساون کے آخری دنوں تک بابا بیدیاناتھ کے عقیدت مندوں کی آستھا برقرار ہے۔ دو لاکھ سے زیادہ کانوریوں کے پہنچنے سے دیوگھر میں مندر احاطے سے لے کر کانوریا پاتھ تک ’بول بم‘ کے نعرے سنائی دیتے رہے۔






