جنوبی ایران میں حادثے کا شکار ہونے والے امریکی F-15 فائٹر جیٹ کے پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے امریکہ نے ‘Ghost Murmur’ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ اس آپریشن میں CIA اور امریکی فوج شامل تھیں، جنہوں نے دو دن سے لاپتہ پائلٹ کی لوکیشن تقریباً 40 میل دور سے ٹریک کی۔ پائلٹ دشمن علاقے میں پہاڑی دراڑوں کے درمیان چھپا ہوا تھا، جبکہ ایرانی افواج اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔ مشکل جغرافیائی حالات میں روایتی طریقے مؤثر ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی F-15 فائٹر جیٹ کو جنوبی ایران میں مار گرایا گیا تھا۔ حادثے کے بعد Dude 44 Bravo کے نام سے شناخت کیے جانے والے پائلٹ نے ایرانی افواج سے بچنے کے لیے پہاڑی دراڑوں میں پناہ لے رکھی تھی۔ ایرانی سیکیورٹی ایجنسیاں مسلسل اس کی تلاش میں تھیں اور اس پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ ایسی صورتحال میں پائلٹ کو زندہ تلاش کرنا امریکی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔
اس پورے آپریشن میں ‘Ghost Murmur’ ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ نظام انسانی دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والے انتہائی باریک الیکٹرو میگنیٹک سگنلز کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں عام آلات سے پکڑنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ ٹیکنالوجی کوانٹم میگنیٹو میٹری اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتی ہے، جس کی مدد سے یہ بھیڑ یا شور میں بھی کسی ایک فرد کی دھڑکن کی شناخت کر سکتی ہے۔ کم الیکٹرو میگنیٹک مداخلت والے علاقوں میں یہ ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ‘Ghost Murmur’ نے تقریباً 40 میل دور سے پائلٹ کی درست لوکیشن کا پتہ لگایا۔ ریسکیو آپریشن میں سینکڑوں امریکی فوجی شامل تھے۔ مشن کے دوران کچھ طیارے پھنس گئے، جنہیں بعد میں تباہ کرنا پڑا۔ تاہم، آخرکار پائلٹ سمیت تمام امریکی اہلکار محفوظ واپس آنے میں کامیاب رہے۔







