مارچ 2026 میں سونے کی قیمت 17 سال کی بڑی گراوٹ کے ساتھ $4,600 فی اونس تک گر گئی

مارچ 2026 میں کومیکس مارکیٹ میں سونے کی قیمت $5,400 سے کم ہو کر $4,600 فی اونس ہو گئی، جس کے نتیجے میں 14.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو 17 سال کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ ڈالر انڈیکس کی مضبوطی، بانڈ ییلڈ میں اضافہ، منافع کی وصولی اور خام تیل کی قیمتوں می

مارچ 2026 میں سونے کی قیمتوں میں 17 سال کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مہینے کے آغاز میں کومیکس (Comex) مارکیٹ میں سونا $5,400 فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو مہینے کے اختتام تک گر کر تقریباً $4,600 فی اونس پر آ گیا۔ یہ 14.5 فیصد کی کمی ہے، جو اکتوبر 2008 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے، جب قیمتیں 16.8 فیصد تک کم ہوئی تھیں۔

اس کمی کی اہم وجوہات میں سب سے پہلی وجہ منافع کی وصولی ہے۔ گزشتہ مہینوں میں بلند قیمتوں کے دوران سرمایہ کاروں نے سونا فروخت کر کے اپنا منافع محفوظ کیا، جس کے باعث مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔

دوسری وجہ ڈالر انڈیکس کی مضبوطی ہے۔ امریکی ڈالر کے مضبوط ہونے سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر براہ راست دباؤ پڑا، کیونکہ سونے کی قیمت ڈالر میں طے کی جاتی ہے۔

تیسری وجہ بانڈ ییلڈ میں اضافہ ہے۔ سرکاری بانڈز پر ملنے والے منافع میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ سونے سے ہٹ کر بانڈز کی طرف منتقل ہو گئی۔

چوتھی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ دیگر کموڈیٹیز کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنی سرمایہ کاری زیادہ منافع دینے والے متبادل ذرائع کی طرف منتقل کی، جس سے سونے کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔

کموڈیٹی ماہر انوج گپتا کے مطابق، گزشتہ چار سالوں میں سونے کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ یوکرین جنگ سے پہلے ڈالر اور سونے کے درمیان الٹا تعلق تھا، یعنی ڈالر کم ہونے پر سونا بڑھتا تھا۔ تاہم 2025 اور 2026 کے آغاز میں یہ رجحان تبدیل ہو گیا۔

ایران جنگ کے آغاز کے بعد سونے نے دوبارہ اپنا پرانا رجحان اختیار کر لیا ہے۔ اس وقت جیسے ہی ڈالر انڈیکس اور بانڈ ییلڈ میں اضافہ ہو رہا ہے، سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ سونا دوبارہ بیرونی معاشی اور جغرافیائی سیاسی عوامل سے متاثر ہو رہا ہے۔

تاہم طویل مدتی بنیادوں پر سونے کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ڈالر کے مقابلے میں سونے کی قیمتوں میں 45 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں بھی تقریباً 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس کمی کو نئی سرمایہ کاری کے موقع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے باوجود طویل مدتی رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

سونے کی قیمتوں میں بہتری اس وقت متوقع ہے جب ڈالر انڈیکس کمزور ہوگا اور بانڈ ییلڈ مستحکم ہوں گی۔ موجودہ عالمی معاشی اور سیاسی حالات سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a comment