Fake Login Request کے ذریعے اکاؤنٹ تک رسائی کی کوشش، Google کی وارننگ

Google Threat Intelligence Group نے Fake Login Request، Authentication Prompt اور Social Engineering کے ذریعے Microsoft Account اور WhatsApp صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم پیشہ افراد کے طریقے بھی مسلسل جدید ہو رہے ہیں۔ Google Threat Intelligence Group نے حال ہی میں ایسی سائبر مہمات کے بارے میں خبردار کیا ہے، جن میں حملہ آور جائز Login اور Account Linking فیچرز کا غلط استعمال کرکے صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور کلاؤڈ سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم پیشہ افراد نے صارفین کو نشانہ بنانے کے نئے طریقے تلاش کر لیے ہیں۔ اب ایسے سائبر حملوں سے محتاط رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے، جن میں ہیکرز براہ راست Password چوری کرنے کے بجائے Fake Login یا Authentication Request کے ذریعے خود صارف سے اکاؤنٹ تک رسائی کا راستہ کھلواتے ہیں۔

Microsoft Account اور WhatsApp جیسے مقبول پلیٹ فارمز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اس طرح کے حملے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ سائبر جرائم پیشہ افراد Social Engineering کا استعمال کرکے صارف کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے اکاؤنٹ پر معمول کا Login یا Security Check جاری ہے۔ جلد بازی میں لیا گیا ایک غلط فیصلہ اکاؤنٹ کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

Fake Login Request کے ذریعے اکاؤنٹ تک رسائی کی کوشش

Fake Login Request پر مبنی سائبر حملے میں مجرم سب سے پہلے صارف کے اکاؤنٹ پر Login یا Authentication سے متعلق Request بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ Request کئی مرتبہ عام Security Alert جیسی دکھائی دے سکتی ہے۔ صارف کو محسوس ہوسکتا ہے کہ اس نے خود کسی دوسرے ڈیوائس پر Login شروع کیا ہے۔ اگر وہ معلومات کی تصدیق کیے بغیر اس Request کو Approve کردیتا ہے تو حملہ آور کو اکاؤنٹ میں داخل ہونے کا راستہ مل سکتا ہے۔

اسی لیے کسی بھی Login Request یا Authentication Prompt کو صرف اس وجہ سے قبول نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سرکاری یا معمول کے مطابق دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ Login واقعی صارف نے ہی شروع کیا ہے یا نہیں۔

Microsoft Account صارفین محتاط رہیں

Microsoft Account بہت سے صارفین کے لیے صرف Email تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ OneDrive جیسی Cloud Storage Services، دستاویزات اور دیگر ڈیجیٹل سروسز تک رسائی بھی منسلک ہوسکتی ہے۔ اکاؤنٹ پر کنٹرول حاصل ہونے کی صورت میں ذاتی معلومات اور اہم فائلیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

سائبر جرائم پیشہ افراد صارف کو الجھن میں ڈالنے کے لیے بار بار Authentication Request بھیج سکتے ہیں۔ اگر صارف نے خود کوئی Login شروع نہیں کیا اور اس کے باوجود مسلسل غیر متوقع Security Request موصول ہورہی ہیں تو انہیں نظر انداز کرنے کے بجائے اکاؤنٹ کی Security Activity چیک کرنی چاہیے۔

کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں Password تبدیل کرنا، نامعلوم ڈیوائسز سے Sign-out کرنا اور دستیاب Security Options کا جائزہ لینا مفید اقدامات ہوسکتے ہیں۔

WhatsApp اکاؤنٹ بھی نشانے پر ہوسکتا ہے

WhatsApp صارفین بھی Social Engineering پر مبنی حملوں کا سامنا کرسکتے ہیں۔ سائبر جرائم پیشہ افراد اکثر صارف کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے نمبر یا اکاؤنٹ کی Verification کی جارہی ہے۔ اس دوران حملہ آور OTP، Verification Code یا کسی Authentication Request کو قبول کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

اگر صارف نے حساس Code کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر کردیا یا کسی نامعلوم Verification Process کو منظوری دے دی تو اکاؤنٹ پر کنٹرول کھونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ایسے معاملات میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ OTP یا Verification Code کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کیا جائے، چاہے سامنے والا شخص خود کو کمپنی کا ملازم، Support Agent یا کوئی جاننے والا شخص ہی کیوں نہ بتائے۔

مضبوط Password کے باوجود خطرہ کیسے ہوسکتا ہے؟

Fake Login Request پر مبنی حملوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں ہر بار Password چوری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ مجرم صارف کی جلد بازی، خوف یا اعتماد کا فائدہ اٹھا کر اسی سے Authentication Process مکمل کروا لیتے ہیں۔

یعنی مضبوط Password ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص مشتبہ Login Request کو Approve کردیتا ہے تو اکاؤنٹ کی سیکیورٹی متاثر ہوسکتی ہے۔ اسے Social Engineering کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے، جس میں تکنیکی کمزوری کے بجائے انسانی غلطی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

Google Threat Intelligence Group کی وارننگ

Google طویل عرصے سے صارفین کو Phishing اور Social Engineering جیسے سائبر خطرات کے بارے میں آگاہ کرتا رہا ہے۔ جدید سائبر حملوں میں مجرم اکثر Fake Alert، جعلی Message اور قابلِ اعتماد دکھائی دینے والے Notification کا استعمال کرتے ہیں۔

اس لیے کسی بھی Security Alert پر فوری کارروائی کرنے کے بجائے پہلے اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے۔ اگر صارف نے خود کوئی Login شروع نہیں کیا تو نامعلوم Authentication Request کو Approve نہیں کرنا چاہیے۔

Leave a comment