پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا دوسرا ہفتہ پیر سے شروع ہو گیا ہے۔ آج لوک سبھا میں عوامی امتحانات میں پیپر لیک اور غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال کی روک تھام سے متعلق ایک اہم ترمیمی بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف انفئیر مینز) ترمیمی بل کو مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ ایوان میں پیش کریں گے۔ اس بل کا بنیادی مقصد عوامی امتحانات میں پیپر لیک، نقل اور دیگر بے ضابطگیوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں مسابقتی اور عوامی امتحانات کی شفافیت پر مسلسل بحث جاری رہی ہے۔ پیپر لیک کے واقعات اور امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متعدد مرتبہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس تناظر میں مجوزہ ترمیم کو امتحانی نظام کو زیادہ محفوظ اور جوابدہ بنانے کی سمت ایک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
آج لوک سبھا کی کارروائی کے دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ لوک پریکشا (انوچت سادنوں کی روک تھام) ایکٹ، 2024 میں ترمیم سے متعلق بل پیش کریں گے۔ حکومت اس سلسلے میں پہلے ہی نوٹیفکیشن جاری کر چکی ہے۔ مجوزہ قانون کا وسیع مقصد عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال کو روکنا اور امتحانی عمل کی ساکھ برقرار رکھنا ہے۔
![]()
امتحانات میں نقل، سوالیہ پرچہ لیک کرنے یا امتحانی نظام کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں سے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت اس شعبے میں قانونی دفعات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دے رہی ہے۔
دریں اثنا، راجیہ سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید ناصر حسین نے ضابطہ 267 کے تحت التوا کی تحریک کا نوٹس دیا ہے۔ اس میں 20 جولائی 2026 کو دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔
نوٹس میں مبینہ طور پر پیلیٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ ساتھ خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپوزیشن رکن پارلیمنٹ نے اس معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ سے جوابدہی طے کرنے اور پولیس کارروائی کے اختیارات سے متعلق امور پر تفصیلی بیان دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وزیر اعظم ایوان میں بیان دے کر یقین دہانی کرائیں کہ ملک میں پرامن احتجاج کے آئینی حق کا تحفظ کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوسرے ہفتے کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان متعدد معاملات پر سیاسی اختلافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ ایک جانب حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات اور پیپر لیک جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کو آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن طلبہ کے احتجاج اور مبینہ پولیس کارروائی کے معاملات پارلیمنٹ میں اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس تناظر میں آج کی پارلیمانی کارروائی اہم رہنے کی توقع ہے۔ لوک سبھا میں پیپر لیک کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل کی پیشی اور راجیہ سبھا میں طلبہ کے احتجاج پر بحث کے مطالبے کے درمیان پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔








