نئی تحقیق میں گریٹ پیرامڈ کی تعمیر کے لیے چار داخلی اسپائرل ریمپ استعمال ہونے کا دعویٰ

Nature میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق مصر کے گریٹ پیرامڈ کی تعمیر کے دوران چار داخلی اسپائرل ریمپ استعمال کیے گئے تھے۔ محقق کے مطابق یہ ماڈل تقریباً 27 سالہ تعمیراتی مدت کے تاریخی اندازے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

مصر کے عظیم اہرام (گریٹ پیرامڈ) کی تعمیر سے متعلق نئی تحقیق نے ایک طویل عرصے سے جاری تاریخی بحث کو نئی جہت دے دی ہے۔ محقق وِسینتے لوئس روسیل روئیگ کے مطابق اہرام کے اندر چار الگ الگ اسپائرل ریمپ تعمیر کیے گئے تھے، جن کی مدد سے متعدد مزدور ٹیمیں بیک وقت بھاری پتھروں کو اوپری حصوں تک پہنچا سکتی تھیں۔ کمپیوٹر ماڈلنگ کی بنیاد پر پیش کیا گیا یہ نظریہ تعمیر کی تاریخی مدت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

گریٹ پیرامڈ کی تعمیر سے متعلق نئی تحقیق

مصر کے گیزا میں واقع گریٹ پیرامڈ کی تعمیر کے بارے میں صدیوں سے جاری مباحثے کے دوران سامنے آنے والی اس نئی تحقیق نے تاریخی معمہ سمجھنے کے لیے ایک نیا زاویہ پیش کیا ہے۔ معروف سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، پیرامڈ کی تعمیر کے دوران اس کے اندر چار مختلف اسپائرل ریمپ استعمال کیے گئے تھے۔ یہ مطالعہ قدیم مصری انجینیئرنگ کی صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے ایک نیا نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔

تقریباً 4,500 سال قبل فرعون خوفو کے لیے تعمیر کیا گیا گریٹ پیرامڈ دنیا کی نمایاں ترین تعمیرات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مصر کا سب سے بڑا پیرامڈ ہے اور اس کی تعمیر میں تقریباً 23 لاکھ پتھر استعمال کیے گئے تھے۔ ان پتھروں کا وزن اوسطاً 2.5 ٹن سے 15 ٹن تک بتایا جاتا ہے۔ مؤرخین کے اندازوں کے مطابق اس کی تعمیر خوفو کے تقریباً 27 سالہ دورِ حکومت کے دوران مکمل ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے کہ محدود وسائل اور ٹیکنالوجی کے باوجود اتنی عظیم الشان عمارت نسبتاً کم عرصے میں کیسے تعمیر کی گئی۔

چار ریمپ تعمیراتی رفتار بڑھانے کا ذریعہ بنے ہوں گے

نئی تحقیق کے مطابق اہرام کے اندر چار مختلف گھومنے والے ریمپ بنائے گئے تھے، جو مختلف مقامات سے شروع ہو کر اوپری حصوں تک پہنچتے تھے۔ اس انتظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ کئی مزدور ٹیمیں ایک ہی وقت میں مختلف راستوں کے ذریعے پتھروں کو اوپر منتقل کر سکتی تھیں۔

محقق کے مطابق اگر صرف ایک ریمپ استعمال کیا جاتا تو تعمیر مکمل ہونے میں تقریباً 50 سال لگ سکتے تھے، جو تاریخی مدت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کمپیوٹر ماڈلنگ پر مبنی تجزیے سے معلوم ہوا کہ چار ریمپوں پر مشتمل ماڈل تعمیر کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر سکتا تھا۔ اس کے ذریعے بڑی تعداد میں پتھروں کو بیک وقت مختلف سطحوں تک پہنچانا ممکن ہو جاتا اور منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جا سکتا تھا۔

پرانے نظریات پر مسلسل سوالات

گریٹ پیرامڈ کی تعمیر کے حوالے سے اب تک متعدد نظریات پیش کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ معروف نظریہ بیرونی ریمپوں کا ہے، جس کے مطابق بڑے ڈھلوانی راستوں کے ذریعے پتھروں کو اوپر منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم اس نظریے کی بڑی کمزوری یہ سمجھی جاتی رہی ہے کہ اتنے بڑے ریمپوں کی تعمیر کے لیے بڑی مقدار میں اضافی مواد درکار ہوتا اور ان کے کچھ آثار آج بھی موجود ہونے چاہیے تھے۔

ایک اور نظریے میں اہرام کے اندر صرف ایک داخلی ریمپ ہونے کی بات کی گئی تھی۔ تاہم نئی تحقیق کے مطابق صرف ایک ریمپ مطلوبہ تعمیراتی رفتار فراہم نہیں کر سکتا تھا۔ اسی وجہ سے چار متوازی ریمپوں کا تصور زیادہ قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ دلچسپ اور ممکنہ طور پر قابلِ غور ضرور ہے، لیکن اسے حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مستقبل میں اہرام کے اندر جدید اسکیننگ اور ساختی تحقیقات ایسے شواہد فراہم کر سکتی ہیں جو اس ماڈل کی تصدیق کریں۔ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف گریٹ پیرامڈ کی تعمیر کے معمہ کو حل کرنے میں مدد دے گا بلکہ قدیم مصر کی تعمیراتی تکنیکوں کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

Leave a comment