Hayabusa2 5 جولائی کو Torifune asteroid کے قریب تیز رفتار flyby انجام دے گا

جاپان کا Hayabusa2 خلائی جہاز 5 جولائی کو Torifune asteroid کے قریب تیز رفتار flyby انجام دے گا۔ اس مشن کے دوران سائنسی ڈیٹا، اعلیٰ معیار کی تصاویر اور autonomous navigation ٹیکنالوجی کی جانچ کے ساتھ asteroid کے مطالعے اور planetary defence سے

جاپان کا Hayabusa2 خلائی جہاز 5 جولائی کو Torifune asteroid کے انتہائی قریب سے تیز رفتار flyby انجام دے گا۔ اس توسیعی مشن کا مقصد نئی autonomous navigation ٹیکنالوجی کی جانچ، asteroid کا مطالعہ اور مستقبل کی planetary defence تیاریوں کے لیے اہم سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔

اس مشن کے دوران Hayabusa2 سائنسی ڈیٹا اور اعلیٰ معیار کی تصاویر جمع کرے گا۔ یہ مشن مستقبل کے asteroid exploration، autonomous navigation اور ممکنہ planetary defence مشنز کے لیے ایک اہم تکنیکی آزمائش بھی سمجھا جا رہا ہے۔

ریکارڈ حد تک قریب Flyby سے مشن کے نئے مرحلے کا آغاز

جاپان کی خلائی ایجنسی JAXA کا Hayabusa2 خلائی جہاز 5 جولائی کو Torifune asteroid کے انتہائی قریب سے گزرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ خلائی تحقیق کے حوالے سے یہ flyby انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ خلائی جہاز asteroid سے تقریباً 1 سے 10 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔ تقریباً 5.3 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہونے والا یہ تیز رفتار flyby فعال asteroid مشنز میں سب سے زیادہ چیلنجنگ کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اتنے کم فاصلے پر کامیاب navigation اور سائنسی مشاہدات مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے نئی امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔

Hayabusa2 اس سے قبل Ryugu asteroid سے نمونے جمع کرکے انہیں محفوظ طریقے سے زمین تک پہنچا چکا ہے، جسے خلائی سائنس میں ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ اب یہی خلائی جہاز اپنے توسیعی مشن کے تحت نئے asteroid کے مطالعے کے لیے گہرے خلاء میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

Torifune سے متعلق کئی سوالات کے جواب تلاش کیے جائیں گے

Torifune، جسے پہلے 2001 CC21 کے نام سے جانا جاتا تھا، تقریباً 450 میٹر چوڑا زمین کے قریب موجود asteroid ہے۔ اس کے حجم، سطح، ساخت اور تشکیل کے عمل کے بارے میں سائنس دانوں کے پاس اس وقت محدود معلومات موجود ہیں۔ اسی وجہ سے اس flyby کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

مشن کے دوران Hayabusa2 اپنے onboard کیمروں اور سائنسی آلات کی مدد سے asteroid کی سطح، شکل، ساخت اور کیمیائی ترکیب کا مطالعہ کرے گا۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ asteroid جاپان کے پہلے Hayabusa مشن کے ذریعے مطالعہ کیے گئے Itokawa سے مشابہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کی اصل ساخت مکمل طور پر مختلف بھی ہو سکتی ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق Torifune ایک "Contact Binary" بھی ہو سکتا ہے، یعنی دو چھوٹے فلکیاتی اجسام کے آہستہ آہستہ آپس میں مل کر بننے والا مشترکہ asteroid۔ اگر ایسا ثابت ہوتا ہے تو یہ دریافت چھوٹے فلکیاتی اجسام کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے میں نئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

Planetary Defence ٹیکنالوجی کے لیے بھی اہم مشن

Hayabusa2 کا یہ مشن صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں ہے۔ انتہائی زیادہ رفتار سے گزرتے ہوئے کم وقت میں asteroid کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت مستقبل کی planetary defence حکمت عملیوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

اگر مستقبل میں کوئی بڑا asteroid زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو سائنس دانوں کو بہت کم وقت میں اس کی سمت، حجم، کثافت اور ساخت کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ Hayabusa2 کا یہ flyby ایسی صورتحال کے لیے درکار ٹیکنالوجیز کا عملی امتحان بھی ہے۔ اسی نوعیت کی ٹیکنالوجیز مستقبل میں NASA کے DART جیسے asteroid deflection مشنز کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس مشن کے دوران autonomous navigation system کا بھی سخت امتحان لیا جائے گا۔ انتہائی زیادہ رفتار کے باوجود خلائی جہاز کو انسانی مداخلت کے بغیر درست راستے پر برقرار رکھنا ایک اہم تکنیکی کامیابی ہوگی۔

2031 تک جاری رہے گا Hayabusa2 کا سفر

Torifune flyby کے بعد بھی Hayabusa2 کا مشن ختم نہیں ہوگا۔ اپنے توسیعی پروگرام کے دوران یہ خلائی جہاز zodiacal light اور exoplanets سے متعلق متعدد سائنسی مشاہدات کر چکا ہے۔

مشن کا اگلا بڑا ہدف 1998 KY26 نامی انتہائی چھوٹا asteroid ہے، جہاں اس کے 2031 میں پہنچنے کی توقع ہے۔ تقریباً 11 میٹر چوڑا یہ asteroid اب تک کسی بھی خلائی جہاز کے ذریعے مطالعہ کیے گئے سب سے چھوٹے asteroids میں شامل ہو سکتا ہے۔ سائنس دان اس چھوٹے اور تیزی سے گھومنے والے فلکیاتی جسم پر ممکنہ لینڈنگ کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

اگر یہ توسیعی مشن کامیاب رہتا ہے تو Hayabusa2 خلائی تاریخ کے سب سے کامیاب اور طویل عرصے تک فعال رہنے والے asteroid exploration مشنز میں اپنی جگہ مزید مضبوط کرے گا۔ یہ مشن نہ صرف خلائی سائنس کو نئی معلومات فراہم کرے گا بلکہ مستقبل میں زمین کے تحفظ سے متعلق asteroid مشنز کے لیے اہم تکنیکی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔

Leave a comment