ہماچل میں آئی بی پی ایس امتحان میں پراکسی امیدوار بٹھانے کے الزام میں دو بینک ملازمین کے خلاف سی بی آئی کی ایف آئی آر

ہماچل پردیش میں آئی بی پی ایس امتحان میں اپنی جگہ پراکسی امیدوار بٹھا کر بینک کی ملازمت حاصل کرنے کے مبینہ معاملے میں سی بی آئی نے دو بینک ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ دونوں نے تقریباً تین سال تک بینک میں کام کیا اور اب امتحانی ریکارڈ، شنا
ہماچل میں آئی بی پی ایس امتحان میں پراکسی امیدوار بٹھانے کے الزام میں دو بینک ملازمین کے خلاف سی بی آئی کی ایف آئی آر
Photo Credit / Attribution: Google

ہماچل پردیش میں بینک کی ملازمت حاصل کرنے کے لیے آئی بی پی ایس امتحان میں مبینہ طور پر پراکسی امیدوار بٹھانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ دو امیدواروں نے خود امتحان دینے کے بجائے اپنی جگہ دوسرے افراد کو بٹھا کر امتحان پاس کیا اور اس کے بعد بینک میں ملازمت حاصل کرلی۔ تقریباً تین سال بعد معاملہ تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے آنے کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے دونوں بینک ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

آئی بی پی ایس امتحان میں پراکسی امیدواروں کی مدد لینے کا الزام

بتایا جارہا ہے کہ دونوں ملزمان نے آئی بی پی ایس کی بھرتی کے امتحان میں مبینہ طور پر پراکسی امیدواروں کی مدد لی تھی۔ امتحان میں انتخاب کے بعد دونوں کو ہماچل پردیش میں بینک کی ملازمت مل گئی اور وہ تقریباً تین سال تک ملازمین کے طور پر کام کرتے رہے۔ بعد میں تحقیقات کے دوران امتحان سے متعلق ریکارڈ اور شناخت سے متعلق معلومات میں مبینہ تضادات سامنے آنے کے بعد معاملہ سی بی آئی تک پہنچا۔

تحقیقاتی ایجنسی نے ابتدائی حقائق کی بنیاد پر دونوں ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ امتحان کے دوران شناخت کی تصدیق کا عمل موجود ہونے کے باوجود مبینہ پراکسی امیدوار امتحانی مرکز تک کیسے پہنچے اور امتحان دینے میں کیسے کامیاب ہوئے۔

شناخت کی تصدیق کا عمل بھی تحقیقات کے دائرے میں

بینکنگ شعبے کے بھرتی امتحانات میں امیدوار کی تصویر، دستخط، شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کسی امیدوار کی جگہ کسی دوسرے شخص نے امتحان دیا تو امتحانی عمل میں مبینہ طور پر ہونے والی خامی کی تحقیقات اہم ہوں گی۔ سی بی آئی اب اس پورے واقعے کی کڑیوں کو جوڑنے میں مصروف ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کی ایف آئی آر میں دونوں بینک ملازمین پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور امتحان میں بے ضابطگی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اب یہ معلوم کرنے کی کوشش ہوگی کہ دونوں امیدواروں نے پراکسی امیدواروں کا انتظام خود کیا تھا یا کسی درمیانی شخص یا گروہ کی مدد لی تھی۔ اگر تحقیقات میں کسی منظم نیٹ ورک کا کردار سامنے آتا ہے تو معاملے کا دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

تین سال تک بینک میں ملازمت کرنے کا پہلو تحقیقات میں شامل

مبینہ جعلی طریقے سے انتخاب حاصل کرنے کے بعد دونوں افراد کا بینک میں تقریباً تین سال تک ملازمین کے طور پر کام کرنا بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ اگر الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو امتحان میں مبینہ دھوکہ دہی کا فائدہ صرف انتخاب تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ذریعے بینک میں ملازمت بھی حاصل کی گئی۔

تین سال تک ملازمت کرنے کے بعد معاملہ سامنے آنے کی وجہ سے بھرتی کے نظام کی نگرانی اور تقرری کے بعد تصدیق کے عمل کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

امتحان اور تقرری کے ریکارڈ کی جانچ کا امکان

سی بی آئی امتحان سے متعلق اصل ریکارڈ کی جانچ کرسکتی ہے۔ ان میں درخواست فارم، امتحانی مرکز کا ریکارڈ، امیدوار کی تصویر اور دستخط، بایومیٹرک یا شناخت کی تصدیق سے متعلق دستاویزات اور انتخاب کے بعد بینک میں جمع کرائے گئے ریکارڈ شامل ہوسکتے ہیں۔

ان دستاویزات کا موازنہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ امتحان دینے والا شخص اور ملازمت حاصل کرنے والا ملازم ایک ہی شخص تھا یا نہیں۔ امتحانی مرکز سے متعلق ریکارڈ بھی تحقیقات کا اہم حصہ ہوسکتے ہیں۔

امتحان کے دوران امیدواروں کی آمد، شناخت کی جانچ، حاضری اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب ہونے کی صورت میں ان سے بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اگر امتحان کے وقت لی گئی تصویر اور بعد میں بینک کی ملازمت کے دوران ملازم کے ریکارڈ میں موجود تصویر میں فرق پایا جاتا ہے تو یہ تحقیقات میں اہم ثبوت بن سکتا ہے۔ تاہم حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

آئی بی پی ایس کی بھرتی کے امتحانات تحقیقات کے اہم حصے میں

آئی بی پی ایس یعنی انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن ملک کے مختلف بینکوں میں بھرتی کے لیے امتحانات منعقد کرتا ہے۔ موجودہ وقت میں بھی آئی بی پی ایس کی جانب سے مختلف بینکنگ بھرتی کے عمل جاری ہیں۔ آئی بی پی ایس کی سرکاری ویب سائٹ پر 2026 میں سی آر پی-آر آر بی ایس-ایکس وی سے متعلق اپ ڈیٹس بھی جاری کی گئی ہیں۔

بینکنگ امتحانات میں انتخاب کے لیے بڑی تعداد میں امیدوار درخواست دیتے ہیں اور امتحانی عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی امیدوار کی جگہ دوسرے شخص کا امتحان دینا پورے بھرتی کے عمل سے متعلق بے ضابطگی کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص جعلی طریقے سے انتخاب حاصل کرتا ہے تو حقیقی اہلیت رکھنے والا امیدوار ملازمت سے محروم ہوسکتا ہے۔

پراکسی امیدواروں کو رقم دی گئی یا نہیں، اس کی بھی جانچ ممکن

سی بی آئی کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آسکتا ہے کہ مبینہ پراکسی امیدواروں نے امتحان دینے کے لیے کتنی رقم لی تھی یا اس پورے عمل کے پیچھے کوئی مالی لین دین ہوا تھا۔ اگر رقم کے لین دین کے ثبوت ملتے ہیں تو بینک ریکارڈ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور متعلقہ افراد کے رابطوں کی بھی جانچ کی جاسکتی ہے۔

اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ معاملہ صرف دو امیدواروں تک محدود تھا یا اس کے پیچھے کسی بڑے نیٹ ورک کا کردار تھا۔

تین سال کا وقفہ بھی تحقیقات کا اہم پہلو

اس معاملے میں تین سال کا وقفہ بھی تحقیقات کا اہم پہلو ہے۔ سی بی آئی یہ جانچ کرسکتی ہے کہ شکایت کس بنیاد پر سامنے آئی اور کس سطح کی تحقیقات کے بعد معاملہ مرکزی ایجنسی تک پہنچا۔ تقرری کے وقت دونوں ملازمین کی دستاویزات کی تصدیق کس طرح کی گئی تھی، یہ بھی تحقیقات کا حصہ بن سکتا ہے۔

تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ یہ بھی واضح ہوسکتا ہے کہ مبینہ پراکسی امیدوار کون تھے اور انہوں نے امتحانی مرکز تک پہنچنے کے لیے کن دستاویزات کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ امتحان کے بعد انتخاب کے عمل میں کسی مرحلے پر شناخت کی دوبارہ تصدیق کی گئی تھی یا نہیں۔

بینک میں تقرری کے بعد ملازمین کی دستاویزات اور امتحانی ریکارڈ کا موازنہ کس طرح کیا گیا، اس کی معلومات بھی تحقیقات کے لحاظ سے اہم ہوسکتی ہیں۔

الزامات ثابت ہونے پر تقرری پر اثر پڑسکتا ہے

اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو دونوں ملازمین کی تقرری پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔ تاہم صرف ایف آئی آر درج ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔ تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد اور آئندہ قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی الزامات کی تصدیق ہوگی۔

عدالت میں معاملہ جانے کے بعد استغاثہ کو مبینہ امتحانی فراڈ اور بینک میں تقرری کے درمیان تعلق بھی ثابت کرنا ہوگا۔

دیگر افراد کا کردار بھی تحقیقات میں سامنے آسکتا ہے

سی بی آئی کی ایف آئی آر کے بعد مبینہ جعلی امتحان سے لے کر بینک میں تقرری تک کا پورا عمل تحقیقات کا مرکز رہے گا۔ اگر ایجنسی کسی درمیانی شخص یا دیگر فرد کا کردار پاتی ہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اسی طرح اگر کسی امتحانی مرکز یا بھرتی کے عمل سے وابستہ شخص کی ملی بھگت کے شواہد ملتے ہیں تو تحقیقات اس سمت میں بھی آگے بڑھ سکتی ہیں۔

فی الحال سی بی آئی کی جانب سے درج ایف آئی آر اس معاملے کی تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ دونوں بینک ملازمین پر عائد الزامات کی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ مبینہ پراکسی امتحان کس طرح منعقد ہوا، اس میں کن افراد کا کردار تھا اور تین سال تک معاملہ سامنے کیوں نہیں آیا۔

تحقیقاتی ایجنسی امتحان کے ریکارڈ، شناختی دستاویزات، بینک میں تقرری سے متعلق کاغذات اور ممکنہ مالی لین دین کی جانچ کرسکتی ہے۔

 

Leave a comment