ہماچل پردیش کے 11 نوجوان اسکیٹرز کا انتخاب 2026 ایشین اوپن شارٹ ٹریک اسپیڈ اسکیٹنگ ٹرافی کے لیے بھارتی ٹیم میں کیا گیا ہے۔ اس کامیابی کو مزید خاص بنانے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی شملہ ضلع کے چیوگ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں مقامی دیہاتیوں نے کسی بھی سرکاری مالی معاونت کے بغیر اپنی کوششوں سے آئس اسکیٹنگ رِنک تعمیر کیا تھا۔ اب اسی رِنک پر تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑی بین الاقوامی مقابلے میں بھارت کی نمائندگی کریں گے۔
چیوگ کے کھلاڑیوں کی بھارتی ٹیم میں شمولیت
بھارتی ٹیم میں منتخب کھلاڑیوں میں تیجسوی کٹھیالا، رودر ویر گانگٹا، سمرتھ اتری، دیویانش ٹھاکر، آبھاس ورما، آدوک جگٹا، آرادھیا شرما، انیرُدھ چندیل، شُبھم ٹھاکر، وِکھیات کنور اور موکشا شرما شامل ہیں۔ ان میں سے چھ کھلاڑی چیوگ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ سات کھلاڑی باقاعدگی سے چیوگ کے آئس اسکیٹنگ رِنک میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے اتنی بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کا بھارتی ٹیم تک پہنچنا ہماچل پردیش کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔
دہرادون میں ہوگی ایشین اوپن ٹرافی
2026 ایشین اوپن شارٹ ٹریک اسپیڈ اسکیٹنگ ٹرافی 17 سے 20 اگست 2026 تک اتراکھنڈ کے دہرادون میں واقع ہیمادری آئس رِنک میں منعقد ہوگی۔ اس مقابلے میں بھارت سمیت 11 ایشیائی ممالک کے 200 سے زائد کھلاڑی حصہ لیں گے۔ مقابلے سے قبل بھارتی ٹیم کے تمام منتخب کھلاڑی 21 جولائی سے شروع ہونے والے تربیتی کیمپ میں شرکت کریں گے، جہاں انہیں بین الاقوامی معیار کی تیاری کرائی جائے گی۔
سرکاری مدد کے بغیر تعمیر کیا گیا آئس اسکیٹنگ رِنک
چیوگ کی یہ کامیابی صرف کھلاڑیوں کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ پورے گاؤں کی اجتماعی کوشش کی عکاس بھی ہے۔ تقریباً دو سال قبل مقامی دیہاتیوں نے کسی بھی سرکاری مالی معاونت کے بغیر پہاڑ کاٹ کر ہموار زمین تیار کی اور اجتماعی محنت سے آئس اسکیٹنگ رِنک تعمیر کیا۔ اس وقت شاید ہی کسی نے تصور کیا ہو کہ یہی رِنک مستقبل میں بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار کرے گا۔ آج یہ اقدام پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔
مقامی سہولیات نے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچایا
رِنک کی تعمیر سے پہلے کھلاڑیوں کو تربیت کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس سے وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہوتا تھا۔ مقامی سطح پر جدید تربیتی سہولت دستیاب ہونے کے بعد بچوں کو مسلسل تربیت ملی اور ان کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج چیوگ جیسے چھوٹے علاقے سے کئی کھلاڑی بھارتی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
کھیل حکام اور کوچز کی جانب سے سراہنا
آئس اسکیٹنگ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے عہدیداروں اور کوچز نے اس کامیابی کا سہرا مقامی دیہاتیوں، کھلاڑیوں کے والدین اور کوچز کو دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود دیہاتیوں نے جس جذبے کے ساتھ آئس اسکیٹنگ رِنک تعمیر کیا، وہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اگر ایسے اقدامات کو وسیع تعاون حاصل ہو تو بھارت میں سرمائی کھیلوں کا مستقبل مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
ہماچل میں سرمائی کھیلوں کی بڑھتی ہوئی شناخت
ہماچل پردیش اپنی جغرافیائی خصوصیات کے باعث سرمائی کھیلوں کے لیے موزوں ریاست مانی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں آئس اسکیٹنگ، اسکیئنگ اور دیگر سرمائی کھیلوں کے لیے نوجوانوں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی سطح پر تیار کی گئی کھیلوں کی سہولیات نے نئی صلاحیتوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کے باعث ریاست قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت مضبوط کر رہی ہے۔
بھارتی ٹیم سے توقعات
بھارتی ٹیم میں منتخب تمام کھلاڑی قومی سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اب ان سے ایشین اوپن ٹرافی میں بھی بہتر کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگر بھارتی کھلاڑی تمغے جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ صرف ہماچل پردیش ہی نہیں بلکہ پورے بھارت کے لیے باعثِ فخر ہوگا۔







