سعودی کے دو ہوائی اڈوں پر حوثی ڈرون اور میزائل حملے، 3 ہلاک؛ یمن میں 80 سے زائد ٹھکانے نشانہ

سعودی عرب کے ابہا اور کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حوثی ڈرون اور میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں 80 سے زائد حوثی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر حوثی حملے

سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حوثی باغیوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام کے مطابق 6 اور 7 اکتوبر کو ہونے والے ان حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ 36 دیگر زخمی ہوئے۔ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) نے بدھ کو حملوں اور جانی نقصان سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ حوثی تنظیم نے بھی دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حملوں کے بعد یمن میں حوثی فوجی ٹھکانوں کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا دعویٰ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کیا ہے۔ اتحاد کے مطابق یمن میں 80 سے زائد حوثی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ابہا ایئرپورٹ پر دو غیر ملکی شہری ہلاک

سعودی حکام کے مطابق ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں دو خواتین ہلاک ہوئیں۔ دونوں غیر ملکی شہری تھیں اور ان کا تعلق مراکش اور الجزائر سے بتایا گیا ہے۔ اس حملے میں مجموعی طور پر 28 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں میں سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش اور فلپائن کے شہری بھی شامل ہیں۔

حملے کے بعد تمام زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ سعودی سول ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مسافروں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ابہا ایئرپورٹ سعودی عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے اور یمن کی سرحد کے نسبتاً قریب ہونے کے باعث ماضی میں بھی حوثی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

کنگ خالد ایئرپورٹ بھی حملے کی زد میں

حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک ہوا۔

اس حملے میں آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان میں پانچ سعودی شہری، مصر کے دو باشندے اور ایک پاکستانی شہری شامل بتایا گیا ہے۔

دارالحکومت ریاض کے اہم بین الاقوامی ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد حکام نے مسافروں کی حفاظت اور پروازوں کے آپریشن کے حوالے سے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔

حوثیوں کا متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سری نے سعودی عرب کے متعدد مقامات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق تنظیم نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے تین بڑی فوجی کارروائیاں کیں۔

حوثی ترجمان کے دعوے کے مطابق پہلی کارروائی میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ حملہ اپنے ہدف تک پہنچا اور اس سے فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔

دوسری کارروائی میں ربیغ میں واقع سعودی آرامکو کی تیل تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ حوثی ترجمان نے کہا کہ حملے کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔

تیسری کارروائی میں ابہا ایئرپورٹ، خمیس مشیط ایئربیس اور عسیر کے علاقے میں واقع ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس کے علاوہ نجران اور جیزان میں بھی اہم ٹھکانوں پر حملے کیے جانے کی بات کہی گئی۔

ان تمام دعوؤں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں تھی۔

آرامکو کی تنصیب پر حملے کا دعویٰ

حوثیوں نے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے فوجی ترجمان نے ربیغ میں آرامکو کی ایک تیل تنصیب پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا۔

اس دعوے اور اس سے ہونے والے نقصان کی تفصیلی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

سعودی قیادت میں اتحاد کی جوابی کارروائی

ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثی ٹھکانوں کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا۔

اتحاد کے مطابق یمن میں 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب پر میزائل حملے کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک بیلسٹک میزائل لانچ پلیٹ فارم کو بھی تباہ کر دیا۔

اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق یہ کارروائی یمن کے دارالحکومت صنعا میں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ مقام سے سعودی عرب کے خلاف ایک اور حملے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی

یمن میں حوثی باغیوں اور حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا آیا ہے، جبکہ حوثی تنظیم ملک کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔

حالیہ واقعات میں یمن کی حکومت کی حمایت یافتہ فوج نے حوثیوں کے خلاف نئی فوجی کارروائی تیز کی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے اور باب المندب آبنائے کے اطراف میں واقع اہم تزویراتی علاقوں پر کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔

باب المندب دنیا کے اہم سمندری راستوں میں شامل ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سمندری تجارت کے لیے اہم ہے۔

موخا اور باب المندب کے علاقے میں فوجی صورتحال

رپورٹس کے مطابق ستمبر میں حوثی فورسز نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہوئے موخا اور باب المندب کے اطراف کئی اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھایا تھا۔

اس کے جواب میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے اکتوبر کے آغاز میں فوجی کارروائی تیز کی۔ 5 اکتوبر سے شروع ہونے والی کارروائی میں یمنی فوج نے باب المندب کے قریب ذباب کے علاقے سمیت کئی اہم تزویراتی مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

اس کے بعد سرکاری فورسز نے موخا کی جانب پیش قدمی کرنے اور شہر کو حوثی کنٹرول سے آزاد کرانے کا بھی دعویٰ کیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق سرکاری فورسز نے گزشتہ ماہ حوثیوں کے قبضے میں آنے والے کئی علاقوں سے انہیں پیچھے دھکیلا ہے۔

بحیرہ احمر اور علاقائی سلامتی پر اثرات

سعودی ایئرپورٹ پر حملے اور اس کے بعد یمن میں کی جانے والی جوابی فضائی کارروائی کے اثرات صرف دونوں فریقوں تک محدود نہیں ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کا علاقہ پہلے ہی عالمی تجارت اور بحری سلامتی کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے۔

اس خطے میں فوجی سرگرمیوں سے بین الاقوامی بحری نقل و حمل، توانائی کی فراہمی اور علاقائی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے جیسی شہری اہمیت کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعووں کے باعث شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

سعودی عرب اور حوثی فریق کی جانب سے کیے گئے متعدد فوجی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔ تاہم ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

Leave a comment