ICC نے ناہیدہ اختر اور شرمین سلطانہ کو بنگلہ دیش بمقابلہ سری لنکا ODI میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا

ICC نے بنگلہ دیش کی ناہیدہ اختر اور شرمین سلطانہ کو راجشاہی میں سری لنکا کے خلاف دوسرے ODI کے دوران لیول-1 ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ اور ایک ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے خواتین کرکٹ میں نظم و ضبط کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی کھلاڑیوں ناہیدہ اختر اور شرمین سلطانہ پر سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا ہے۔

راجشاہی میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

یہ واقعہ بنگلہ دیش کے شہر راجشاہی میں ICC ویمنز چیمپئن شپ کے تحت کھیلے گئے میچ کے دوران پیش آیا۔ ناہیدہ اختر کو ICC ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کے تحت قصوروار قرار دیا گیا، جو بیٹر کے آؤٹ ہونے کے بعد اشتعال انگیز اشاروں یا حرکات سے متعلق ہے۔ انہوں نے سری لنکا کی کپتان چماری اتھاپتھو کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے “سینڈ آف” دیا۔

دوسری جانب، شرمین سلطانہ کو آرٹیکل 2.8 کے تحت قصوروار قرار دیا گیا، جو امپائر کے فیصلے پر عدم اتفاق ظاہر کرنے سے متعلق ہے۔ 16ویں اوور میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ دیے جانے کے بعد انہوں نے عدم اطمینان ظاہر کیا، کریز چھوڑنے میں تاخیر کی اور اپنے بیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فیصلے پر سوال اٹھایا۔

ICC کا فیصلہ اور سزا

دونوں واقعات کو لیول-1 خلاف ورزیوں کے طور پر درجہ بندی کیا گیا۔ اس کے تحت دونوں کھلاڑیوں پر ان کی میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا اور ہر ایک کے کھاتے میں ایک ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ شامل کیا گیا۔ یہ کارروائی آن فیلڈ امپائرز ایلوئیس شیریڈن اور روکیہ سلطانہ، تھرڈ امپائر ڈولی رانی سرکار اور فورتھ امپائر شاثیرا ذاکر جیسی کی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی۔

میچ ریفری سپریا رانی داس کی جانب سے تجویز کردہ سزا دونوں کھلاڑیوں نے قبول کر لی، جس کے باعث کسی باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ICC نظم و ضبط کے قوانین

ICC کے قوانین کے مطابق لیول-1 خلاف ورزیاں نسبتاً کم سنگین سمجھی جاتی ہیں، تاہم ایسی خلاف ورزیوں کی تکرار کی صورت میں مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Leave a comment