آئی سی سی نے کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کر دی، قومی ٹیموں کو ٹورنامنٹس میں شرکت کی اجازت برقرار

آئی سی سی نے انتظامی اور گورننس سے متعلق سنگین خلاف ورزیوں کے باعث کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ تاہم، کینیڈا کی قومی ٹیمیں بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شرکت کے لیے اہل رہیں گی اور کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے مالی معاونت بھی جاری رہے گی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کینیڈا کی رکنیت کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق یہ فیصلہ رکنیت سے متعلق ذمہ داریوں اور انتظامی معیارات کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث کیا گیا ہے۔ تاہم، کینیڈا کی قومی کرکٹ ٹیمیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے اہل رہیں گی اور کھلاڑیوں کی ترقی سے متعلق پروگرام متاثر نہیں ہوں گے۔

آئی سی سی نے کہا کہ کرکٹ کینیڈا تنظیمی اور انتظامی سطح پر مطلوبہ معیارات پر عمل کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث یہ کارروائی ضروری ہو گئی۔ کونسل نے اس فیصلے کو عالمی کرکٹ انتظامیہ میں جوابدہی اور بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔

کھلاڑیوں اور ٹیموں کو ریلیف

معطلی کے باوجود آئی سی سی نے یہ یقینی بنایا ہے کہ کینیڈا کے کرکٹرز انتظامی تنازعات کا نقصان نہ اٹھائیں۔ کینیڈا کی مرد، خواتین اور عمر کے مختلف درجوں کی قومی ٹیمیں آئی سی سی کے تمام اہل ٹورنامنٹس میں شرکت کر سکیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت بھی جاری رہے گی۔

آئی سی سی کے مطابق یہ فنڈنگ اس کی نگرانی میں استعمال کی جائے گی تاکہ رقم صرف کھلاڑیوں کی تیاری، قومی ٹیم پروگراموں اور کرکٹ ترقیاتی سرگرمیوں پر ہی خرچ ہو۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ کھلاڑیوں کو ایسی انتظامی خامیوں کی سزا نہیں دی جانی چاہیے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

رکنیت کی بحالی کے لیے اصلاحات لازمی

آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ معطلی مستقل نہیں ہے۔ رکنیت کی بحالی کے لیے کرکٹ کینیڈا کو انتظامی، ساختی اور گورننس سے متعلق متعدد اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔

ان اصلاحات کی نگرانی آئی سی سی کی نارملائزیشن کمیٹی اور کونسل کے سینئر انتظامی حکام مشترکہ طور پر کریں گے۔ مقررہ معیارات پر عمل درآمد اور تنظیمی شفافیت یقینی بنانے کے بعد ہی کرکٹ کینیڈا کی رکنیت بحال کرنے پر غور کیا جائے گا۔

تنازعات سے بڑھا دباؤ

گزشتہ چند برسوں کے دوران کرکٹ کینیڈا مختلف تنازعات اور الزامات کے باعث خبروں میں رہا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں معاملہ ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے میچ سے متعلق تحقیقات ہیں، جن کا جائزہ آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی یو) لے رہی ہے۔

اس کے علاوہ سابق ہیڈ کوچ خرم چوہان سے متعلق معاملہ بھی تنظیم کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ گزشتہ سال منظر عام پر آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں انہوں نے کرکٹ کینیڈا کے بعض سینئر عہدیداروں پر قومی ٹیم کے انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات عائد کیے تھے۔

آڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ بعض کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ اس کے ساتھ میچ فکسنگ اور کرکٹ کی شفافیت سے متعلق سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد آئی سی سی کی انٹیگریٹی یونٹ نے تحقیقات شروع کی تھیں۔ تاہم، ان الزامات پر حتمی نتیجہ اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

بنگلہ دیش اور سری لنکا پر بھی آئی سی سی کی نظر

آئی سی سی بورڈ نے اپنی حالیہ میٹنگ میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کی کرکٹ انتظامیہ سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) میں انتخابی عمل اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئی سی سی کے نمائندے جلد ملک کا دورہ کریں گے۔

نمائندے مختلف اسٹیک ہولڈرز، حکام اور کرکٹ منتظمین سے ملاقات کر کے صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ دوسری جانب، سری لنکا کرکٹ انتظامیہ سے متعلق معاملات پر آئی سی سی کے سینئر حکام پہلے ہی مختلف فریقین سے بات چیت کر چکے ہیں اور کونسل وہاں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

Leave a comment