آئی آئی آئی ٹی رانچی کے طالب علم کی موت کی تحقیقات کے لیے وزارت تعلیم نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (IIIT) کے پہلے سال کے طالب علم آدتیہ کمار کی موت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے مرکزی وزارت تعلیم نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ واقعے کے بعد طلبہ ادارے میں بنیادی سہولیات، ہنگامی طبی خدمات اور انتظامیہ کی جواب دہی سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کمیٹی کو 15 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کی ڈائریکٹر پروفیسر رجنی ابی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ دہلی کے مول چند اسپتال کے سینئر ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جتیندر ناگپال اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ڈپٹی سکریٹری ہیرا لال پونیا کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
وزارت نے کمیٹی کو 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیٹی طالب علم کی موت سے متعلق حالات کی تحقیقات کے ساتھ ادارے میں طلبہ کی حفاظت، ذہنی صحت سے متعلق معاونت اور شکایات کے ازالے کے نظام کا جائزہ لے گی۔
اس سلسلے میں متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔ کمیٹی طلبہ، ادارے کے عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بات چیت بھی کر سکتی ہے۔
ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کا طلبہ کا مطالبہ
ادارے میں وسط مدتی سمسٹر کے امتحانات کے دوران طالب علم کی موت ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد طلبہ نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔
طلبہ کا اہم مطالبہ ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر راجیو شریواستو کو عہدے سے ہٹانا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بہتر طبی سہولیات، ایمبولینس، ہنگامی امداد کی دستیابی اور کیمپس کے دیگر مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی شکایات پر بروقت ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہیے تھے۔ تاہم، طالب علم کی موت کے لیے کسی مخصوص شخص یا ادارے کی ذمہ داری تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر ہی طے کی جا سکے گی۔
ذہنی صحت اور طلبہ کی حفاظت کے انتظامات کا جائزہ
کمیٹی طالب علم کی موت سے متعلق حالات کی تحقیقات کے علاوہ ادارے میں طلبہ کی دیکھ بھال اور حفاظت کے انتظامات کا بھی جائزہ لے گی۔
اس میں جولائی 2023 میں جاری کیے گئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ کی جذباتی اور ذہنی فلاح و بہبود سے متعلق رہنما خطوط پر عمل درآمد کی جانچ بھی شامل ہے۔
کمیٹی یہ جائزہ لے گی کہ ادارے میں مشاورت، رہنمائی، شکایات کے ازالے اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنے والے طلبہ کی مدد کے لیے مناسب انتظامات موجود ہیں یا نہیں۔
ادارے میں بنیادی سہولیات اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی ادارہ جاتی معاونت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی انتظام میں کمی سامنے آتی ہے تو اسے دور کرنے کے لیے سفارشات پیش کی جا سکتی ہیں۔
وزارت کا مقصد موجودہ معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ایسی صورتحال کے دوبارہ پیش آنے سے روکنے کے لیے ضروری اصلاحات کی نشاندہی کرنا بھی ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران طلبہ کی تعلیم اور مفادات متاثر نہ ہوں، اس کے لیے ادارے کے ہموار انتظام و انصرام کی خاطر عبوری انتظامی بندوبست کیا جائے گا۔
ہاسٹل، کینٹین اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق شکایات
احتجاج کرنے والے طلبہ نے ہاسٹل کے انتظامات، کینٹین کے کھانے، سکیورٹی، سی سی ٹی وی کیمروں اور نگرانی کے نظام سے متعلق شکایات اٹھائی ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال فیس اور دیگر مدات میں بڑی رقم خرچ کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں ضروری سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان شکایات کی اصل صورتحال اور انہیں حل کرنے کے لیے ادارے کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تحقیقات کی جائیں گی۔
طلبہ نے ہنگامی طبی امداد کے انتظامات پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کیمپس میں ایمبولینس، آکسیجن، بجلی اور لفٹ جیسی سہولیات کی دستیابی اور بروقت امداد فراہم کرنے کے انتظامات ناکافی تھے۔
طلبہ کا دعویٰ ہے کہ اگر آدتیہ کو بروقت ضروری طبی امداد مل جاتی تو ممکن ہے ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ یہ مظاہرین کا الزام ہے، جس کی اب تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی اور پولیس کی تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ واقعے کے وقت کیا حالات تھے، امداد فراہم کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے اور آیا کسی مرحلے پر طریقۂ کار سے متعلق کوئی خامی موجود تھی۔
ہاسٹل کا کمرہ اندر سے بند ملنے کی اطلاع
بہار کے ضلع بھاگلپور کے رہنے والے آدتیہ کمار آئی آئی آئی ٹی رانچی میں پہلے سال کے طالب علم تھے۔ اطلاعات کے مطابق، 10 اکتوبر کی رات ہاسٹل میں ان کا کمرہ اندر سے بند ملا تھا۔ اس کے بعد دیگر طلبہ نے ادارے کے عہدیداروں کو اطلاع دی۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس کو مطلع کیا گیا اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ طالب علم کی موت سے متعلق مختلف پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں موت کی کسی ایک وجہ کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے۔
پولیس نے معاملے میں غیر فطری موت کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ طالب علم کے کمرے اور جائے وقوعہ سے متعلق شواہد کی جانچ کے ساتھ متعلقہ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں امتحانات کے دباؤ کو ایک ممکنہ وجہ کے طور پر ذکر کیا گیا تھا، تاہم اسے موت کی حتمی وجہ نہیں مانا جا سکتا۔ موت کے اصل حالات واضح کرنے کے لیے پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔
مسلسل تیسرے دن بھی طلبہ کا احتجاج جاری
واقعے کے بعد ہاسٹل کے احاطے میں طلبہ کا احتجاج مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہا۔ طلبہ ڈائریکٹر کے استعفے اور اپنے مطالبات پر ٹھوس کارروائی کے لیے اصرار کر رہے ہیں۔
ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اے کے بھٹ، ڈائریکٹر اور دیگر عہدیداروں نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، بات چیت کے باوجود طلبہ کی ناراضگی مکمل طور پر دور نہیں ہوئی اور وہ اپنے مطالبات پر قائم رہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ محض یقین دہانیاں کرانے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے واضح اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
احتجاج کے باعث امتحانات متاثر
ادارے میں 8 اکتوبر سے امتحانات شروع ہوئے تھے، لیکن احتجاج کے باعث پیر کو امتحانات منعقد نہیں ہو سکے۔ اس سے تدریسی سرگرمیوں اور امتحانی شیڈول کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔
ادارے کے سامنے ایک طرف طالب علم کی موت سے متعلق سوالات کا غیر جانب دارانہ حل تلاش کرنے کا چیلنج ہے، جبکہ دوسری طرف تعلیمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔
طلبہ کی شکایات کو سنجیدگی سے سننا اور تحقیقات کے عمل کو شفاف رکھنا اس معاملے میں اہم ہوگا۔
آئی آئی آئی ٹی رانچی کا قیام 2016 میں ہوا
آئی آئی آئی ٹی رانچی کا قیام 2016 میں مرکزی حکومت، جھارکھنڈ حکومت اور صنعتوں کی شراکت داری پر مبنی سرکاری و نجی اشتراک کے ماڈل کے تحت عمل میں آیا تھا۔
ادارے میں کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ، ریاضی اور کمپیوٹنگ جیسے شعبوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی تکنیکی مہارتوں سے متعلق پروگرام بھی ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے بعد آئندہ اقدامات کا تعین ہوگا
اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو پڑھائی، امتحانات، مستقبل کے کیریئر اور خاندان سے دور رہنے جیسی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تربیت یافتہ مشیران، قابل اعتماد رہنمائی، مؤثر شکایتی ازالے کا نظام اور ہنگامی طبی سہولیات کی دستیابی ضروری ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کو 15 دن میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ دوسری جانب طلبہ ڈائریکٹر کے استعفے اور بنیادی سہولیات میں بہتری کے مطالبے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پولیس بھی موت کی وجوہات اور حالات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
تحقیقات کے نتائج سے ادارے کے انتظامی نظام میں موجود ممکنہ خامیوں کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے میں مدد ملے گی۔ حتمی نتائج سامنے آنے تک الزامات اور شبہات کو تحقیقات کے ذریعے ثابت شدہ حقائق سے الگ رکھنا ضروری ہے۔





