بھارت نے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل (MRBM) اگنی-4 کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ اڈیشہ کے چاندی پور میں واقع انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج (ITR) سے اسٹریٹجک فورسز کمانڈ (Strategic Forces Command–SFC) کی نگرانی میں کیا گیا۔
وزارت دفاع کے مطابق، تجربے کے دوران میزائل کے تمام آپریشنل اور تکنیکی معیارات کی کامیابی کے ساتھ تصدیق کی گئی۔
اگنی-4 کی قابل اعتماد کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت کی تصدیق
وزارت دفاع نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ 6 اگست کو کیے گئے اس تجربے نے اگنی-4 کی قابل اعتماد کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت کو ایک بار پھر ثابت کیا ہے۔ تجربے کے دوران میزائل نے مقررہ پرواز کے راستے کی کامیابی کے ساتھ پیروی کی اور مشن کے تمام اہداف مکمل کیے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کے تجربات بھارت کی اسٹریٹجک تیاری اور مقامی دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس تجربے کو معمول کی فوجی مشق اور نظام کی تصدیق کے عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
اگنی-4 بھارت کے مقامی میزائل پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (DRDO) نے تیار کیا ہے۔ یہ میزائل بھارت کی جوہری دفاعی مزاحمتی صلاحیت (Nuclear Deterrence) کو مضبوط بنانے کے ساتھ علاقائی سلامتی کے توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگنی-4 کی ساخت اور مار کرنے کی صلاحیت
اگنی-4 دو مرحلوں پر مشتمل ٹھوس ایندھن (Solid Fuel) سے چلنے والا درمیانی فاصلے کا بیلسٹک میزائل ہے۔ اس کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً 4,000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ طویل فاصلے پر موجود اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ میزائل روایتی اور جوہری دونوں اقسام کے پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ درستگی اسے بھارت کے اسٹریٹجک میزائل بیڑے کا ایک اہم حصہ بناتی ہے۔
اگنی-4 کی تیاری اور تکنیکی پیش رفت
DRDO نے 2007 میں طویل فاصلے کے میزائل منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔ بعد میں اس کے جدید ورژن کو اگنی-4 کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے کو بنیادی طور پر حیدرآباد میں واقع ایڈوانسڈ سسٹمز لیبارٹری (ASL) نے تیار کیا۔
اگنی-4 میں سابقہ ورژنز کے مقابلے میں کئی اہم بہتریاں کی گئی ہیں۔ اس میں زیادہ طاقتور پہلے اور دوسرے مرحلے کی موٹرز، جدید رہنمائی کا نظام (Guidance System) اور جدید الیکٹرانک کنٹرول ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔
میزائل میں رنگ لیزر جائروسکوپ پر مبنی انرشیل نیویگیشن سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو پرواز کے دوران اعلیٰ سطح کی درستگی یقینی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ فلیکس سیل تھرسٹ ویکٹر کنٹرول ٹیکنالوجی میزائل کی سمت اور استحکام کو بہتر بناتی ہے۔
اگنی-4 کے سابقہ کامیاب تجربات
اگنی-4 کا پہلا تجربہ 2010 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد جنوری 2014 میں اس نے تقریباً 4,000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اپنے مقررہ ہدف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا تھا۔ اس تجربے کے دوران میزائل تقریباً 850 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا تھا۔
دسمبر 2014 میں اسٹریٹجک فورسز کمانڈ نے اس کا پہلا یوزر ٹرائل منعقد کیا، جس میں میزائل نے 3,500 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا۔ اس کے بعد 2015، 2017، 2018 اور دیگر مواقع پر بھی اس کے کامیاب تجربات کیے جا چکے ہیں، جن سے اس کی قابل اعتماد کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت مسلسل ثابت ہوتی رہی ہے۔
اگنی-4 کی لمبائی تقریباً 20 میٹر اور وزن تقریباً 17 ٹن ہے۔ اس کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً 4,000 کلومیٹر جبکہ پے لوڈ کی گنجائش تقریباً 1,000 کلوگرام ہے۔ اس میں دو مرحلوں پر مشتمل ٹھوس ایندھن کا نظام، رنگ لیزر جائروسکوپ پر مبنی انرشیل نیویگیشن سسٹم اور فلیکس سیل تھرسٹ ویکٹر کنٹرول ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ یہ روایتی اور جوہری دونوں اقسام کے پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگنی-4 کا کامیاب تجربہ بھارت کی طویل مدتی دفاعی حکمت عملی اور مقامی فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ میزائل ملک کی قابل اعتماد دفاعی مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن کو بھی مستحکم کرتا ہے۔





