انڈیا اتحاد اجلاس میں کھڑگے کا مطالبہ SIR سے پہلے کی ووٹر فہرست اور بیلٹ پیپر سے ووٹنگ

انڈیا اتحاد کے اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مستقبل کے انتخابات میں SIR سے پہلے تیار کی گئی ووٹر فہرست کو بنیاد بنانے اور EVM کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں انتخابی عمل، EVM، VVPAT اور ووٹر فہرست میں تبدیلیوں سے مت

انڈیا اتحاد کے اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انتخابی عمل اور ووٹر فہرست سے متعلق کئی امور اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے انتخابات میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے پہلے تیار کی گئی ووٹر فہرست کو بنیاد بنایا جائے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کرانے کے مطالبے کو آگے بڑھایا جائے۔

SIR سے پہلے کی ووٹر فہرست کو بنیاد بنانے کا مطالبہ

کھڑگے نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے سامنے آئندہ انتخابات کے لیے SIR سے پہلے موجود ووٹر فہرست کو بنیاد بنانے کا مطالبہ رکھا۔ یہ مطالبہ موجودہ SIR عمل کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔

کھڑگے نے ووٹر فہرست میں کی جانے والی تبدیلیوں کی مکمل معلومات عوام کے سامنے رکھنے اور متاثرہ ووٹروں کو اپنی صورتحال واضح کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ کانگریس اس سے پہلے بھی ووٹر فہرست میں تبدیلیوں سے متعلق اعداد و شمار عام کرنے، جن ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں انہیں اس کی اطلاع دینے اور اپیل کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

EVM کے بجائے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا مطالبہ

اجلاس میں EVM اور VVPAT کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ کھڑگے نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے کہا کہ انتخابات میں EVM کے بجائے بیلٹ پیپر کے استعمال کا مطالبہ اٹھایا جائے۔

اجلاس میں انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹروں کے اعتماد سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انڈیا اتحاد کی جانب سے انتخابی عمل اور ووٹر فہرست سے متعلق معلومات عام کرنے کے مطالبے کو الیکشن کمیشن کے سامنے آگے بڑھانے کی بات کی گئی۔

شفافیت اور جواب دہی پر زور

کھڑگے نے انتخابی نظام میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق فیصلوں اور اعداد و شمار کی معلومات دستیاب ہونی چاہیے۔ انہوں نے ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کے حقوق سے متعلق امور پر اتحاد کی جماعتوں کو متحد ہو کر اپنی بات رکھنی چاہیے۔

الیکشن کمیشن کے کام کاج کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اٹھائے جا رہے خدشات کے درمیان اجلاس میں مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ SIR اور انتخابی عمل کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور حکومت کی جانب سے مختلف مؤقف اور وضاحتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس لیے اپوزیشن کے الزامات کو سیاسی جماعتوں کے دعووں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ قائم شدہ حقائق کے طور پر۔

CEC گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ

اجلاس سے قبل بھی کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔ 29 ستمبر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے CEC کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ کانگریس نے SIR اور ووٹر فہرست میں تبدیلیوں سے متعلق معاملات پر الیکشن کمیشن میں شفافیت کی کمی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلوں اور طریقہ کار کے حوالے سے وضاحتیں پیش کی ہیں۔ کمیشن نے اندرونی اختلافات کو ادارہ جاتی فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ قرار دیا ہے اور الزامات کو قبول نہیں کیا ہے۔

Leave a comment