2020 میں بھارت میں مہنگائی: جائزہ اور رجحان

2020 میں بھارت میں مہنگائی: جائزہ اور رجحان
آخری تازہ کاری: 30-12-2025

2020 میں بھارت میں مہنگائی، بھارتی ریزرو بینک (RBI) کی 2-6 فیصد کی حد کے اندر رہی۔ خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں کمی اور جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے باعث مہنگائی کنٹرول میں رہی۔ 2020 میں حکومت اور ریزرو بینک سی پی آئی (CPI) اور ٹارگٹنگ سسٹم کو دوبارہ ترتیب دینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

2020 کے آخر میں: 2020 میں بھارت میں مہنگائی کی شرح نے صارفین اور عام عوام کے درمیان بڑی مایوسی پیدا کی۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی بنیاد پر خوردہ مہنگائی ریزرو بینک کے ذریعہ طے کردہ 2 سے 6 فیصد کے درمیان رہی۔ خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں کمی اور جی ایس ٹی (GST) کی شرحوں میں کمی کے باعث مہنگائی کو کنٹرول کرنا ممکن ہوا۔ حال ہی میں، 2020 میں مہنگائی کی گنتی اور ہدف طے کرنے کے لیے حکومت اور ریزرو بینک نئی ​​طریقے تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

2020 میں مہنگائی کا رجحان

2020 میں مہنگائی بہت سست روی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ سی پی آئی (CPI) کی بنیاد پر خوردہ مہنگائی سال کے دوران ریزرو بینک کے 2 سے 6 فیصد کے درمیان رہی۔ بنیادی طور پر خوراک کی قیمتوں میں کمی اور جی ایس ٹی (GST) کی شرحوں میں کمی کے باعث مہنگائی کو کنٹرول کرنا ممکن ہوا۔ ہول سیل پرائس انڈیکس (WPI) میں مہنگائی میں کمی کے اشارے نظر آئے۔ سال کے شروع میں ڈبلیو پی آئی (WPI) مثبت تھا، لیکن اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی صفر کی سطح پر آ گئی۔ جولائی اور اکتوبر کے مہینوں میں ڈبلیو پی آئی (WPI) منفی تھا۔

نومبر 2019 سے سی پی آئی (CPI) یا ہیڈ لائن مہنگائی میں کمی آ رہی تھی۔ جون 2020 تک یہ ریزرو بینک کے 2 سے 4 فیصد کے درمیان رہی، بعد میں 2 فیصد تک کم ہو گئی۔ خوراک کی سی پی آئی (CPI) میں تقریباً 48 فیصد وزن ہے۔ خوراک کی مہنگائی جنوری میں 6 فیصد سے شروع ہو کر جون کے مہینے میں منفی ہو گئی۔ نومبر میں شائع ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق خوراک کی مہنگائی -3.91 فیصد تک کم ہو گئی۔ مہنگائی 2 فیصد تک کم ہونے کے بعد، حکومت اور ریزرو بینک ہدف کے بارے میں بات چیت شروع کر چکے ہیں۔ ریزرو بینک نے مہنگائی کو نشانہ بنانے سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں، اور حکومت نے یکم اپریل 2020 سے نئی ​​سسٹم کو عملی جامہ پہنایا۔

سی پی آئی (CPI) اور ڈبلیو پی آئی (WPI) کے درمیان فرق

سی پی آئی (CPI) اور ڈبلیو پی آئی (WPI) کے درمیان فرق ان کے وزن کے ڈھانچے اور دائرے میں ہے۔ خوراک کے شعبے میں دونوں کے اوپر مہنگائی صفر کی سطح پر ہونے کے باوجود، خدمات اور غیر خوراک اشیاء نے سی پی آئی (CPI) کو منفی ہونے سے بچایا۔ ڈبلیو پی آئی (WPI) میں خام تیل، ایندھن اور پیداواری شعبے کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے خوراک کی مہنگائی منفی ہو گئی۔ نومبر میں ڈبلیو پی آئی (WPI) کی مہنگائی صفر کی سطح پر تھی، جبکہ سی پی آئی (CPI) کی مہنگائی صرف 0.7 فیصد تھی۔ سونا، چاندی وغیرہ قیمتی دھاتوں کو چھوڑ کر سی پی آئی (CPI) بھی منفی مہنگائی کی سطح پر رجسٹر ہو جاتی۔

ریزرو بینک کی مالیاتی پالیسی، سود کی شرحوں میں کمی

مہنگائی میں کمی کے بعد، ریزرو بینک نے فروری 2020 سے اگست تک مختصر مدت کے قرض کی شرح ریپو ریٹ (Repo rate) میں کل 125 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے۔ یہ اقدام معیشت کو مدد فراہم کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔ ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملوہوترا نے کہا کہ 2020-21 میں پہلی نصف سالی میں ہیڈ لائن مہنگائی 4 فیصد کے ہدف تک پہنچ جائے گی۔

قیمتی دھاتوں کو چھوڑ کر مہنگائی مزید کم ہوگی۔ اچھی موسمی صورتحال، خوراک کی قیمتوں میں کمی اور بین الاقوامی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کی وجہ سے 2020-21 میں سی پی آئی (CPI) کی مہنگائی تقریباً 2 فیصد رہنے کی امید ہے۔

نئی سی پی آئی (CPI) سیریز اور اشاریہ میں تبدیلی

حکومت نئی سی پی آئی (CPI) سیریز پر کام کر رہی ہے، جس کا بنیادی سال 2019=100 ہے۔ اسے گزشتہ دہائی میں کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی کے طور پر شمار کیا جا رہا ہے۔ نئی سیریز میں اشیاء کے جمع کرنے، وزن اور اشاریہ تیار کرنے کے ڈھانچے میں مکمل تبدیلی ہوگی۔ اس کا مقصد مہنگائی کی گنتی کو زیادہ قابل اعتماد اور نمائندہ بنانا ہے۔ نئی سی پی آئی (CPI) سیریز فروری 2020 میں شائع ہوگی۔ بینک آف بڑود کے چیف اکانومسٹ مدن سبنابس نے کہا کہ 2020 میں مہنگائی کا اہم عنصر یہ نیا اشاریہ اور اس کا ڈھانچہ ہے۔

Leave a comment