بھارت اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان مجوزہ عبوری تجارتی معاہدہ بھارتی معیشت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ٹیرف میں نرمی، برآمدات کے فروغ، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور ہائی ٹیک شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے بھارتی صنعت کو طویل مدتی فائدہ ہو سکتا ہے۔
بھارت اور امریکہ نے عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جسے فروری 2025 میں مجوزہ جامع دو طرفہ تجارتی معاہدے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت اور امریکی انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے اس فریم ورک کا مقصد ٹیرف میں کمی، سپلائی چین کو محفوظ بنانا اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت بھارت نے امریکی صنعتی اور زرعی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے یا ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان مصنوعات میں مویشیوں کی خوراک، خشک اناج، گری دار میوے، پھل، سویا بین کا تیل، شراب اور اسپرٹ مصنوعات شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے گھریلو صنعت کو کم قیمت پر خام مال دستیاب ہوگا اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔
اس کے بدلے امریکی فریق نے عندیہ دیا ہے کہ عبوری مرحلے کے بعد بھارتی جینرک ادویات، جواہرات اور ہیرے، اور طیاروں کے پرزہ جات جیسے اہم شعبوں پر عائد باہمی ٹیرف ہٹائے جا سکتے ہیں۔ اس سے امریکی منڈی میں بھارتی برآمد کنندگان کو ریلیف ملنے اور برآمدات میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
فریم ورک میں اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو پارٹس جیسے حساس شعبے بھی شامل ہیں۔ سیکشن 232 کے تحت عائد بعض امریکی محصولات ختم کرنے اور آٹو پارٹس کے لیے بھارت کو ترجیحی کوٹہ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ادویات سے متعلق امریکی تحقیقات کے تحت ٹیرف کا جائزہ لینے کی بھی بات کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بھارت نے میڈیکل ڈیوائسز، آئی سی ٹی مصنوعات اور زرعی درآمدات سے متعلق نان ٹیرف رکاوٹوں کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تجارتی عمل کو آسان اور تیز بنانے کے لیے دونوں ممالک آئندہ چھ ماہ کے دوران بین الاقوامی یا امریکی معیارات اور ٹیسٹنگ ضوابط اپنانے پر بات چیت کریں گے۔
مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل کے مطابق یہ معاہدہ محض تجارت تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی سلامتی اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے کا ایک روڈ میپ بھی ہے۔ اس میں سرمایہ کاری کے جائزے، برآمدی کنٹرولز اور تیسرے ممالک کی نان مارکیٹ پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے تعاون شامل ہے۔
اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو بھارت کی خریداری سے متعلق وابستگی ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں بھارت توانائی، طیاروں، ٹیکنالوجی مصنوعات، قیمتی دھاتوں اور کوکنگ کوئلے سمیت 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جی پی یو اور ڈیٹا سینٹر آلات جیسے ہائی ٹیک شعبوں میں تجارت بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔









