۔ بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا اور کاروبار کے اختتام پر 63 پیسے اضافے کے ساتھ فی امریکی ڈالر 95.90 روپے پر بند ہوا۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی، ڈالر انڈیکس میں نرمی اور عالمی منڈیوں میں خطرہ مول لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے روپے کو سہارا فراہم کیا۔
بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اس لیے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کو بھارتی معیشت اور روپے کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں روپے کی سمت خام تیل کی قیمتوں، غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ، امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی اور عالمی اقتصادی حالات پر منحصر رہے گی۔
خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد کمی نے روپے کو سہارا دیا
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تیل کی قیمتیں تقریباً 10 فیصد کم ہو کر فی بیرل 90 امریکی ڈالر سے نیچے آ گئی ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی بھارت جیسے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ جب تیل سستا ہوتا ہے تو ملک کے درآمدی اخراجات میں کمی آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس سے غیر ملکی زرمبادلہ کی طلب پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور روپے کو تقویت مل سکتی ہے۔
بھارت اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اسی لیے عالمی تیل منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں ملک کے تجارتی توازن، مہنگائی اور زرمبادلہ کی منڈی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ منگل کو تیل کی قیمتوں میں کمزوری نے روپے کے بارے میں سرمایہ کاروں کے رجحان کو بہتر بنانے میں مدد دی۔
امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مضبوطی کی اہم وجوہات
منگل کے کاروبار میں روپے کی مضبوطی کے پیچھے کئی مقامی اور عالمی عوامل کارفرما رہے۔ ان میں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بہتر حمایت، ڈالر انڈیکس میں نرمی، عالمی منڈیوں میں خطرہ مول لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بھارتی کمپنیوں کے بہتر مالی نتائج سے پیدا ہونے والا مثبت تاثر شامل ہیں۔
ڈالر انڈیکس میں کمزوری آنے پر دیگر کرنسیوں کو بھی سہارا مل سکتا ہے۔ اگر امریکی ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور ہوتا ہے تو بھارتی روپے جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جب غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی شیئر اور بانڈ منڈیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو انہیں امریکی ڈالر کو بھارتی روپے میں تبدیل کرنا پڑتا ہے، جس سے روپے کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔










