بھارتی شیئر بازار میں جمعرات کو نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ گزشتہ چند دنوں سے جاری گراوٹ اور غیر یقینی صورتحال کے بعد دلال اسٹریٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک بار پھر بحال ہوتا نظر آیا۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات سے متعلق مثبت اشاروں نے عالمی بازاروں میں بہتری کی امید بڑھا دی، جس کا براہ راست اثر بھارتی ایکویٹی بازار پر پڑا۔ بھاری خریداری اور شارٹ کورنگ کے باعث اہم اشاریے مضبوط اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔
بامبے اسٹاک ایکسچینج کا اہم اشاریہ بی ایس ای سینسیکس 790 پوائنٹس یا 1.06 فیصد اضافے کے ساتھ 75,398.72 پر بند ہوا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا این ایس ای نفٹی 50 اشاریہ 277 پوائنٹس یا 1.18 فیصد بڑھ کر 23,689.60 تک پہنچ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ گراوٹ کے بعد بازار میں بننے والی اوور سولڈ صورتحال نے بھی تیزی کو سہارا دیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے کم قیمتوں پر خریداری کا موقع دیکھا۔
آج کی تیزی صرف لارج کیپ شیئرز تک محدود نہیں رہی۔ مڈ کیپ شیئرز میں بھی اچھی خریداری دیکھی گئی۔ نفٹی مڈ کیپ 150 انڈیکس میں تقریباً 1.18 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جو وسیع بازار کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اسمال کیپ سیکٹر میں زیادہ سرگرمی نظر نہیں آئی۔ نفٹی اسمال کیپ 250 تقریباً مستحکم سطح پر بند ہوا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی منتخب اور معیاری شیئرز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کی امید نے عالمی بازاروں میں مثبت ماحول پیدا کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نرمی کے اشاروں سے عالمی سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا، جس کا فائدہ ابھرتی ہوئی معیشتوں، خصوصاً بھارت کو ملا۔
گزشتہ چند سیشنز میں آئی گراوٹ کے بعد کئی ٹریڈرز نے اپنی شارٹ پوزیشنز کور کیں۔ اس عمل کے دوران اچانک خریداری میں اضافہ ہوا، جس سے اشاریوں کو تیزی سے اوپر جانے میں مدد ملی۔
جمعرات کو بازار میں تقریباً تمام اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ خاص طور پر آئی ٹی، بینکنگ اور آٹوموبائل سیکٹر نے بازار کو سہارا دیا۔ بڑے بینکنگ شیئرز میں خریداری نے بازار کے رجحان کو مزید مضبوط کیا۔
اس تیزی کے باعث سرمایہ کاروں کی دولت میں ایک ہی دن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بازار میں مجموعی تیزی نے حالیہ گراوٹ سے متعلق خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی اشارے مثبت رہتے ہیں تو بھارتی بازار میں یہ بحالی آئندہ بھی جاری رہ سکتی ہے۔









