بھارتی شیئر بازار میں بدھ کے روز کاروباری سیشن شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ کمزور عالمی اشاروں اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے درمیان کاروبار کا آغاز ہوا۔ ابتدائی سیشن میں ہی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث BSE Sensex تقریباً 750 پوائنٹس تک گر گیا۔ مختلف سیکٹرز میں وسیع پیمانے پر سیلنگ پریشر دیکھنے میں آیا، جس سے بازار مکمل طور پر منفی زون میں چلا گیا۔
دوپہر کے سیشن کے بعد بازار کی سمت اچانک تبدیل ہوگئی۔ نچلی سطحوں پر خریداری بڑھنے سے Sensex میں تیزی سے ریکوری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر Sensex 118 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 75,318 پر بند ہوا، جبکہ Nifty 50 41 پوائنٹس کی بڑھت کے ساتھ 23,659 تک پہنچ گیا۔ مڈ کیپ اور اسمال کیپ سیگمنٹس میں بھی خریداری دیکھی گئی، جس سے وسیع بازار کو سپورٹ حاصل ہوئی۔
دن بھر کے اتار چڑھاؤ کے بعد سرمایہ کاروں کی دولت میں 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا اضافہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بازار میں وولیٹیلٹی کے باوجود طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع موجود ہیں۔
بازار کی ریکوری میں Reliance Industries کے شیئرز کا سب سے بڑا کردار رہا۔ کمپنی کے شیئر میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا، جس سے پورے بازار کو مضبوط سہارا ملا۔ اس کے علاوہ Bajaj Finserv، IndiGo، Axis Bank اور Trent کے شیئرز میں بھی اچھی خریداری دیکھی گئی۔
بدھ کے کاروبار میں آٹو، بینکنگ اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز میں سب سے زیادہ خریداری ریکارڈ کی گئی۔ بینکنگ شیئرز میں مضبوطی کے باعث Bank Nifty اور PSU Bank Index دونوں نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ ماہرین کے مطابق چوتھی سہ ماہی کے بہتر کارپوریٹ نتائج اور خام تیل کی قیمتوں میں نرمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔ تاہم IT، FMCG اور میڈیا سیکٹر پر دباؤ برقرار رہا۔ Tech Mahindra اور Tata Steel کے شیئرز کمزوری کے ساتھ بند ہوئے۔










