بھارتی شیئر بازار میں بھاری گراوٹ سینسیکس 893 پوائنٹس گر گیا نفٹی 24000 سے نیچے

بھارتی شیئر بازار میں پیر کے روز وسیع پیمانے پر فروختی دباؤ دیکھا گیا۔ بی ایس ای سینسیکس 893 پوائنٹس گر کر 76,200.68 پر بند ہوا جبکہ این ایس ای نفٹی 278.80 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 23,824.10 کی سطح پر پہنچ گیاہے جبکہ فارما شیئرز میں خریداری دیکھی گئی۔

بھارتی شیئر بازار میں پیر کے روز بھاری فروختی دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں اہم اشاریے نمایاں گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ پورے کاروباری سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کا رجحان کمزور رہا جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں بڑی گراوٹ نے بازار پر سب سے زیادہ دباؤ ڈالا۔

ہفتے کا آغاز بھارتی شیئر بازار کے لیے دباؤ کے ساتھ ہوا۔ سرمایہ کاروں کی کمزور سوچ، عالمی بازاروں سے ملنے والے منفی اشاروں اور آئی ٹی سیکٹر میں تیز فروخت کے باعث اہم اشاریوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر بی ایس ای سینسیکس تقریباً 900 پوائنٹس گر کر بند ہوا جبکہ این ایس ای نفٹی 24,000 کی اہم سطح سے نیچے پھسل گیا۔

ماہرین کے مطابق عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی اور ٹیکنالوجی سیکٹر پر بڑھتا ہوا دباؤ بازار کی کمزوری میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ دن بھر کی تجارت کے دوران بیشتر شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا، اگرچہ فارما شیئرز نے کسی حد تک سہارا فراہم کیا۔

کاروبار کے اختتام پر بی ایس ای سینسیکس 893 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 76,200.68 پر بند ہوا۔ دوسری جانب این ایس ای نفٹی 278.80 پوائنٹس گر کر 23,824.10 کی سطح پر پہنچ گیا۔ بازار میں گراوٹ کا دائرہ وسیع رہا اور بیشتر شیئرز منفی زون میں بند ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے زیادہ خطرے والے شعبوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کی جانب رخ کیا، جس سے بازار پر اضافی دباؤ پیدا ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بازار میں آنے والی تیزی کے بعد منافع خوری بھی گراوٹ کی ایک اہم وجہ رہی۔

پیر کی گراوٹ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر کا سب سے بڑا کردار رہا۔ ملک کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں فروخت دیکھی گئی۔ انفوسس، ٹی سی ایس اور وپرو کے شیئرز میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ ایچ سی ایل ٹیک اور ٹیک مہندرا بھی دباؤ میں رہے۔

عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش اور امریکی بازاروں میں ٹیک سیکٹر کی کمزوری کا اثر بھارتی آئی ٹی کمپنیوں پر بھی نظر آیا۔ چونکہ بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کا بڑا کاروبار بین الاقوامی بازاروں پر منحصر ہے، اس لیے عالمی اقتصادی اشاریوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ان کے شیئرز پر پڑتا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کے علاوہ میٹل کمپنیوں کے شیئرز میں بھی بھاری فروخت دیکھی گئی۔ اسٹیل اور دھاتوں کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاروں نے منافع خوری کی، جس سے اس شعبے میں کمزوری بڑھی۔ ٹاٹا اسٹیل، جے ایس ڈبلیو اسٹیل اور ہنڈالکو جیسے نمایاں شیئرز میں قابل ذکر کمی ریکارڈ کی گئی۔ بین الاقوامی کموڈیٹی بازار میں اتار چڑھاؤ اور عالمی طلب سے متعلق خدشات کا اثر اس شعبے پر پڑا۔

بینکنگ شیئرز بھی بازار کو سہارا دینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، آئی سی آئی سی آئی بینک اور بجاج فنانس جیسے بڑے مالیاتی اداروں کے شیئرز دباؤ میں رہے۔ بینکنگ سیکٹر کی کمزوری نے اشاریوں کی گراوٹ کو مزید گہرا کر دیا۔

ملک کی چند بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے شیئرز میں بھی کمزوری دیکھی گئی۔ ریلائنس انڈسٹریز، اڈانی انٹرپرائزز اور اڈانی پورٹس جیسے نمایاں شیئرز میں کمی نے بازار پر اضافی دباؤ ڈالا۔ ان کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن بہت زیادہ ہونے کے باعث ان کے شیئرز میں معمولی کمی بھی اشاریوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی اور خطرات کم کرنے کی کوششوں نے ان شیئرز میں فروخت کو بڑھاوا دیا۔

جہاں بیشتر شعبے منفی زون میں بند ہوئے، وہیں فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ سِپلا، ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز اور سن فارما جیسے شیئرز میں خریداری دیکھی گئی۔ اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے دوران فارما سیکٹر کو نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے بازار میں گراوٹ کے باوجود اس شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہی۔

Leave a comment