مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان بھارتی شیئر بازار مسلسل دوسرے روز بھی گراوٹ کے ساتھ کھلا

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث بھارتی شیئر بازار مسلسل دوسرے کاروباری سیشن میں بھی گراوٹ کے ساتھ کھلا۔ ابتدائی کاروبار میں سینسیکس اور نفٹی دونوں کمزور رہے جبکہ محدود تعداد میں آئی ٹی شیئرز نے ہی بڑھت درج کی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات بھارتی شیئر بازار پر بھی نمایاں ہوئے۔ منگل کو گھریلو ایکویٹی مارکیٹ مسلسل دوسرے کاروباری سیشن میں بھی گراوٹ کے ساتھ کھلی۔

عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث ابتدائی کاروبار کے دوران بی ایس ای سینسیکس اور این ایس ای نفٹی 50 دونوں اہم اشاریے منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ اور خطرے سے گریز کرنے کی سرمایہ کاروں کی حکمت عملی نے مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کی جانب رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث ایکویٹی مارکیٹوں پر دباؤ برقرار ہے۔

کاروبار کے آغاز پر بی ایس ای سینسیکس 344.06 پوائنٹس (0.44 فیصد) کی کمی کے ساتھ 77,272.34 پر کھلا۔ اسی طرح این ایس ای نفٹی 50 بھی 143 پوائنٹس (0.59 فیصد) گر کر 24,068.00 کی سطح پر پہنچ گیا۔ مسلسل دوسرے روز ابتدائی کمزوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار عالمی پیش رفت کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ تجارتی سیشنز میں بین الاقوامی خبریں اور عالمی منڈیوں کی سمت بھارتی مارکیٹ کی رفتار طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ توانائی کی فراہمی اور خام تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کا اثر بالخصوص ابھرتی ہوئی معیشتوں کی منڈیوں پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی اور معاشی لاگت دونوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے اثرات شیئر بازار کے رجحان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

ابتدائی کاروبار میں سینسیکس میں شامل 30 کمپنیوں میں سے صرف پانچ کمپنیوں کے شیئرز ہی بڑھت کے ساتھ کھلے، جبکہ باقی 25 کمپنیوں کے شیئرز گراوٹ کے ساتھ ٹریڈ ہوئے۔ نفٹی 50 میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا، جہاں صرف 11 شیئرز سبز نشان میں تھے جبکہ 39 شیئرز ابتدائی کاروبار میں کمزور رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروخت کا دباؤ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں تھا بلکہ بیشتر شعبوں میں سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔

کمزور مارکیٹ کے باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شعبے کے چند شیئرز نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ ابتدائی کاروبار میں ٹیک مہندرا تقریباً 0.96 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں بڑھنے والے شیئرز میں شامل رہا۔ انفوسس میں تقریباً 0.73 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اڈانی پورٹس تقریباً 0.59 فیصد چڑھا جبکہ ٹی سی ایس میں تقریباً 0.25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ این ٹی پی سی بھی معمولی اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ آئی ٹی شعبے میں محدود خریداری نے مجموعی مارکیٹ کی گراوٹ کے دوران کچھ توازن فراہم کیا۔

ابتدائی کاروبار میں ہوا بازی کا شعبہ سب سے زیادہ دباؤ میں رہا۔ انڈیگو کا شیئر تقریباً 2.49 فیصد گراوٹ کے ساتھ کھلا اور سینسیکس میں سب سے زیادہ کمزور کارکردگی دکھانے والے شیئرز میں شامل رہا۔ مسلسل دوسرے روز بھی اس شیئر میں ابتدائی فروخت دیکھی گئی۔

اس کے علاوہ ایشین پینٹس، مہندرا اینڈ مہندرا، بجاج فنانس، پاور گرڈ، سن فارما، ٹرینٹ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ایچ سی ایل ٹیک، الٹرا ٹیک سیمنٹ، لارسن اینڈ ٹوبرو (L&T)، کوٹک مہندرا بینک، بجاج فِن سرو، ہندوستان یونی لیور، ٹائٹن، ایکسس بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، ریلائنس انڈسٹریز، بھارتی ایئرٹیل، آئی ٹی سی، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI)، ٹاٹا اسٹیل، بھارت الیکٹرانکس (BEL) اور ماروتی سوزوکی کے شیئرز بھی ابتدائی کاروبار میں گراوٹ کے ساتھ ٹریڈ ہوئے۔ ان شیئرز میں ابتدائی فروخت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔

Leave a comment