ایران کی جانب سے جوہری دھماکے کی صورت میں شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری
تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی حکام نے ممکنہ جوہری دھماکے کی صورت میں شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ان ہدایات میں محفوظ عمارتوں میں پناہ لینے، کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنے اور تابکار گردوغبار سے بچنے پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، ان ہدایات کو امریکہ کی جانب سے ایران پر جوہری حملے کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) نے 29 اکتوبر 2026 کو اصفہان صوبے کی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے تیار کردہ ایک ویڈیو شائع کی۔ یہ ویڈیو ملک کے سالانہ سول ڈیفنس آگاہی پروگرام کا حصہ ہے۔ اس میں جوہری دھماکے کے دوران شدید روشنی، دھماکے کی لہر، شدید گرمی اور تابکار گردوغبار سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
اصفہان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے شعبہ تعلیم و تحقیق کے نائب سربراہ ابراہیم عادل زادہ نے مشورہ دیا ہے کہ شہری ایسی جگہوں پر پناہ لیں جہاں باہر کی ہوا اور گردوغبار کی آمد کم سے کم ہو۔ ان کے مطابق عمارت کا تہہ خانہ یا کسی مضبوط عمارت کا درمیانی کمرہ نسبتاً محفوظ ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسی جگہ جہاں کھڑکیاں کم ہوں اور بیرونی دیواروں سے فاصلہ ہو۔
رہنما ہدایات کے مطابق دھماکے کے بعد تابکار گردوغبار ہوا کے ساتھ دور تک پھیل سکتا ہے اور اسے سانس کے ذریعے جسم میں داخل کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے شہریوں کو دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے کے ساتھ ایسے ایئر کنڈیشنر اور وینٹی لیشن سسٹم بھی بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو باہر کی ہوا عمارت کے اندر لاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص دھماکے کے وقت کھلی جگہ پر موجود ہو تو اسے شدید روشنی کی جانب دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسے کسی مضبوط دیوار یا محفوظ رکاوٹ کے پیچھے جھک کر سر اور چہرے کو ڈھانپنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ابتدائی دھماکے کی لہر گزرنے کے بعد جلد از جلد کسی مضبوط عمارت میں داخل ہونا چاہیے۔ گاڑی کو محفوظ پناہ گاہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
ہدایات میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد کم از کم 24 گھنٹے تک محفوظ مقام پر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اس دوران بوتل بند پانی اور پہلے سے پیک شدہ خوراک استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی حکومتی ذرائع، ریڈیو اور سرکاری اطلاعات سے رہنمائی حاصل کیے بغیر خود سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔
اگر کپڑوں پر تابکار گردوغبار لگنے کا خدشہ ہو تو بیرونی کپڑے احتیاط سے اتار کر ایک بند تھیلی میں رکھ دینے چاہییں۔ اس کے بعد صابن اور پانی سے جسم اور بالوں کو دھونا چاہیے۔ آیوڈین کی گولیاں بھی ڈاکٹر یا متعلقہ طبی حکام کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنی چاہییں۔ یہ گولیاں مخصوص حالات میں تابکار آیوڈین سے تھائیرائڈ غدود کو تحفظ فراہم کر سکتی ہیں، لیکن ہر قسم کی تابکاری سے نہیں بچاتیں۔
دریں اثنا، امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے 2 نومبر کو دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے ایک زیرِ زمین جوہری مقام کو نشانہ بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ ممکنہ ہدف کے طور پر نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین کمپلیکس ’پکیکس ماؤنٹین‘ کا ذکر کیا گیا۔ تاہم، اس دعوے کے حق میں کوئی آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
امریکہ یا اسرائیل نے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ٹرمپ نے 16 اکتوبر کو ایک انٹرویو میں پکیکس ماؤنٹین پر ممکنہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا تھا، تاہم جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔
اس طرح ایران کی جانب سے شہریوں کے لیے جاری کردہ حفاظتی ہدایات کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے متعلق احتیاطی اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ہدایات بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں ہیں کہ امریکہ ایران پر جوہری حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔





