‘جَن نائگن’ سنسر تنازع: سپریم کورٹ کی مداخلت سے انکار، معاملہ مدراس ہائی کورٹ میں

‘جَن نائگن’ سنسر تنازع: سپریم کورٹ کی مداخلت سے انکار، معاملہ مدراس ہائی کورٹ میں

تمل اداکار تھلاپتی وجے کی فلم ‘جَن نائگن’ سے متعلق قانونی تنازع بدستور جاری ہے، جس کے باعث فلم کی ریلیز پر غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ اس معاملے میں اداکار اور فلم کے پروڈیوسرز کو ایک بار پھر قانونی طور پر جھٹکا لگا ہے۔

‘جَن نائگن’ کو وجے کے فلمی کیریئر کی آخری فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فلم کے بعد وہ مکمل طور پر سیاست میں سرگرم ہونے کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں۔ فی الحال وہ اداکاری اور سیاست دونوں میں متحرک ہیں، تاہم فلم کی سنسر سرٹیفکیشن سے متعلق تنازع نے ریلیز کے عمل کو متاثر کیا ہے۔

سنسر سرٹیفکیٹ نہ ملنے کے باعث فلم کی ریلیز ملتوی کر دی گئی تھی، جس کے بعد معاملہ مدراس ہائی کورٹ پہنچا۔ وہاں سے فوری ریلیف نہ ملنے پر وجے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ سے بھی انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس اے۔ جی۔ مسیح پر مشتمل بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 20 جنوری کو مدراس ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے درج ہے۔ بینچ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر سپریم کورٹ کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی اور ہائی کورٹ کو اسی دن اس معاملے پر فیصلہ سنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ عرضی فلم کو دیے گئے ‘اے’ (صرف بالغ ناظرین کے لیے) سرٹیفکیٹ کو چیلنج کرنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔ وجے اور فلم کے پروڈیوسرز نے کم پابندی والا سرٹیفکیٹ دینے کی درخواست کی تھی تاکہ فلم زیادہ ناظرین تک پہنچ سکے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب اس معاملے میں تمام نظریں 20 جنوری پر مرکوز ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے اسی دن دیا جانے والا فیصلہ فلم کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

‘جَن نائگن’ کو ایک سیاسی ڈراما کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور فلم کے مواد ہی کے باعث سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) کے ساتھ تنازع شروع ہوا۔ فلم کو پونگل کے موقع پر 9 جنوری کو ریلیز کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم مقررہ وقت پر سنسر سرٹیفکیٹ نہ ملنے کی وجہ سے آخری لمحے میں ریلیز مؤخر کر دی گئی۔

CBFC نے فلم کو ‘اے’ سرٹیفکیٹ دینے کے ساتھ اسے ریویو کمیٹی کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے فلم کے پروڈیوسرز نے مدراس ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سنگل جج نے CBFC کے اس خط کو منسوخ کر دیا تھا، جس میں فلم کو ریویو کمیٹی کے پاس بھیجنے کی بات کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایک بار سرٹیفکیٹ دینے کا فیصلہ ہو جانے کے بعد چیئرپرسن کو معاملہ ریویو کمیٹی کے سپرد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

بعد ازاں CBFC نے اس حکم کے خلاف ڈویژن بینچ میں اپیل دائر کی۔ CBFC کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اے آر ایل سندریسن اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوئے۔ ڈویژن بینچ نے کہا کہ CBFC کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا تھا، جس کے بعد سنگل جج کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا۔

Leave a comment