بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ 15 مئی 2026 کو اپنی 59ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ اداکاری، رقص اور مسکراہٹ کے لیے مشہور مادھوری کا فلمی سفر جتنا نمایاں رہا ہے، ان کی ابتدائی زندگی اور کیریئر کا موڑ بھی اتنا ہی دلچسپ سمجھا جاتا ہے۔
بھارتی سنیما میں انہیں ’ڈانسنگ کوئین‘ اور ’دھک دھک گرل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کا مقصد اداکاری نہیں بلکہ میڈیکل شعبے میں کیریئر بنانا تھا۔
مادھوری ڈکشٹ کی پیدائش 15 مئی 1967 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ بچپن سے ہی وہ تعلیم میں نمایاں تھیں اور رقص سے بھی گہری دلچسپی رکھتی تھیں۔ انہوں نے صرف تین سال کی عمر میں رقص سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ آٹھ سال کی عمر تک انہوں نے کتھک کی باقاعدہ تربیت حاصل کر لی تھی اور نو سال کی عمر میں انہیں کتھک رقاصہ کے طور پر اسکالرشپ بھی ملی تھی۔ ایک اسٹیج پرفارمنس کے بعد پہلی بار ان کا نام اخبار میں شائع ہوا، جس سے ان کی صلاحیت کو ابتدائی پہچان ملی۔
ابتدائی دور میں مادھوری اداکارہ نہیں بننا چاہتی تھیں۔ وہ سائنس کی طالبہ تھیں اور انہوں نے سائنس کے مضامین میں گریجویشن بھی کیا تھا۔ ان کا خواب پیتھالوجسٹ بننے کا تھا۔ میڈیکل سائنس میں گہری دلچسپی کی وجہ سے وہ اداکاری سے دور رہنا چاہتی تھیں، لیکن بعد میں ان کا رخ فلمی دنیا کی جانب ہو گیا۔
مادھوری کو پہلی بار فلم ’ابودھ‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں رہی، لیکن اس نے ان کے لیے فلم انڈسٹری کے دروازے کھول دیے۔ اس کے بعد ’تیزاب‘ اور ’رام لکھن‘ جیسی فلموں نے انہیں تیزی سے شہرت دلائی۔
1992 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بیٹا‘ کے گانے ’دھک دھک کرنے لگا‘ کو مادھوری کے کیریئر کا اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس گانے میں ان کے تاثرات، رقص اور اسکرین موجودگی نے انہیں وسیع شناخت دلائی۔ اسی گانے کے بعد انہیں ’دھک دھک گرل‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔ اس سے قبل 1988 میں فلم ’تیزاب‘ کے گانے ’ایک دو تین‘ نے بھی انہیں نمایاں شناخت دی تھی۔
1990 کی دہائی میں مادھوری بالی ووڈ کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔ انہوں نے ’پرندا‘، ’دل‘، ’خلنایک‘، ’ہم آپ کے ہیں کون..!‘، ’دل تو پاگل ہے‘، ’پکار‘، ’لجا‘ اور ’دیوداس‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔
ورک فرنٹ کی بات کریں تو مادھوری ڈکشٹ اس وقت اپنی نئی فلم ’ماں بہن‘ کے حوالے سے خبروں میں ہیں۔ اس فلم کو ڈارک کامیڈی ڈرامہ قرار دیا جا رہا ہے۔








