مہاراشٹر TET سوالیہ پرچہ لیک کیس میں 18 ملزمان کے خلاف 3,500 صفحات کی چارج شیٹ

مہاراشٹر TET سوالیہ پرچہ لیک کیس میں تھانے پولیس نے 18 ملزمان کے خلاف تقریباً 3,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے۔ تحقیقات میں آگرہ کے پرنٹنگ پریس سے بہار تک سوالیہ پرچوں کے پہنچنے اور چار سیٹ برآمد ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
مہاراشٹر TET سوالیہ پرچہ لیک کیس میں 18 ملزمان کے خلاف 3,500 صفحات کی چارج شیٹ
Photo Credit / Attribution: Google

مہاراشٹر ٹیچر اہلیتی امتحان (TET) کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے معاملے میں تھانے سٹی پولیس نے 18 ملزمان کے خلاف تقریباً 3,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں داخل کی ہے۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق مہاراشٹر TET کے خفیہ سوالیہ پرچوں کی طباعت کرنے والے آگرہ کے مہیم پیٹرن پرائیویٹ لمیٹڈ پرنٹنگ پریس سے ہی سوالیہ پرچے لیک ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔

مہاراشٹر TET کا امتحان 28 جون 2026 کو منعقد ہونا مجوزہ تھا۔ امتحان کی رازداری برقرار رکھنے کے لیے مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل نے آگرہ کے ہری پربت علاقے میں واقع مہیم پیٹرن پرائیویٹ لمیٹڈ کو سوالیہ پرچوں کی طباعت کی ذمہ داری سونپی تھی۔ تحقیقات کے مطابق 15 سے 17 جون کے درمیان پریس میں سوالیہ پرچوں کی طباعت کا کام جاری تھا۔ اسی دوران پریس کے کچھ ملازمین نے مبینہ طور پر سوالیہ پرچوں کو باہر لے جانے کا منصوبہ بنایا۔

چارج شیٹ کے مطابق طباعت کے دوران سیاہی ہلکی ہونے یا پرنٹنگ میں معمولی خرابی والے کچھ صفحات الگ کرکے ڈسپوزل باکس میں ڈال دیے جاتے تھے۔ ان خراب یا مسترد شدہ صفحات کا باقاعدہ حساب نہیں رکھا جاتا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ ملازمین نے اسی نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوالیہ پرچوں کے سیٹ حاصل کیے اور انہیں پریس سے باہر لے جانے کا طریقہ تلاش کیا۔

پولیس کے مطابق سوالیہ پرچوں کو چھوٹے سائز میں موڑ کر جوتوں کے انسول کے نیچے چھپایا گیا تھا۔ پریس سے باہر نکلتے وقت سکیورٹی گارڈز ملازمین کے کپڑوں اور دیگر سامان کی تلاشی لیتے تھے، لیکن جوتوں کے انسول کی جانچ نہیں کی جاتی تھی۔ الزام ہے کہ اسی سکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھا کر سوالیہ پرچے پریس سے باہر لے جائے گئے۔ رپورٹس کے مطابق دو ملازمین نے سوالیہ پرچے باہر نکالے، جبکہ ایک سابق ملازم کا کردار بھی معاملے میں سامنے آیا ہے۔

چارج شیٹ میں پولیس نے سوالیہ پرچہ لیک کرنے والے نیٹ ورک کے آگرہ سے بہار تک جڑے ہونے کی بات کہی ہے۔ پولیس کے مطابق پریس سے باہر نکالے گئے سوالیہ پرچے پہلے بہار میں سونو سنگھ تک پہنچے اور اس کے بعد مبینہ طور پر مرکزی ملزم بجیندر گپتا تک پہنچائے گئے۔ تحقیقات کے دوران بہار میں گپتا کے ایک رشتہ دار کے گھر سے اصل سوالیہ پرچہ برآمد ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ پولیس نے اس برآمدگی کو معاملے کی کڑی جوڑنے والے شواہد میں شامل کیا ہے۔

پولیس نے بجیندر گپتا کو اس نیٹ ورک کا مبینہ مرکزی ملزم بتایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گپتا پہلے ایک کوچنگ ادارے میں استاد رہ چکا ہے اور ایک دوسرے امتحانی پرچہ لیک معاملے میں بھی تحقیقات کے دوران اس کا نام سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ تاہم ان الزامات کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور سماعت کے بعد ہی ہوگا۔ پولیس نے گپتا سمیت 18 افراد کو ملزم بنایا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ دو ملزمان اب بھی مفرور بتائے جا رہے ہیں۔

اس معاملے میں پولیس نے صرف ملزمان کے بیانات پر انحصار کرنے کے بجائے مالی لین دین اور تکنیکی شواہد کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا ہے۔ چارج شیٹ میں سوالیہ پرچوں کی نقل و حرکت، ملزمان کے درمیان رابطوں اور رقم کے لین دین سے متعلق معلومات شامل کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملازمین کو ابتدا میں 8,000 روپے دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ سوالیہ پرچوں کو آگے فروخت کرکے ہونے والی آمدنی میں حصہ اور زمین خریدنے کے لیے رقم دینے کا لالچ بھی دیے جانے کا الزام ہے۔

رپورٹ کے مطابق پریس میں کام کرنے والے ملازمین کی ماہانہ آمدنی تقریباً 12,000 سے 15,000 روپے کے درمیان تھی۔ تحقیقات میں الزام ہے کہ سوالیہ پرچے چوری کرنے کے بدلے فوری طور پر ملنے والی رقم اور مستقبل میں زمین یا زیادہ آمدنی کے لالچ کو انہیں نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

مہاراشٹر TET کے سوالیہ پرچوں کی سکیورٹی کے لیے الگ الگ سیٹ تیار کیے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق دو سوالیہ پرچوں کے لیے مجموعی طور پر چار سیٹ تیار کیے گئے تھے، تاکہ امتحان کے دن مقررہ طریقہ کار کے تحت ان میں سے ایک سیٹ منتخب کیا جا سکے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ پرچہ لیک کرنے والوں نے ان تمام سیٹوں تک رسائی حاصل کرلی اور انہیں پریس سے باہر لے جانے میں کامیاب رہے۔

پرچہ لیک ہونے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد تھانے پولیس نے ملزمان تک پہنچنے کے لیے کارروائی شروع کی۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ امتحان کے سوالیہ پرچے فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے مبینہ خریدار بن کر کارروائی کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھیونڈی علاقے میں ڈیکوائے آپریشن کے دوران سوالیہ پرچوں کے چار سیٹ برآمد کیے گئے تھے۔ بعد میں مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل کے حکام سے ان کا موازنہ کرایا گیا اور انہیں اصل سوالیہ پرچوں سے متعلق بتایا گیا۔

تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ معاملے کی کڑیاں آگرہ سے بہار تک پہنچتی گئیں۔ آگرہ میں پرنٹنگ پریس کے ملازمین سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے بیانات کی بنیاد پر سوالیہ پرچوں کی مزید سپلائی چین کی تحقیقات کی گئیں۔ بہار میں سوالیہ پرچہ برآمد ہونے کے بعد پولیس نے اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کی بھی جانچ کی۔

اس معاملے میں پولیس نے آگرہ کے پرنٹنگ پریس سے وابستہ نریش کمار، بابولال کشواہ اور سابق ملازم سنجے شرما کو گرفتار کیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق پریس سے باہر نکالا گیا سوالیہ پرچہ بہار میں سونو سنگھ تک پہنچا اور وہاں سے مبینہ طور پر بجیندر گپتا تک گیا۔ پولیس نے اس پوری کڑی کو چارج شیٹ میں شامل کیا ہے۔ تاہم معاملے میں کس شخص کا کس سطح پر کیا براہ راست کردار تھا، اس کا حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالتی کارروائی میں ہوگا۔

تحقیقات کے دوران پولیس کو یہ شبہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان مزید ایک امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں مہاراشٹر کے اسٹیٹ ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (SET) کے سوالیہ پرچے کو بھی نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی ہے۔ یہ امتحان 27 ستمبر 2026 کو منعقد ہونا مجوزہ ہے۔ پولیس اس پہلو کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ملزمان کا منصوبہ کس مرحلے تک پہنچا تھا۔

تھانے پولیس کے افسران کے مطابق 18 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے باوجود تحقیقات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں۔ دو ملزمان اب بھی مفرور بتائے جا رہے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے مزید تحقیقات کی بنیاد پر ضمنی چارج شیٹ داخل کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے نئے شواہد، نئے ملزمان یا نیٹ ورک کی اضافی کڑیوں کو بعد کی کارروائی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں الزام ہے کہ سوالیہ پرچوں کی طباعت کے دوران مسترد شدہ صفحات کو ٹھکانے لگانے کے نظام اور ملازمین کی تلاشی میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھایا گیا۔ جوتوں کے انسول کی تلاشی نہ لینا بھی سوالیہ پرچے باہر لے جانے کے لیے استعمال کی گئی سکیورٹی خامی کے طور پر بتایا گیا ہے۔

تقریباً 3,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اب معاملے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی۔ چارج شیٹ میں درج الزامات، برآمد شدہ سوالیہ پرچے، مالی لین دین، تکنیکی شواہد اور ملزمان کے بیانات کی عدالت میں جانچ ہوگی۔ پولیس کی جانب سے ملزم بنائے گئے افراد کے خلاف الزامات فی الحال عدالتی جانچ کے تابع ہیں اور انہیں اس وقت تک قصوروار نہیں مانا جائے گا جب تک عدالت میں الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔ تحقیقاتی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس پرچہ لیک ہونے کی کڑی کو آگرہ کے پرنٹنگ پریس سے بہار اور وہاں سے سوالیہ پرچوں کی فروخت تک جوڑنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔

Leave a comment